عشق کے درپن میں جب دیکھا ۔تم تھے یارا – عارفہ مسعود عنبر

 

سمجھ نہیں پا رہے کیا لکھیں، کہاں سے الفاظ لائیں،اور کسے تعزیت پیش کریں۔ذوقی اور تبسم کا نور نظر کمسن ساشا کیا جانیں کہ کے اس کے والدین کے قلم کے گرویدہ ، ان سے بے پناہ محبت کرنے والے ، ان کی تحریروں میں اپنا عکس دیکھنے والے حلقہ احباب کا دائرہ کتنا وسیع ہے۔ان کی عظمتوں کے پرچم کہاں کہاں نہیں لہرا رہے ہیں ۔ان عظمتوں سے وہ لوگ بھی واقف ہیں جو اس پرچم تلے کھڑے تھے اور اور ذوقی اور تبسم کے رابطے میں تھے ان سے ملتے تھے۔ ملاقات کرتے تھے ۔بات کرتے تھے۔ لیکن ان کی عظمتوں کا گرویدہ ایک وہ حلقہ بھی ہے جو کہیں دور سے اس لہراتے ہوئے پرچم کو دیکھ رہا تھا ،اور ان کی تحریروں سے اثر اندوز ہو رہا تھا۔ جس روز سے ذوقی صاحب اور تبسم صاحبہ اس سرائے فانی کو الوداع کہ کر اپنے مالک حقیقی سے جا ملے ہیں ذہن کو پل بھر سکون نہیں۔ دل بے زار ہو کر بار بار ہم سے سوال کرتا ہے کہ دونوں کو کہیں تمہاری نظر تو نہیں لگ گئی عنبر ۔ جہان ادب کے جس میدان میں ذوقی اور تبسم صفحہ اول میں کھڑے نظر آتے ہیں ہم اسی کاروان ادب کی آخری صف میں بہت دور سے بڑی حسرت بھری نظروں سے ان عظمتوں کا طواف کرتے رہے تھے۔ اور اللہ رب العزت سے اپنے قلم کے لیے مزید صلاحیتوں، وسعت اور پختگی کی دعائیں کرتے رہے ہیں ۔ ۔ذوقی صاحب اردو ادب کی ایک قد آور شخصیت اور فکشن کا ایک ضروری نام ہیں جس نام کے بنا اس صدی کے فکشن کی تاریخ مکمل نہیں ہو سکتی ہے ۔مشرف عالم ذوقی پچھلی تین دہائیوں سے زائد عرصہ سے اردو فکشن کی ہر صنف پر لکھ رہے تھے اور ایسا لکھ رہے تھے کہ شاید ہی کوئ دوسرا اس انداز اور رفتار سے لکھ پاے۔ ذوقی موجودہ ہندستانی حالات اور ملک میں برق رفتاری سے بدلتے ہوئے رویوں کے تناظر میں نئ نسل کو آواز لگا رہے تھے وہ سوئ ہوئ قوم کو جگانا چاہتے تھے کہ نئ نسل کی سمجھ میں آ جائے کہ تم سے تمہارا سب کچھ چھیننے کی تیاری چل رہی ہے ۔ خدایا ہوش میں آ ؤ تمہاری تہذیب تمہارا سرمایہ ، اور تمہارا ملک سب کچھ آہستہ آہستہ تمہارے ہاتھوں سے پھسلتا جا رہا ہے ۔ ملک کو زعفرانی لبادے میں لپیٹ کر تمہارا سب کچھ اس میں ڈھک لینے کی سازشیں چل رہی ہیں ۔ذوقی ان سازشوں سے نسل کو آگاہ کرنے کی کوشش رہے تھے ۔ فکشن کے معاملے میں اگر انہیں آج کا پریم چند کہا جائے تو ہمارے خیال سے کوئ مبالغہ آرائ نہ ہوگی ۔تقریبا دو درجن فکشن کی کتابوں کے مصنف ذوقی کے ناولوں نے نہ صرف ملک میں بلکہ بیرونی ممالک میں بھی دھوم مچا دی اور تمام اردو دنیا ذوقی کے قلم کی گرویدہ ہو گئ ان میں اہم ناول ہیں” بیان ” "پوکی مین کی دنیا ” "مرگ انبوہ” "نالئہ شب گیر” "شہر چپ رہے "۔ "عقاب کی آنکھیں” "آتش رفتہ کا سراغ” "لے سانس بھی آہستہ” "اس کے علاوہ "نفرت کے دنوں میں” آپ کا افسانوی مجموعہ ہے ۔”گزرے ہیں کتنے لوگ” خاکوں اور دیگر مضامین کا مجموعہ ہے نیز کتاب "سلسلہ روز و شب ” میں وہ مضامین شامل کیے گئے ہیں جس میں آپ نے اردو ناول اور دیگر موضوعات پر اپنے نظریات بیان کئے ہیں۔”مرگ انبوہ” نے ذوقی کو اردو فکشن کی معراج عطاء کی اس ناول میں انہوں نے جرمنی کے باری ہولوکاسٹ ہندوستان کے پس منظر میں لکھ کر اہل ذوق کو حیرت میں ڈال دیا ۔ابھی حال ہی میں شائع ہوا ناول "مردہ خانے میں عورت” نے بھی شائع ہوتے ہی پزیرائی حاصل کرنی شروع کر دی تھی ناول پر تبصرے کی کئ وڈیوز ذوقی صاحب نے ہم سے شئیر کی تھیں جس کے سبب ناول کے مطالعہ کا اشتیاق بڑھ گیا تھا لیکن ابھی ناول دستیاب نہ ہو سکا تھا ۔ذوقی کی تحریریں جزبات سے لبریز حقیقت کی چاشنی میں ڈوبی ہوئی ہوتی ہیں ۔راقم التحریر بھی حد درجہ حساس طبع ہے یہی وجہ ہے کہ ذوقی کی تحریروں سے دل کی ویران بستی میں لفظوں کے بیج سے شگوفے پھوٹ کر ذہن کو شاداب کرتے ہیں ۔ محسوس ہوتا کہ آپ کا قلم تمام معاشرے کا حصار کرکے لفظوں سے کاغذ پر ایک دنیا سجا رہا ہے جس میں زندگی کا ہر رنگ موجود ہے ، "حبس نامہ” نہ صرف آپ کی آپ بیتی ہے بلکہ ایک عہد کی تاریخ اس میں سمٹ آئی ہے۔ ذوقی کی ہمت اور حوصلے کو سلام جہاں لوگ تنہایوں سے گھبرا کر یاسیات کے اندھیروں میں ڈوب جاتے ہیں وہیں ذوقی ان پر حکومت کرتے ہیں اور وقت کے بادشاہ بن جاتے ۔”میں اور میری تنہایاں” میں آپ لکھتے ہیں
"میں تنہا ہوتا ہوں اور اپنی دنیا کا سکندر اعظم بن جاتا ہوں جو بس اس خیال سے پیدا ہوا ہے کہ ساری دنیا کو فتح کرنا ہے ۔” آپ کی اسی حوصلے نے آپ کو فکشن کہ دنیا کا حکمراں بنا دیا ۔
” تبسم اور میرا سچ "میں تبسم سے پہلی ملاقات اور ان سے محبت کا قصہ یوں سنایا کہ اس محبت پر زمانہ رشک کرے ذوقی کہتے ہیں ” عشق ابھی بھی آواز دیتا ہے تو تبسم مسکراتی ہوئی میری آنکھوں میں اتر جاتی ہے ” آگے لکھتے ہیں ۔
"میں نے سوچا تھا تبسم کو لیکر ایک ناول لکھوں گا ۔یہ قرض ابھی باقی ہے مگر یہ بھی سوچتا ہوں کہ ناول کا قرض ادا کرنا مشکل ہے ۔تبسم پر ناول لکھنا آسان نہیں جب زندگی مجھ پر اپنے راستے تنگ کر دیتی ہے ،تاریکی مسلط ہو جاتی ہے تو ایسے میں تبسم کسی جادوگر کی طرح اپنی طلسمی پوٹلی سے رات کی جگہ دن کے چراغ نکال لیتی ہے ”
تبسم اور ذوقی ایک دوسرے سے بے پناہ محبت کرتے تھے تبسم ہر دکھ۔ درد ہر خوشی غم کے احساس میں نہ صرف ذوقی کے ساتھ تھیں بلکہ ادب کے میدان میں بھی ذوقی کے شانہ بہ شانہ کھڑی نظر آتیں ۔تبسم فاطمہ کو اللہ رب العزت نے منفرد صلاحیتوں سے نوازا تھا بہ یک وقت وہ ایک مضمون نگار، افسانہ نگار ،صحافی ، مترجم اور شاعرہ تھیں ۔اردو میں آپ کی کئ کتابیں شائع ہوکر منظر عام پر آ چکی ہیں ۔”لیکن جزیرہ نہیں” "ستاروں کی آخری منزل” "سیاہ لباس” میں پناہ کی ‘تلاش کرتی ہوں” ذرا اور چلنے کی حسرت رہی ہے ” ہمارے خیال کی آخری دھوپ ” جرم کے نام سے ہندی میں افسانوی مجموعہ اردو سے ہندی میں 20 سے زیادہ کتابوں کا ترجمہ کیا ایک طویل عرصے سے اردو کہانیوں کا ہندی ترجمہ اور ہندی کا اردو ترجمہ کر رہی تھی ،تبسم فاطمہ ایک ہمہ جہت شخصیت کی مالک تھیں حالاتِ حاضرہ پر جس سچائی،ایمانداری اور بے باک انداز میں آپ کا قلم چلتا خواتین قلم کاروں میں اس کی نظیر نہیں ملتی ۔ آپ کی تحریریں ہمیں بھی سچ اور حق لکھنے کی تحریک عطاء کرتیں رہی ہیں ، آپ نظم بھی بہت عمدہ کہتی تھیں ۔آپ کی نظمیں دل پر اثر کرتی ہیں ۔ 24 مارچ ذوقی کے سالگرہ کا موقع تھا اور تبسم نے ذوقی کے لیے بہت خوبصورت نظم کہی تھی

بیتے دن کو پھر سے نکالا
اس میں رکھا روئ کا گالا
ایک بنایا نور کا ہالہ
موسمِ گل سے آنکھ بنائ
دل کی کلی سے ہونٹ تراشے
باد صبا سے خوشبو لیکر
ساون رت کو ناز سے پالا
خواب بدن سے خواہش لیکر
ایک نئے چہرے کو تراشا
عشق کے درپن میں جب دیکھا
تم تھے یارا
نور میں جل تھل ایک تم تھے
عشق میں جل تھل ایک میں تھی
میری دعا کا چہرہ تم تھے
تیری دعا کی چٹھی میں تھی
وصل کی رُت تھی
نور میں ڈھل کر
ایک رب تم تھے
ایک شب میں تھی
محبت کے اس حسیں شاہکار کو پڑھ کر معلوم نہیں دل کن احساسات سے دو چار ہوا کہ دل کی گہرائیوں سے دست دعا گو ہوے کہ اللہ کریم یہ محبت ہمیشہ قائم رکھے ، اللہ رب العزت ہر ذوقی کو تبسم اور ہر تبسم کو ذوقی جیسا شریک حیات عطاء فرمانا ۔دونوں ہمیشہ دو جسم ایک روح رہیں کون جانتا تھا کہ اللہ رب العزت اس وقت ہماری دعا سن رہا ہے کہ تبسم کے جسم میں بھی ذوقی کی ہی روح ہے ذوقی کی روح کے ساتھ تبسم کے جسم کو بھی فنا ہو جانا ہے ۔ذوقی کہا کرتے تھے "ہماری محبت بڑی عجیب ہے تبسم میرے بنا 24 گھنٹے بھی نہیں رہ سکتیں” ۔ ذوقی اور تبسم محبت کی ایسی مثال پیدا کریں گے کہ اردو ادب کی تاریخ میں اس سے پہلے کسی نے پیش نہ کی ہوگی 19 اپریل کو ذوقی اسے سرائے فانی کو الوداع کہ گے اور 20 اپریل کو تبسم بھی ان کے ہمراہ ہو لیں اللہ دونوں کو کروٹ کروٹ سکون عطاء فرمائے ۔۔۔۔