اثبات کا لاجواب عالمی نثری ادب کا انتخاب ـ شکیل رشید

 

کتابی سلسلے ’اثبات‘ کے ’عالمی نثری ادب‘ کے تین جِلدی انتخاب کو دیکھ کر مجھے سمندر یاد آ گیا۔

یہ نثری انتخاب ایک سمندر جیسا ہی بےکنار اور اتھاہ ہے۔تقریباً۱۵ سو صفحات پر پھیلے اس انتخاب میں، دنیا بھرکے ادب کو سمویاگیاہے ، ایشیا سے لے کر یوروپ ،امریکہ اور فریقہ تک کے ادب کو۔بلا شک و شبہ ادب نوازوں کے لیے،یہ ضخیم انتخاب، کسی خزانے سے کم نہیں ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اردو دنیا میں اب اتنے ادب نواز رہ گئے ہیںکہ وہ اس ضخیم انتخاب کو حاصل کریں اور پڑھیں گے؟ اس سوال کے جواب پر غور کرتے ہوئے کچھ افسوس سا ہوتا ہے ۔مجھے وہ دن خوب یاد ہیں جب ممبئی میں، بڑے ابا اور والد صاحب کی چھوٹی سی ،اردو کتابوں،رسالوں اور اخباروں کی دکان پر کبھی کبھی میں بیٹھتا تھا اورلوگوں کو کتابیں،رسالے اور اخبارات خرید کر لے جاتے دیکھتا تھا، اس دور میں ممبئی سے صبح اور شام کے کئی اردو اخبارات شائع ہوتے تھے اور خوب پڑھے جاتے تھے ۔وہ دکان اب نہیں رہی ہے ۔اور یقیناًنہ ہی وہ پہلے سے پڑھنے والے رہے ہیں ۔اردو کتابوں کی دکانوں پر اب خریدار کم اور بحث و مباحثہ کرنے والے زیادہ آتے ہیں ۔اب ہم پڑھنے سے زیادہ باتیں کرنے کے عادی ہو گئے ہیں ،اور یہ وہ صورتحال ہے جس نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کیا ہے کہ ، اس اعلیٰ نثری انتخاب کو ،کتنے لوگ پڑھ سکیں گے؟ اور کیا اشعر نجمی کو اس انتخاب پر اپنی محنت کا ،کوئی پھل ملے گا ،اس کی اشاعت پر لگا سرمایہ ،کیا واپس ہو گا؟لیکن پھر یہ سوچ کر قدرے حوصلہ ہوتاہے کہ اشعر نجمی نے اسے اگر شائع کیا ہے تو انہیں یقین ہوگا اوریقین نہیں تو امید ہوگی کہ محنت رنگ لائے گی اور لوگ اس انتخاب کو حاصل کریں گے۔اللہ کرے ایسا ہی ہو۔

تینوں جلدوں پر بات کرنے سے پہلے ان کے اداریوں پر بات کر لی جائے تاکہ اس انتخاب کی نوعیت اور اس کی ضرورت کا کچھ اندازہ ہوسکے ۔جلد نمبر ایک میں اشعر نجمی نے اپنے اداریے کا عنوان ’’ترجمے کی شرحیات‘‘ رکھا ہے اور جیسا کہ عنوان سے ظاہر ہے ، اس میں تراجم کی تعبیر اور تشریح پر بات کی گئی ہے۔اداریہ اکیڈمک نوعیت کاہے ،اسکے باوجود ،مدیر ’ اثبات‘ عام قارئین تک اپنی یہ بات پہنچانے میں کامیاب رہے ہیں کہ ’’ معنی صرف زبان تک اور متن تک مربوط نہیں ہوتا بلکہ اس میں مصنف اور قاری کا بھی اشتراک شامل ہوتا ہے۔‘‘ ۔متن سے مراد ،ہر طرح کا متن ہے ،ترجمہ بھی ۔ آسان زبان میں اس کا یہ مطلب ہوا کہ متن کی موزوں تعبیر اور تشریح میں، مصنف اور قاری کا کردار اہم ہے ۔ یہ وہ نظریہ ہے جس پررائے کا اختلاف ہے ،لیکن ہم تو قاری ہیں ،ہمیں اختلافِ رائے کو نظر انداز کردینا اور یہ سوچ کر خوش ہونا چاہیے کہ ،ہمیںاتنی اہمیت دی جا رہی ہے کہ ،کسی متن کی تعبیر اور تشریح کے لیے ،ہماری شمولیت کو اہم بلکہ اہم ترین بنا دیا گیا ہے۔انتخاب کی دوسری جلد میںاشعر نجمی نے اپنے اداریے ’’ ترجمے کی ریل گاڑی اور نوبل ٹرمنس ‘‘ میں ایک ایسے اہم موضوع کو چھیڑا ہے ،جس پر عام طور پر غور نہیں کیا جاتا ، جبکہ اس پر غور و فکر ضروری ہے۔ اشعر نجمی نے ۸۰۰ زبانوں والے ہندوستان کی جھولی میں صرف ایک نوبل پرائز کا سبب ’’ ترجمے سے مجرمانہ حد تک لا تعلقی ‘‘ کو قرار دیا ہے ۔وہ دنیا بھر میں ۱۰۰ ملین اردوزبان والوں کی ،ادب سے دوری اور مذہبی لٹریچر سے زیادہ رشتے کو ، نہ کہ کسی ’ ایجنڈے ‘ ’ لابنگ ‘ یا کسی ’سازش ‘ کو ، اردو کو نوبل پرائز نہ ملنے کا اہم سبب مانتےہیں ۔ اور اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اپنی زبان ، اپنے ادب ، اپنے جغرافیے ، اپنی ثقافت اور اپنی تخلیقی سرگرمیوں کو دوسری ثقافتوں اور دوسری زبانوں کے ساتھ ساجھا کرنا چاہیے ،ایسا نہ کرنا ظلم ہے ۔ ساجھا کرنے کا سیدھا طریقہ اپنے ادبِ عالیہ اور اپنے عصری ادب کو دوسروں سے شیئر کرنا ، دوسروں تک پہنچانا ہے ۔ اور یہ کام ترجمے سے ممکن ہے ، اس سے یہ ہوگا کہ دنیا ہماری تخلیقات کی خوشبو سے متعارف ہو گی اور زندہ رہے گی ۔ ان کے اپنے لفظوں میں ’’ جس کا حال زندہ رہتا ہے اس کا ماضی بھی زندہ ہوتا ہے ورنہ اس کی جگہ میوزیم اور آثارِ قدیمہ کی لائبریریوں میں مقرر ہو جاتی ہے ۔ ‘‘ اشعر ترجمے کے ’ آدان پردان‘ کے ذریعے روشن خیالی لانے اور تنگ نظری کو ختم کرنے ، اور لسانی عصبیت کے دائرے کو ، توڑنے کے خواہاں ہیں ،اور کوشاں بھی ۔یہ تین جِلدی انتخاب ان مقاصد کے حصول کی ایک کوشش ہے ۔ وہ لکھتے ہیں: ’’ اس انتخاب میں ہماری کوشش یہ رہی ہے کہ فکشن کے حوالے سے ان ممالک کی ( جو اس انتخاب میں شامل ہیں) معاشرتی زندگی ، ان میں انسانی تعلقات کی نوعیت ، قدیم و جدید کے تصادم و اقدار کی ٹوٹ پھوٹ کی جامع تصویر بھی قارئین کو دکھائی جائے۔‘‘ انتخاب کی تیسری جِلد میں اشعر نجمی کا اپنا اداریہ نہیں ہے ،اس کی جگہ امریکہ کی ماریا ٹائموز کو کا مہمان اداریہ ’’ مابعد نوآبادیاتی تحریریں اور ترجمہ ‘‘ ہے ۔۷۶ سالہ ماریا تقابلی ادب کی اسکالر ہیں اور ترجمے پر ان کا بڑا کام ہے ۔یہ مہمان اداریہ دراصل ایک طویل مضمون ہے ،جس میں مابعد نوآبادیاتی اور اقلیتی ثقافت کے ادب ،اور نوآبادیاتی تسلط کے شکار یا ظلم زدہ لوگوں کے درمیان سے برآمد ہونے والی تحریروں اور تراجم پر بحث کی گئی ہے ،لیکن یہ بحث برائے بحث والا معاملہ نہیں ہے ،بلکہ اس مضمون کو پڑھ کر یہ احساس ہوتا ہے کہ نوآبادیاتی ترجموں ،مترجموں اور مصنفوں کے مسائل اور انہیں درپیش مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے مصنفہ یہ چاہتی ہیں کہ تراجم ، زیادہ سے زیادہ عالمی اور کثیرثقافتی تناظر میں ہوں۔ یہ طویل مضمون صبر کے ساتھ پڑھنے کا تقاضہ کرتا ہے ،اس کا فرحت احساس نے محنت سے ترجمہ کیا ہے ۔ اس انتخاب کےسب ہی تراجم شاندار ہیں ،کچھ تراجم تو بہت ہی اعلیٰ ہیں ۔ جلد اول میں مشرقی ایشیا اور جنوبی ایشیا کا ادب شامل ہے ،یعنی چین ،جاپان ،کوریا ،منگولیا ،ہندوستان،پاکستان ،نیپال، بنگلہ دیش ،سری لنکا اور افغانستان کی کہانیاں۔ اس جِلد کے مترجمین میں ظ انصاری ، عابد سیال،مسعود اشعر ، حیدر جعفری ، خالد جاوید ، عبدالسمیع،الطاف فاطمہ ،سلام بن رزاق ،ارجمند آراء ، محمد حمید شاہد اور جینت پرمار جیسے نام شامل ہیں۔دیگر مترجمین بھی اہم ہیں لیکن چونکہ ناموں کی فہرست طویل ہے اس لیے تمام مترجمین کے نام لکھنا ممکن نہیں ہے ۔دوسری جلد میں جنوب مشرقی ایشیا ، مغربی ایشیا ، وسط ایشیا ،مشرقی یورپ ،مغربی یورپ اور شمالی یورپ کی ،بڑے اور اہم ادیبوں کی ،کہانیاں شامل ہیں ، ان کہانیوں کے مترجمین بھی اہم ہیں ،مستنصر حسین تارڑ ،نیر مسعود ، محمد عمر میمن ،نجم الدین احمد، ستار طاہر ،شاہد احمد دہلوی اور سعادت حسین منٹووغیرہ۔ تیسری جِلد جنوبی یورپ ، ریاست ہائے متحدہ امریکہ ،شمالی امریکہ ،جنوبی امریکہ ، مغربی افریقہ ، مشرقی افریقہ ، شمالی افریقہ ،جنوبی افریقہ ،وسطی افریقہ اور آسٹریلیاکے ادب پر مشتمل ہے ، اس جِلد میں ہیمنگوئے ، البرٹو موراویہ ، ولیم ٹین ، مارگریٹ ایٹ ووڈ ،مارکیز، ماریو ورگاس یوسا ، چینوااچیبے اور نجیب محفوظ ودیگر بڑے ادیبوں کی تخلیقات کے تراجم ہیں ،اور ان کے مترجمین میں محمد سلیم الرحمٰن ،اجمل کمال، زینت حسام ،سید کاشف رضا، صغیر ملال ، غلام عباس ، حسنین عاقب اور خورشید اقبال و دیگر باکمال ادیبوں کے نام شامل ہیں ۔ یہ تمام نام اپنے آپ میں خود ترجموں کے معتبر ہونے کے ضامن ہیں ۔جیسا کہ میں نے پہلی سطر میں کہا ہے یہ انتخاب ایک سمندر کی طرح ہے ،بے کنار اور اتھاہ ،اس کا مطالعہ وقت تو لے گا ،مگر اس سمندر میں ایک بار جس نے غوطہ مارلیا ،وہ موتی لے کر ہی ابھرے گا۔ یہ انتخاب ’اثبات پبلی کیشنز ‘( موبائل نمبر : 8169002417)سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔