اس سال سادی عید منائیں-مسعود جاوید

لاک ڈاؤن میں نرمی اور ٣ مئی کو متوقع طور پر کھول دینے کی خبر سے بہت زیادہ خوش فہمی میں مبتلا ہونا جسمانی ذہنی اور معاشی مصائب کو دعوت دینا ہے۔

امریکہ جیسے میڈیکل سائنس میں دنیا کا سب سے زیادہ ترقی یافتہ اور تمام وسائل سے آراستہ ملک جس کی آبادی ہندوستان کی آبادی کے ایک چوتھائی سے بھی کم ہے وہاں کورونا وائرس سے ایک دن میں ٢٥٠٠ موتیں ہو رہی ہیں جہاں اس عالمی وباسے ساڑھے نو لاکھ متاثر ہیں کیا یہ تاثر دیتا ہے کہ ہندوستان میں اس وبا سے متاثرین کی تعداد محض ٢٦٥٠٠ ہو سکتی ہے۔ اللہ کرے ایسا ہی ہو ۔ مگر تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس تعداد کی وجہ ٹیسٹ کی سہولیات کا نہیں ہونا ہے۔ وجہ خواہ جو بھی ہو نیوز ونگ کے مطابق انڈین کونسل برائے میڈیکل ریسرچ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کورونا وائرس ستمبر کے مہینے میں سب سے زیادہ ستم ڈھاۓ گا۔ کارپورییٹس نے بھی کہا ہے ہندوستانی معیشت کو دوبارہ پٹری پر آنے میں کم از کم نو ماہ کا عرصہ لگے گا۔ ادھر ورلڈ بینک نے بھی ٨ جنوبی ایشیائی ممالک بشمول ہندوستان میں بڑی تباہی کے متوقع خطرات کے بارے میں آگاہ کیا ہے۔ بالفاظ دیگر لاک ڈاؤن اٹھانا وبا ختم ہونے کا اعلان نہیں ہے۔ ضروری اشیا اور سروسز کی دکانوں کو کھولنے کی اجازت دینے کو رمضان کا تحفہ نہیں سمجھا جائے۔ حکومت اگر عام آدمی کے لئے اتنی فکر مند ہے تو سب سے پہلے علاج معالجہ کے مراکز پرائیویٹ ہاسپیٹل اور نرسنگ ہوم میں بلا تفریق مذہب و ذات مریضوں کے چیک اپ اور علاج یقینی بنائے۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ حکومت کو صنعت کاروں اور تاجروں کے مفاد کے لیے زیادہ فکر ہے۔ جب کارخانے بند ہوئے اور ان کے ملازمین بالخصوص یومیہ مزدور بے یار و مددگار سڑک پر آ گئے اس وقت حکومت نے ان کی روزی روٹی کے بارے میں کیوں نہیں سوچا؟

آپ مسلمان ہیں اور اس ماہ مبارک میں روزے رکھ رہے ہیں یعنی جو زندگی کے لئے سب سے زیادہ ضروری کھانا پینا ہے اسے روزانہ پندرہ گھنٹے کے لئے چھوڑ دیتے ہیں ۔ رمضان المبارک کا مہینہ سال میں ایک بار آتا ہے اس متبرک مہینہ میں ہر مسلمان پابندی سے یومیہ پانچ وقت نماز ادا کرنے والا ہو یا ہفتہ واری جمعہ کے جمعہ نماز ادا کرنے والا اس مہینے میں سب کے سب پنچ وقتہ نماز، تراویح اور تلاوت قرآن کریم سے مسجدوں کی رونق بنتے تھے لیکن حالات کے تقاضے کے تحت مساجد کے دروازے بند کۓ گۓ اور آپ نے اپنے دلوں پر جبر کر کے مسجدوں میں جانا چھوڑ دیا تو کیا عید کے دن خوشیاں منانے کے لیے ایک غیر ضروری رسم اور شوق – نۓ کپڑے جوتے اور چپل پر بڑی بڑی رقم خرچ کرنا – چھوڑ نہیں سکتے؟ اس وقت پوری دنیا خاص طور پر ہندوستان کی معیشت بری طرح چرمرا گئی ہے لوگوں کے پاس یا تو روپے پیسے یا قوت خرید نہیں ہوگی یا ضروری اشیاء تھوڑے دنوں کے بعد بازار سے غائب ہونے لگے گی اور اگر مہیا بھی ہوئی تو آپ کی پسماندہ رقم نو مہینے تک ساتھ نہیں دے گی۔۔۔۔ اس آنے والے ، لا سمح اللہ ، برے دنوں کے لئے اگر ابھی سے تیاری نہیں کریں گے پلاننگ نہیں کریں گے تو ذرا تصور کریں کہ کن مصائب کا سامنا ہوگا؟ یومیہ مزدور اور سماج کے ادنی درجے کی بات چھوڑیں بڑے بڑے سفید پوش متوسط درجہ کے لوگ عزت نفس اور ہاتھ پھیلانے کی کشمکش میں زندگی گزارنے پر مجبور ہوں گے۔ اس لئے وقت کی اہم ترین ضرورت ہے کہ ہم سب صرف ضروری اشیاء خوردونوش اور دوا بہت کفایت شعاری کے ساتھ خریدیں اور دعا کرتے رہیں کہ اللہ جلد از جلد اس عالمی وباء کے ابتلاء سے ہمیں نجات دے۔
اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے قرآن کریم میں صراحت سے فرمایا ہے أن المبذرىن كانوا اخوان الشياطين. بہت زیادہ فضول خرچی کرنے والے شیاطین کے بھائی ہیں
Verily the extravagant are brethren of devils.
اس میں دو رائے نہیں کہ مسلمان ایک جذباتی قوم ہے شادی بیاہ کا فنکشن ہو یا عید کا جشن اپنی اوقات سے بڑھ کر خرچ کرتا ہے خواہ اسے قرض ہی لینا پڑے۔ پچھلی عید کے موقع پر گویل جی کے کپڑے/سوٹ کی دکان پر تھا ایک خاتون آئیں ایک سوٹ پسند کیا اس کے بعد انہوں نے انکوائری شروع کی کہ کیا اس طرح کا اور بھی کوئی سوٹ آپ نے میرے محلے کی کسی خاتون سے فروخت کیا ہے؟ سیلس مین معاملہ سمجھ گیا پھر بھی پوچھا کیوں؟ خاتون نے کہا ” میں ‘ون پیس’ لباس زیب تن کرنا چاہتی ہوں ایسا جو محلے میں صرف میرے پاس ہو۔ سیلس مین نے کہا اطمینان رکھیں یہ سوٹ اکیلا ہی ہے اس ڈیزائن میں اور کسی بھی کلر میں کوئی سوٹ ہمارے پاس نہیں آیا ہے تو ظاہر ہے ہم نے آپ کے محلہ کیا پورے شہر میں کسی کو نہیں دیا اس لئے بے جھجھک آپ لیں یہ ڈیزائینر چوائس ہے یقینی طور پر منفرد نظر آئیں گی۔خواتین خاص طور پر مسلم خواتین کی نفسیات سے سیلس مین بخوبی واقف ہوتے ہیں اور منمانی قیمت وصول کرتے ہیں۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*