اس ناپاک گٹھ جوڑ کا ذمہ دار کون ہے؟ ـ ایم ودود ساجد

پچھلے مضمون میں مہاراشٹر پولیس کے گرفتار شدہ اسسٹنٹ پولیس انسپکٹر سچن وازے کے بارے میں تفصیل سے بتایا گیا تھا۔ بی جے پی اپنے حریف اور مہاراشٹر کے وزیر اعلی اودھو ٹھاکرے پر سچن وازے کی سرپرستی کرنے کا الزام عاید کر رہی ہے۔ اس قضیہ سے ایک بار پھر یہ واضح ہوگیا ہے کہ سیاستدانوں اور بدعنوان افسروں کا ناپاک گٹھ جوڑ کتنا مضبوط ہے۔
پچھلے مضمون میں خواجہ یونس کے قضیہ پر بھی روشنی ڈالی گئی تھی۔ 2001 میں ممبئی کی سی آئی ڈی نے خواجہ یونس کی پولیس حراست میں ہونے والی ’موت‘ کا ذمہ دارسچن وازے کو ہی قرار دیا تھا۔ سات سال کی لیت ولعل اور ممبئی ہائی کورٹ کی سخت ہدایت کے بعد حکومت کو سچن وازے کو معطل کرنا پڑا تھا۔ لیکن 17سال بعد پھر اسے بحال کردیا گیا تھا۔
خواجہ یونس کا پورا قضیہ جن لوگوں کو یاد نہ ہو وہ میرا پچھلا مضمون ” اب دنیا کو خیر باد کہنے کا وقت آرہا ہے۔” میرے پروفائل پر جاکر پڑھ سکتے ہیں۔
آئیے ذرا سمجھتے ہیں کہ سیاستداں کس طرح بدعنوان پولیس افسروں کی پشت پناہی کرتے ہیں۔2001 میں جب خواجہ یونس کا واقعہ ہوا تو اس وقت مہاراشٹر میں کانگریس کی حکومت تھی اور ولاس راؤ دیشمکھ وزیر اعلی تھے۔لیکن انہوں نے سچن وازے کو CID کی تفتیش میں قصور وار پائے جانے کے باوجود معطل نہیں کیا۔ جب 2004 میں ممبئی ہائی کورٹ نے وازے اور اس کے ساتھی پولیس والوں کو معطل کرنے کا حکم دیا تو اس وقت بھی کانگریس کی حکومت تھی اور سشیل کمار شندے وزیر اعلی تھے۔حکومت نے اس کے ساتھی پولیس والوں کو تو معطل کیا لیکن وازے کو نہیں کیا۔
سچن وازے کو ہائی کورٹ کی سخت ہدایت کے بعد بحالت مجبوری 2007 میں معطل کیا گیا۔اس وقت بھی کانگریس کی حکومت تھی اور وزیر اعلی ولاس راؤ دیشمکھ تھے۔حالانکہ عدالت نے خواجہ یونس کے ساتھ گھاٹ کوپر بم دھماکہ کے الزام میں گرفتار تمام ملزمین کو بری کردیا لیکن ولاس راؤ دیشمکھ نے معطل شدہ سچن وازے کے خلاف ہائی کورٹ کے حکم کے باوجود تادیبی تفتیش نہیں کرائی۔سچن وازے گرفتار ہوا‘جیل بھی گیا لیکن اسے ضمانت مل گئی۔
وازے نے پولیس کی نوکری سے استعفی دے کر شیو سینا میں شمولیت اختیار کرلی اور پھر اسے شیو سینا کا ترجمان بنادیا گیا۔ لیکن جولائی 2020 میں اودھوٹھاکرے کی حکومت نے وازے کی معطلی ختم کرکے اسے پھر بحال کردیا۔اس بار اسے انتہائی اہم محکمہ سی آئی یو کا انچارج بنادیا گیا۔اس وقت مہاراشٹر کے وزیر داخلہ انل دیشمکھ ہیں جن کا تعلق شرد پوار کی این سی پی سے ہے۔
2019 میں سپریم کورٹ کی ایک بنچ نے جس کی سربراہی جسٹس آر ایس نریمن کر رہے تھے حکم جاری کیا کہ عوامی نمائندوں کا مجرمانہ ریکارڈ پارلیمنٹ اور اسمبلیوں کی ویب سائٹ پر اپلوڈ کیا جائے۔ اس سے معلوم ہوا کہ 2019 میں پارلیمنٹ پہنچنے والے 44 فیصد ممبران کے خلاف مجرمانہ مقدمات قائم ہیں۔ یعنی پارلیمنٹ میں اس وقت 44 فیصد ممبران مجرمانہ پس منظر رکھنے والے ہیں۔ مرکزی وزیر مملکت برائے خزانہ انوراگ ٹھاکر کے خلاف 13مجرمانہ مقدمات درج ہیں۔ یہ وہی ہیں جنہوں نے سی اے اے کے خلاف مظاہروں کے دوران اور دہلی کے الیکشن کے وقت ’غداروں‘ کو گولی مارنے کا نعرہ لگایاتھا۔ اسی طرح اشونی کمار چوبے کے خلاف 17 اور دلیپ گھوش کے خلاف 14مقدمے ہیں۔دلیپ گھوش اس وقت مغربی بنگال بی جے پی کے صدر بھی ہیں۔
تو ہم نے جانا کہ اس وقت پارلیمنٹ کے 539 منتخب ممبران میں سے 233 ممبران مجرمانہ ریکارڈ والے ہیں۔ان میں سے 43 ممبران پارلیمنٹ بی جے پی کے ہیں۔ ادھر یوپی میں بی جے پی کے 37 فیصد ممبران اسمبلی پر بھی مجرمانہ مقدمات درج ہیں۔ 2020 میں اومکار کھانڈیکر نے ایک تفصیلی مضمون لکھا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے سیاستدانوں کو فروغ دینے کے معاملہ میں بی جے پی اور کانگریس دونوں برابر ذمہ دار ہیں۔
آئیے اب مہاراشٹر میں انکاؤنٹر کی ماضی قریب کی تاریخ کا ہلکا ساجائزہ لیتے ہیں۔چھ پولیس والے انکاؤنٹر کے لیے مشہور ہوئے ہیں۔ان کے انکاؤنٹروں کی تعداد پر نظر ڈالئے:
روندر ناتھ انگرے نے 54 انکاؤنٹر کئے۔اس کے بعد وہ انکاؤنٹر اسپیشلسٹ کے طورپر مشہور ہوگیا تھا۔نومبر 2018 میں اس نے بی جے پی میں شمولیت اختیار کرلی۔
وجے سالاسکر نے 61‘ سچن وازے نے 63‘ پرفل بھوسالے نے 77‘ دیا نایک نے 83‘ اور انسپکٹر پردیپ شرما نے 312 انکاؤنٹر کئے۔اس کے علاوہ گجرات‘پنجاب‘راجستھان اور یوپی میں بھی خوب انکاؤنٹر ہوئےـ
گجرات میں صادق جمال‘عشرت جہاں‘ سہراب الدین شیخ اور تلسی رام پرجاپتی کے انکاؤنٹر بہت مشہور ہوئے۔ان کے ذمہ دار پولیس والے گرفتار بھی ہوئے‘ان پر مقدمے بھی چلے لیکن حکومت نے ان سب کے ساتھ حسن سلوک کیا اور وہ آج سکون کی زندگی جی رہے ہیں۔
یوپی میں یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت کے آنے کے بعد تو انکاؤنٹر میں تیزی آگئی۔ محض 2017 سے 2019 کے دوران انکاؤنٹر کے 5178 واقعات ہوئے جن میں پولیس کے مطابق 103مجرمانہ کردار کے لوگ مارے گئے اور 1859 زخمی ہوئے۔یوپی میں وزیر اعلی نے انکاؤنٹر کرنے والوں کو خوب ترغیب دی۔ اس کے بعد سپریم کورٹ کو وارننگ دینی پڑی۔
پچھلے دنوں سپریم کورٹ کی ایک بنچ نے جس کی سربراہی جسٹس ایس کے کول کر رہے تھے’ حراستی اموات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے پورے ملک کے تمام تھانوں‘چوکیوں اورانٹلی جینس ایجنسیوں کے تمام دفاتر میں یہاں تک کہ ان تک جانے والی گلی کوچوں میں بھی سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے کا حکم دیا۔لیکن مرکزی حکومت اور بعض ریاستی حکومتوں نے اس پر سرد مہری ظاہر کی۔سپریم کورٹ نے اس پر سخت ناگواری ظاہر کی اور اگلے چار مہینوں کے اندر اندر اس حکم پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کا حکم دیا ہے۔
اندازہ یہ ہوا کہ مجرمانہ ذہنیت کے پولیس افسروں کو سیاسی آقاؤں کی مکمل پشت پناہی حاصل ہوتی ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ خود سیاستداں یہ ہمت اور یہ طاقت کہاں سے لاتے ہیں۔اس کا جواب ان اعداد و شمار میں پوشیدہ ہے کہ اس وقت ہماری پارلیمنٹ میں 44 فیصد ممبران مجرمانہ ریکارڈ والے ہیں اور جن کے خلاف مقدمات چل رہے ہیں۔
ان میں سے ایک انوراگ ٹھاکر ہیں جو وزیر مملکت برائے خزانہ ہیں۔ ان کے خلاف 13مقدمات درج ہیں۔ دوسرے وزیر اشونی چوبے ہیں جن کے خلاف 17مقدمات درج ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ جیت کر کیسے آجاتے ہیں؟ آخر یہ 233 ‘مجرم’ ممبران پارلیمنٹ کامیاب کیسے ہوئے؟ کیا اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ خود 44 فیصد ووٹرس بھی اسی ذہنیت کے ہیں یا اسی ذہنیت کے نمائندوں کو پسند کرتے ہیں؟ مسلمانوں کی سیاست کرنے والے گروہ اگر اس سمت میں لوگوں کو بیدار کرنے کا کام کریں تو شاید اس کا فائدہ زیادہ ہوگا۔