کیا اسپرم ڈونیشن (Sperm Donation) کے ذریعے اولاد کا حصول جائز ہے؟ ـ ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

 

سوال:
نکاح کے بعد ہر جوڑے کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کے یہاں اولاد ہو ۔ اگر شوہر سے اولاد نہیں ہو سکتی تو کیا اس صورت میں اسپرم ڈونر کے ذریعے اولاد کی پیدائش کروائی جا سکتی ہے؟

جواب:
نکاح کا ایک مقصد نسلِ انسانی کا تسلسل ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے آدم اور اس کے جوڑے کی تخلیق کی اور اس سے بے شمار مرد اور عورت دنیا میں پھیلا دیے ۔ (النساء :1) رشتۂ نکاح میں جڑنے کے بعد ہر جوڑے کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کے یہاں اولاد ہو ، تاکہ اس کی آنکھوں کو ٹھنڈک اور دل کو سرور حاصل ہو ۔ (الفرقان : 74) لیکن اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ وہ کسی جوڑے کو اولاد سے نوازتا ہے ، کسی کو صرف لڑکے دیتا ہے ، کسی کو صرف لڑکیاں ، کسی کو لڑکے اور لڑکیاں دونوں اور کسی کو بانجھ بنا کر اولاد سے محروم رکھتا ہے ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا مظہر ہے ۔ قرآن مجید میں ہے :
لِّلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ یخْلُقُ مَا یشَاءُ یهَبُ لِمَن یشَاءُ إِنَاثًا وَیهَبُ لِمَن یشَاءُ الذُّكُوۡرَ ۔ أَوْ یزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَإِنَاثًا وَیجْعَلُ مَن یشَاءُ عَقِیمًا إِنَّهُ عَلِیمٌ قَدِیرٌ (الشوریٰ: 49 ـ 50)
’’اللہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی کا مالک ہے ۔ جو کچھ چاہتا ہے ، پیدا کرتا ہے ۔ جسے چاہتا ہے لڑکیاں دیتا ہے ، جسے چاہتا ہے لڑکے دیتا ہے ، جسے چاہتا ہے لڑکے اور لڑکیاں ملا جلا کر دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے بانجھ کر دیتا ہے ۔ وہ سب کچھ جانتا اور ہر چیز پر قادر ہے ۔ ‘‘

بانجھ پن کے اسباب مرد اور عورت دونوں میں ہو سکتے ہیں ۔ مثال کے طور پر :
مرد میں خصیے [جہاں مادۂ تولید(نطفہ/ sperm) بنتا ہے] بے کار ہوں ، اس وجہ سے اسپرم کی پیدائش نہ ہو رہی ہو ۔
اسپرم میں حیواناتِ منویہ (spermatazoas) کا تناسب کم ہو ۔
اسپرم کو خصیوں سے عضوِ تناسل تک لانے والی رگیں مسدود ہوگئی ہوں ۔
قوتِ مردمی میں کمی کی وجہ سے مرد مباشرت پر قادر نہ ہو ۔
عورت کے خصیۃ الرحم (ovary) میں کسی نقص کے سبب اس سے بیضہ (ovum) کا اخراج ممکن نہ ہو ۔
قاذفین(falloplian tubes) ، جن کے ذریعے بیضہ خصیۃ الرحم سے رحم (uterus) میں منتقل ہوتا ہے ، پیدائشی طور پر موجود نہ ہوں ، یا مسدود ہوگئے ہوں ۔
عورت پیدائشی طور پر رحم سے محروم ہو ، یا کسی مرض کے سبب اس میں بار آور بیضہ (fertilized ovum) کا استقرار ممکن نہ ہو ۔

اگر نکاح کے بعد کچھ عرصہ تک عورت میں استقرارِ حمل نہ ہو تو ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے اور شوہر اور بیوی دونوں کو ضروری ٹیسٹ کروالینے چاہییں ، کیوں کہ نقص کسی میں بھی ہو سکتا ہے ۔ بسا اوقات یہ نقص بہت معمولی ہوتا ہے اور علاج معالجہ کے ذریعے بہ آسانی اس کا ازالہ ہو سکتا ہے ۔

اگر زوجین کے ازدواجی تعلق کے باوجود کسی سبب سے فطری طریقے پر اولاد کا حصول ممکن نہ ہوسکے تو مغرب میں اس کے لیے دیگر مصنوعی طریقے رائج ہیں ۔ مثال کے طور پر :
اگر مرد میں اسپرم تو بن رہا ہے ، لیکن اسے خصیوں سے عضو تناسل تک لانے والی رگیں مسدود ہو گئی ہیں ، تو مرد کا اسپرم اور عورت کا بیضہ حاصل کرکے اسے بیرونی طور پر کسی ٹیسٹ ٹیوب میں بار آور کیا جاتا ہے ۔ پھر ایک متعینہ مدت کے بعد اس بار آور بیضہ کو عورت کے رحم میں منتقل کر دیا جاتا ہے ۔ اسے (in-vitro fertilization IVF) کہا جاتا ہے ۔
اگر عورت میں بیضہ تو بن رہا ہے ، لیکن اس کے رحم میں کسی نقص کی بنا پر استقرار نہیں ہو پا رہا ہے تو کسی دوسری عورت کے رحم کو کرایے پر لے لیا جاتا ہے اور شوہر کے نطفے اور بیوی کے بیضہ کو بار آور کرکے اس میں منتقل کر دیا جاتا ہے _ دوسری عورت بچہ جنتی ہے ، جسے متعین رقم ادا کرکے بچہ حاصل کر لیا جاتا ہے ۔ اسے surrogacy کہا جاتا ہے ۔
اگر شوہر میں اسپرم نہ بن رہے ہوں ، یا اس میں حیواناتِ منویہ کا تناسب کم ہو تو کسی عطیہ دہندہ (donor) کے ذریعے اسپرم حاصل کیا جاتا ہے اور اس کے ذریعے عورت میں استقرارِ حمل کیا جاتا ہے ۔ اسے عطیۂ نطفہ (sperm donation)کہا جاتا ہے ۔ مغرب میں بڑے بڑے اسپرم بینک وجود میں آگئے ہیں ، جہاں افراد اپنے اسپرم جمع کروادیتے ہیں اور وہ خواتین جو ہم جنسیت میں مبتلا ہیں(lesbians) ، یا جن کا نکاح نہ ہوا ہو اور وہ ماں بننا چاہتی ہیں (single parent) ، یاجن کے شوہر کسی وجہ سے تولیدی صلاحیت سے محروم ہیں ، وہاں سے اسپرم حاصل کرکے اپنے اندر مصنوعی تلقیح (Artificial Insemination)کرواتی ہیں اور استقرارِ حمل کے بعد متعینہ ایام گزرنے پر بچے جنتی ہیں ۔

اسلامی نقطۂ نظر سے نسلِ انسانی کے تسلسل کا واحد جائز ذریعہ نکاح ہے ۔ نکاح کے بغیر مرد اور عورت کا جنسی تعلق حرام ہے ۔ اسی طرح شوہر کے علاوہ کسی دوسرے مرد کے نطفے سے عورت کے بیضے کی مصنوعی تلقیح بھی حرام ہے ۔ اللہ کے رسول ﷺ کا ارشاد ہے :
لَا یَحِلُّ لِامْرِیٍٔ یُؤْمِنُ بِاللَّہِ والْیَوْمِ الْآخِرِ أَنْ یَسْقِیَ مَاؤُہٗ زَرْعَ غَیْرِہِ.(ابو داؤد : 2158)
’’کسی شخص کے لیے ، جو اللہ اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو ، جائز نہیں ہے کہ اپنے پانی (مادۂ تولید) سے کسی دوسرے کے کھیت (یعنی غیر عورت) کو سیراب کرے ۔ ‘‘

اس بنا پر اسلام ضروری قرار دیتا ہے کہ جس مرد کے نطفے اور جس عورت کے بیضے سے جنین کی تخلیق ہو وہ لازماً رشتۂ ازدواج میں بندھے ہوئے ہوں ۔ اس کے نزدیک نہ شوہر کے نطفے سے کسی اجنبی عورت کے بیضے کی بارآوری جائز ہے ، نہ بیوی کے بیضے کو کسی اجنبی مرد کے نطفے سے بارآور کیا جا سکتا ہے ۔ البتہ اگر شوہر کا نطفہ صحت مند اور کارگر ہو اور بیوی کا بیضہ بھی ، البتہ کسی وجہ سے ان کے درمیان فطری طور پر جنسی تعلق قائم نہ ہو پا رہا ہو تو دونوں کو ٹیسٹ ٹیوب میں بارآور کرکے بیوی کے رحم میں منتقل کیا جا سکتا ہے ۔

اگر بیوی صحت مند ہو ، لیکن شوہر کے اندر تولید کی اہلیت نہ ہو اور اس سے اولاد کا حصول ممکن نہ ہو تو بیوی کو اس سے علیٰحدگی اختیار کرنے کا حق حاصل ہے ۔ البتہ اگر زوجین آپس میں گہرا جذباتی رشتہ رکھتے ہوں اور شوہر کی اس کم زوری کے باوجود وہ اس سے الگ نہ ہونا چاہتی ہو تو وہ کسی رشتے دار یا یتیم بچے کو اپنی پرورش میں لے کر روحانی مسرتیں حاصل کر سکتے ہیں ـ(یاد رہے کہ اس بچے سے ان کا ماں باپ اور اولاد کا رشتہ قائم نہ ہوگا) ۔

[ بشکریہ : ماہ نامہ زندگی نو نئی دہلی ، ماہ ستمبر 2021 ]

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*