اِس ہندو جوڑے کی داستان سنیے-ایم ودود ساجد

آج شام 3.45 پر گجرات ہائی کورٹ کے چیف جسٹس وکرم ناتھ کی سربراہی والی ڈویزن بنچ کے سامنے ایک عجیب وغریب مقدمہ پیش ہوا۔ عام طور پر میاں بیوی کے جھگڑے کا مقدمہ فیملی کورٹس’ جوڈیشیل مجسٹریٹ اور زیادہ سے زیادہ ایڈیشنل سیشن جج کے سامنے ہی فیصل ہوجاتا ہے۔ لیکن یہ مقدمہ ایسا ہے کہ جو بیک وقت بہت ساری عدالتوں میں لڑا جارہا ہے۔ اِس وقت بھی جب ہائی کورٹ میں اس کی سماعت ہورہی تھی یہ مقدمہ سپریم کورٹ میں بھی لگا ہوا ہے۔ اور یہ طلاق کا مقدمہ نہیں ہے۔یہ محض باہمی جھگڑے کا مقدمہ ہے۔باپ اپنی معصوم بیٹیوں سے ملنا چاہتا ہے اور ماں ملنے دینا نہیں چاہتی۔ 15 منٹ کی سماعت کے دوران اس مقدمہ کے بڑے عجیب وغریب حقائق سامنے آئے۔

قانونی پوزیشن یہ ہے کہ باہم متصادم میاں بیوی کی بیٹی جب تک شعور کی عمر کو نہ پہنچ جائے باپ اس سے وقفہ وقفہ کے ساتھ کچھ دیر کیلئے مل سکتا ہے۔ لیکن بالغ ہونے تک وہ رہے گی اپنی ماں کے ہی پاس۔اس کا نان نفقہ شوہر کے ہی ذمہ رہے گا۔

زیر نظر مقدمہ میں ایک نکتہ یہ سامنے آیا کہ شوہر کی طرف سے کوئی ہائی پروفائل وکیل نہیں بلکہ خود شوہر ہی عدالت کے سامنے بحث کیلئے پیش ہوتا ہے۔ لہذا آج بھی یہی ہوا۔ بیوی کی طرف سے جو خاتون وکیل پیش ہوئی وہ بہت قابل تھی لیکن مقدمہ میں جان ڈالنے کیلئے وہ دوران بحث کچھ جذباتی بھی ہوئی۔ اس نے بتایا کہ شوہر نے کس درجہ پریشان کر رکھا ہے۔عدالت کے حکم کے مطابق بیٹیوں سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ بات کرتا ہے مگر عدالت میں اگلی شنوائی پر مُکر جاتا ہے۔

اسی طرح نہ بیوی کا خرچہ دیتا ہے اور نہ بیٹیوں کا۔دھمکیاں دیتا ہے۔ ذہنی طور پر ٹارچر کرتا ہے۔ ایک سے زائد اضلاع میں مقدمے دائر کرتا ہے۔ ہر عدالت کے فیصلہ کے بعد اس سے بڑی عدالت میں اس فیصلہ کے خلاف اپیل دائر کردیتا ہے۔ یہاں تک کہ اس وقت جب گجرات ہائی کورٹ میں بحث ہورہی ہے تو سپریم کورٹ میں بھی اس نے فیملی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف مقدمہ دائر کر رکھا ہے۔

فطری طور پر چیف جسٹس کو پریشان حال بیوی کی حالت پر رحم آتا ہے۔ وہ اپنا مشاہدہ پیش کرتے ہیں: "ایسا لگتا ہے کہ مسٹر مشرا کسی نفسیاتی بیماری کا شکار ہوگئے ہیں اور انہیں مقدموں پر مقدمے قائم کرنے کی عادت ہوگئی ہے۔ یہاں تک کہ اگر فیصلہ ان کے حق میں آجاتا ہے تو وہ اس کے خلاف بھی ایک مقدمہ قائم کردیتے ہیں۔”

چیف جسٹس نے شوہر سے پوچھا کہ کیا مصالحت کی گنجائش ہے۔ آپ بیوی کو ساتھ رکھنا چاہتے ہیں؟ شوہر نے کہا کہ "مائی لارڈ’ باوجود اس کے کہ میری بیوی نے دفعہ 498 اے کے تحت میرے خلاف مقدمہ قائم کرکے مجھے جیل بھجوایا تھا میں نے اپنی بیوی کو 100 سے زیادہ میسیج کئے کہ Please come back (واپس آجاؤ) لیکن وہ نہیں آئی۔ میں آج بھی مصالحت کیلئے تیار ہوں بشرطیکہ وِپُل چودھری ہمارے بیچ سے ہٹ جائے ۔چیف جسٹس نے بیوی کی وکیل سے پوچھا کہ مصالحت کی گنجائش ہے؟ اس نے کہا کہ بالکل نہیں ۔ عدالت نے فیصلہ محفوظ رکھ لیا۔

اس مقدمہ میں اتنے پیچیدہ نکتے ہیں کہ بہت آسان کرکے سمجھانا بھی آسان نہیں ہے۔یہ وِپُل چودھری کون ہے۔؟ شوہر نے جو کچھ عدالت میں بتایا اس سے اندازہ ہوگیا کہ یہی فساد کی جڑ ہے۔ بیوی اس کے کہنے پر شوہر کو پریشان کرتی ہے۔لہذا شوہر نے اس کے خلاف بھی مقدمہ قائم کر رکھا ہے۔اب بیوی اسی وقت شوہر کا پیچھا چھوڑے گی جب وہ وپل کا پیچھا چھوڑ دے گا۔

شوہر نے عدالت کو بتایا کہ جس مکان میں اس کی بیوی’ بچے اور ساس سسر رہتے ہیں وہ ایک کروڑ کی مالیت کا ہے اور وہ مکان اسی کی (شوہر کی) ملکیت ہے۔بیوی اب تک اس کے بنک اکاونٹ سے 14 لاکھ روپے نکال چکی ہے۔ اور بھی بہت کچھ اس کے قبضہ میں ہے۔

شوہر بہت پڑھا لکھا ہے۔ بڑا امیر کبیر انسان ہے۔غیر ملکی یونیورسٹیوں سے ڈگریاں لئے ہوئے ہے۔ ایک بہت بڑی کمپنی کا مالک ہے۔اس نے عدالت کو بتایا کہ ملک کے وزیر خزانہ اور وزیر داخلہ پدم شری ایوارڈ کیلئے اس کے نام کی سفارش کرچکے ہیں۔ اس نے دعوی کیا کہ میری متصادم بیوی مجھے بدنام کرنا چاہتی ہے۔

اس 15 منٹ کی سماعت کے دوران ہندوستان کے لاکھوں بے بس ہندو جوڑوں کی ممکنہ داستان کرب میری آنکھوں میں گھوم گئی ۔یہ تو پیسے والے اور اثر رسوخ والے جوڑوں کا حال ہے۔اور ان کا حال ہے جو موجودہ حکومت کے اتنے قریب ہیں کہ انہیں حکومت پدم شری دلوانا چاہتی ہے۔وہ متصادم جوڑے جن کے پاس ڈھیروں مقدمے لڑنے کیلئے وسائل ہی نہیں ہیں وہ کیا کریں گے۔ ان کا کیا حال ہوگا۔ وہ آسانی سے نہ ایک دوسرے سے الگ ہوسکتے ہیں اور نہ ایک دوسرے کے ساتھ رہ سکتے ہیں ۔

میں دیر تک سوچتا رہا کہ بی جے پی والوں کو چند مسلمان عورتیں مل جاتی ہیں جنہیں لے کر وہ پورے ملک میں گھومتے ہیں اور پورے مسلم معاشرہ کو بدنام کرتے ہیں۔ ایسی مہم چلاتے ہیں کہ جیسے کہ ہر دوسرا مسلمان بس طلاقِ ثلاثہ دینے کو تیار بیٹھا ہے۔جیسے کہ طلاق دینا کوئی بڑے عمدہ شوق اور بہت فائدے کی بات ہو۔ آخر طلاقِ ثلاثہ کے حامیوں اور مسلمانوں کے قائدین کو چند ایسی ہندو عورتیں کیوں نہیں ملتیں جو اپنے شوہروں سے چھٹکارا چاہتی ہیں لیکن بے بس ہیں ۔ وہ طلاق لے نہیں سکتیں ۔ شوہر طلاق دے نہیں سکتے۔ دونوں ساتھ رہ نہیں سکتے۔ آخر خون کے آنسو رُلانے والی ایسی زندگی سے کیا فائدہ؟

کیا خطرناک اور نوکیلی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ایسے ہندو جوڑوں کے حق میں سیاسی جواب کے طور پر ہی سہی،مہم چلانا مسلمانوں،ان کے علما اور قائدین کی ذمے داری نہیں ہے؟