اس فتنے کو پنپنے نہ دیاجائے ـ شکیل رشید

(ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز)
وارانسی کی قدیم اور مشہور زمانہ ’گیان واپی مسجد‘ کو ہٹائے جانے کی ایک عرضی پر ایک مقامی عدالت میں شنوائی ہورہی ہے جس نے مرکزی حکومت، یوپی کی ریاستی حکومت اور مسجد کے ذمے داران سمیت کاشی وشواناتھ مندر کے ذمے داران کو نوٹس جاری کر کھا۔ اس سے قبل فروری کے مہینے میں متھرا کی شاہی عیدگاہ مسجد کے ذمے داران کو ایک مقامی عدالت نے نوٹس دے کر یہ دریافت کیا تھا کہ ’بھگوان کرشن کے جنم استھان‘ کے پاس سے شاہی عید گاہ مسجد کو ہٹانے کی جو عرضی دی گئی ہے اس پر آپ لوگوں کا کیا کہنا ہے۔ دونوں عدالتوں کو چاہیے تھا کہ ان عرضیوں کو قبول ہی نہ کرتی۔ عرضی گزاروں سے یہ کہہ دیاجاتا کہ جب پارلیمنٹ نے ’مذہبی مقامات ایکٹ ۱۹۹۱‘ کو منظور کرکے یہ کہہ دیا ہے کہ آزادی کے بعد جس عبادت گاہ کی جو حیثیت رہی ہے وہ برقرار رہے گی، تو اس طرح کی عرضیاں بے معنیٰ ہوجاتی ہیں۔ لیکن یہ عرضیاں قبول کرلی گئیں اور ایودھیا کی بابری مسجد کی شہادت کے بعد شرپسندوں اور فرقہ پرستوں کو ایک نیا فتنہ ہاتھ آگیا۔ بابری مسجد اور رام جنم بھومی کے نام پر جو تحریکیں چلیں ملک پر ان کے اثرات کا اب صحیح معنوں میں ادراک ہورہا ہے۔ نسل کی نسل فرقہ پرستی اور عصبیت کے مرض میں مبتلا ہوچکی ہے۔ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان، بھلے ہی سب ہندو اور سب مسلمان اس میں شامل نہ ہوں ، ایک ناقابل عبور خلیج حائل ہوچکی ہے۔ ایودھیا کے تنازعے نے ملک پرسے جمہوریت پسندوں کی پکڑ کمزور ہی نہیں کی تقریباً ختم کردی ہے اور اب ملک پر وہ عناصر قابض ہیں جو جمہوری قدروں کو کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں اور کھلے عام جمہوریت کو ختم کرکے بھارت کو ہندو راشٹر میں تبدیل کردینے کی باتیں کرتے ہیں۔ ایودھیا تنازعہ نے ملک کی شکل بگاڑ کر رکھ دی ہے، اور صرف سیاست دان اور سرکاری افسران ہی نہیں عدلیہ کا بھی بڑا ہی شرمناک چہرہ سامنے آیا ہے۔ ملک کے سابق چیف جسٹس گوگوئی بابری مسجد کی زمین پر رام مندر کےلیے سونپ کر راجیہ سبھا پہنچ گئے ہیں۔ اب وارانسی کی گیان واپی مسجد اور متھرا کی شاہی عید گاہ مسجد کو ہٹانے کی عرضیاں ملک کی فضا میں نئے سرے سے زہر گھول رہی ہیں۔ جس طرح سے ایودھیا تحریک کے دوران حالات بدترین ہوگئے تھے اور ملک کی مسلم اقلیت خوف ودہشت کی شکار ہوگئی تھی، ویسی ہی صورتحال دوبارہ پیدا ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ وارانسی کی گیان واپی مسجد مغل شہنشاہ اورنگ زیب عالمگیر کے دور کی ہے، الزام ہے کہ اسے کاشی وشواناتھ مندر توڑ کر بنوایاگیا تھا ۔ حالانکہ اس تعلق سے پختہ ثبوت کسی کے پاس نہیں ہیں۔ متھرا کی شاہی عیدگاہ اور مسجد کے بارے میں کہاجاتا ہے کہ یہ کرشن جنم استھان کا حصہ ہے اس لیے مسجد کو ہٹادیاجائے اور اس جگہ کو کرشن جنم استھان میں شامل کرلیاجائے۔ یہ دونوں ہی مسجد یں قدیم ترین مسجدوں میں سے ہیں، یہاں مسلمان برسہا برس سے نمازیں پڑھتے آئے ہیں اور باقاعدہ ان مسجدوں سے اذانیں ہوتی ہیں۔ ان مسجدوں کو نشانہ بنانے کا مقصد ظاہر ہے کہ مسلم اقلیت کو یہ باور کرانا ہے کہ نہ وہ محفوظ ہیں اور نہ ہی ان کی عبادت گاہیں۔ یہ ایک طرح کا فتنہ ہے جو اب خطرناک رخ اختیار کرتا جارہا ہے۔ وارانسی کے معاملے میں ،اسی طرح سے شیوا، گوری اور گنیش ان دیوی دیوتائوں کی طرف سےعرضیاں گزاری گئی ہیں جیسے کہ ایودھیا معاملے میں رام للا کی طرف سے۔یقیناً متھرا میں بھگوان کرشن کو فریق بنایاجائے گا۔ یہ لوگوں کے مذہبی جذبات کو برانگیختہ کرنے کی ایک کوشش ہے، عدالتوں کو چاہیےکہ وہ ایسی عرضیوں کو فوراً ہی رد کریں تاکہ فتنہ اپنی موت آپ مرجائے۔ سپریم کورٹ میں ’مذہبی مقامات ایکٹ ۱۹۹۱ء‘ کے تعلق سے بھی سنوائی ہورہی ہے ، ایک فریق چاہتا ہے کہ آزادی کے بعد مذہبی مقامات جس حالت میں تھے ویسے ہی رکھنے سے ان کی پوجا کے حق کی خلاف ورزی ہوتی ہے اس لیے ا س ایکٹ کو ہٹایاجائے، اور دوسرا فریق یہ کہتا ہے کہ اگر یہ ایکٹ ہٹایاگیا تو جس کا جب جی چاہے گا وہ کسی عبادت گاہ پر مقدمہ ٹھونک دے گا اور اس طرح روزانہ ہی ایک نیا بکھیرا اُٹھ کھڑاہوگا۔ سپریم کورٹ سے امید ہے کہ وہ ملک کے حالات کو دیکھتے ہوئے اور امن وشانتی کو مقدم رکھتے ہوئے مذکورہ ایکٹ کو برقرار رکھے گی۔ اس طرح ملک فتنوں سے بچا رہے گا۔