20 C
نئی دہلی
Image default
تراجم

ایران کوکوسنابند کریں! (اداریہ دکن کرانیکل)

 

ترجمانی : محمد علم اللہ 

ایران کا دہلی کے فرقہ وارانہ فسادات کو”ہندوستانی مسلمانوں کے خلاف منظم تشدد” قراردینا یہ واضح پیغام دیتا ہے کہ دارالحکومت میں چار روزہ تباہی کی چیخ کو ہماری سرحدوں سے باہر بھی سنا گیا ۔ ایرانی وزیر خارجہ کے ٹویٹ نے ہندوستان کو یہ یاد دلادیا کہ ایران صدیوں سے اس کا دوست رہا ہے ، ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ یہ مبینہ تشدد مغربی ایشین ملک کے ساتھ تہذیبی تعلقات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔یہ ان تمام ہندوستانیوں کے لیے بھی ایک طرح کی یاد دہانی ہےجو سارے ہی لوگوں کے لیے خیر و عافیت کے متمنی ہیں ۔ اسطرح کے چبھتے جملوں سے محاذ آرائی کے رویے نیز برادریوں کے درمیان خانہ جنگی جیسی صورتحال کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔

 

فسادات کے نتیجے میں پیدہ شدہ تشویشات اور ہندوستان کی سب سے بڑی اقلیتی برادری کی حفاظت کے بارے میں خدشات کی لہر بین الاقوامی طور پر اقوام متحد ہ سے لیکر دور و نزدیک امریکہ، انڈونیشیا اوراس سے بھی آگے تک محسوس کی گئی ۔ شمال مشرقی دہلی میں آگ کے شعلوں کو بھڑکانے میں مجرمین نے جو کردار ادا کیا وہ انھیں اچھا لگ سکتا ہے لیکن انھیں اس بات کا اندازہ نہیں ہے کہ ایسے پرتشدد رویے سے کتنےدوررس اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔بحیثیت قوم ،صرف اس حقیقت کا ادراک ہی اس بات کا احساس دلا سکتی ہے کہ فرقہ وارانہ کشیدگی ایک ایسے معاشرے میں جہاں مختلف مذاہب کے لوگ سیکولر اور تکثیریت پسند جمہوریت میں یقین رکھتے ہیں امن و ہم آہنگی کو زک پہنچا نے کا سبب بن سکتی ہے، اس نقصان کی بھر پائی بھڑکانے والوں کو سزا دیکر ہی ہو سکتی ہے ، اس بابت شیعہ اکثریتی ایران مبارک باد کی مستحق ہے کہ اس نے سچ بولتے ہویے ہندوستان کو آئینہ دکھانے کی کوشش کی ۔

 

دہلی کے فسادات جس نے فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات کو جنم دیا اور جو دہائیوں سے نہیں دیکھا گیا تھا کا حل صرف غیر جانبدارانہ تحقیقات میں مضمر ہے ۔ اس تاثر کو محض اسی صورت زائل کیا جا سکتا ہے جب اشتعال انگیزیوں کو ترجیحی بنیاد پر ختم کیے جانے کے اقدامات کیے جائیں گے ۔

 

اگر اشتعال انگیز تقاریر کرنے والے افراد کو ایسے ہی کھلے سانڈ کی طرح چھوڑ دیا گیا تواکثریت پسندی کے رجحان کو پنپنے میں دیر نہیں لگے گی۔ جب راجدھانی جل رہی تھی تو دہلی پولیس محض تماش بیں کی حیثیت سے کردار ادا کرتی نظر آئی اس کی بھی تحقیق ہونی چاہیے۔ معاملہ کی تہہ تک پہنچنے کے لیے عدالت کی نگرانی میں ایس آئی ٹی ایک اہم فریق کی حیثیت سے کام کر سکتی ہے ۔ جس سے فسادیوں کے سزا کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ہندوستان کے ماتھے پر رقم اس کلنک کوصرف مجرمین کو کیفر کردار تک پہنچا کرہی مٹایا جا سکتا ہے ۔

 

تبصرہ :

(ایران کے محض ایک ٹویٹ پر کل پورے ہندمیں اتھل پتھل دیکھی گئی ، ٹویٹر پر جہاں مجازی جنگ جاری رہی وہیں وزارت خارجہ کے ترجمان،رویش کمار صفائیاں دیتے نظر آئے، جبکہ مین اسٹریم میڈیا میں بھی یہ خبر چھائی رہی ، کل کے تقریبا سارے ہی چینل کی یہ خبر سرخی رہی اور آج بھی تقریبا سارے ہی مرکزی دھارے کے اخبارات نے کچھ نہ کچھ لکھا ہے، اندازہ لگائیں صرف ایک مسلم ملک کے تبصرے سےاتنا کچھ ہو سکتا ہے تو اگر سارے مسلم ممالک کسی معاملے پر ایکا کر لیں تو کتنا فرق پڑے گا۔)

متعلقہ خبریں

Leave a Comment