ایران اور سعودی: مشرقِ وسطی کی سیاست ایک نازک موڑ پر-احمد حسین

جواہرلال نہرو یونیورسٹی،  نئی دہلی

میں نے کئی میڈیا کو یہ خبر نشر کرتے ہوئے سنا کہ امریکہ کے وزیر خارجہ کے سعودی دورہ کے دوران سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے ایک میٹنگ میں شرکت کی جس میں اسرئیل کے نمائندہ بھی تھے، ایسی کوئی میٹنگ نہیں ہوئی ہے، اس میں صرف اور صرف سعودی اور امریکہ کے نمائندے موجود تھے۔ سعودی کے وزیر خارجہ کا یہ وضاحتی بیان اس خفیہ میٹنگ سے متعلق ہے جس سے اب ساری دنیا واقف ہے۔

اس کے ٹھیک کچھ دن بعد ایران کے نمایاں سائنس داں اور وہاں کے نیوکلئیر پروجکٹ کے سر براہ محسن فخری زادہ کو سر عام قتل کر دیا گیا۔  اس سے بھی کچھ روز قبل ٹرمپ اپنے مشیر برائے امور دفاع  کو آناً فاناً تبدیل کر دیا۔ یہ سارے واقعات بہت کم مدت میں ہوئے ، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ پہلے سے کوئی پلان نہیں تھا ، کسی خاص واقعہ کے مد نظر یکے بعد دیگرے یہ سب کچھ  ہوا۔

عالمی سیاست پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کی مانیں تو یہ سب  ٹرمپ کی غیر متوقع شکست کی وجہ سے ہوا،  اسرائیل اور سعودی کو لگا کہ 2015 کا ایٹمی معاہدہ جو بائیڈن کہیں پھر سے بحال نہ کر دیں اس لیے بھی کہ بائیڈن نے سعودی کو سر پر چڑھا کر رکھنے کی ہمیشہ تنقید کی ہے،  اسی وجہ سےاسرائیل اور سعودی  نے اپنے مشترکہ دشمن ایران کو پیشگی چیک پر رکھنے کے لئے ہاتھ ملا لیا ہے اور اس کے پس پردہ ٹرمپ انتظامیہ کا تحفظ حاصل ہے، امریکہ اور سعودی کے تعلقا ت ابھی بہت اچھے مراحل میں ہیں اور ٹرمپ کی خاص مہربانی ہے شاہ سلمان  کے سر پر۔ جو بائیڈن کے صدر بننے کے بعد شاید یہ سہولت سلمان کے بیٹے کو میسر نہ ہو، لہذا وہ بہت جلدی اپنے بکھرے ہوئے ادھورے منصوبوں کو سمیٹنا چاہتے ہیں، اور یہی حالت اسرئیل کی بھی ہے۔

لیکن ان سب کاروائیوں کے بیچ میں جو بات خاص طور پر نکل کر آتی ہے وہ ہے ایران، ایران کا اس خطے میں تیزی سے ترقی کرنا اور پورے مشرق وسطی کے لئے پہلے سے بڑا خطر بن کر ابھرنا، یہی جہ ہے کہ جو سعودی کبھی اسرائیل سے دشمنی کی قسمیں کھاتا تھا اور اسرائیل کو محور بنا کر ساری پالیسیاں طے کرتا تھا وہ یکلخت اپنے حواریوں کو یہ حکم دیتا ہے کہ اسرائیل سے تعلقات بحال کریں اور یو اے ای اور بحرین نے یکے بعد دیگرے سر تسلیم خم بھی کر دیا، سعودی بھی غیر اعلانیہ طور پر  پر انے دشمن سے بالکل ہاتھ ملا چکا ہے، اس سے اس بات کا اندازہ بآسانی لگایا جا سکتا ہے کہ ایران کس قدر تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے کہ آلِ سعود میں  کہرام مچ گیا ہے ۔یہاں تک کہ وہ اپنے سارے عہود کی پاسداری کو طاق پر رکھ کر اپنا تخت بچانے کی فکر میں لگ گئے ہیں،صرف سعودی ہی نہیں ایران نے اسرائیل کے بھی ناک میں دم کر رکھا ہے، یہی وجہ ہے کہ اسرائیل کے وزیر اعظم خود سعودی جا کر خفیہ میٹنگ کرتے ہیں کہ آگے کی روڈ میپ کیا ہو، جس میٹنگ کا سعودی وزیر خارجہ انکار کر رہا ہے۔

ان تمام باتوں کو ایک طرف رکھ کر اور ان خطرات کو بھی در کنار کر کے کہ اگر ایران نیوکلئیر طاقت بن گیا تو کیا ہو سکتا ہے کس طرح سے ایران سعودی پہ چڑھ بیٹھے گا اور کیسے اس خطے کا سکون مزید غارت ہوگا ،یہاں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا  کہ ایران کیسے اس مقام تک پہنچ گیا کہ وہ اسرئیل اور امریکہ کے حلیف ملک سعودی کے لیے بہت بڑا خطرہ بن کر ابھرا، در اصل جہاں چاروں طرف ایران کی کمزوری اور بے بسی پہ لوگ لب کشا ہیں  اور عرب میڈیا مختلف کارٹونوں سے ایران کی کمزوری کا مذاق اڑا رہا ہے ،وہیں ایران اس سے پر جوش ہے اور اسے ایک طرح سے اپنی  فتح شمار کر رہا ہے، سعودی اور اسرائیل کے خوف سے فائدہ اٹھارہا ہے،  اسے  لگ رہا ہے کہ یہ ڈر اچھا ہے۔

اس میں ایران کی خارجہ پالیسی اور مضبوط قوت ارادی کا بھرپور دخل ہے، خواہ کیسے بھی حالات آ گئے ہوں اور کتنا بھی خارجی دباؤ ہو،  ایران نے کبھی بھی اپنے موقف سے دستبرداری نہیں کی،  اس کے لیے اسے بہت کچھ کھونا پڑا لیکن کبھی اپنے موقف سے ایک قدم پیچھے نہیں ہٹا، خواہ فلسطین کا مسئلہ ہو یا مسئلہ کشمیر ایران نے کسی کی پرواہ کئے بغیر کھل کے اپنے موقف کا اظہار کیا، آپ ایران کے موقف سے اتفاق رکھیں یا نہ رکھیں یہ ایک الگ مسئلہ ہے ، اسے ایمان اور عقیدہ سے اوپر اٹھ کر دیکھیں تو اس بات کا اعتراف کرنے سے آپ خود کو نہیں روک سکیں گے کہ اس میں سیاسی طور پر ایران کی جیت ہے، ایران مختصر سے وقت میں خود مختاری کی جانب زیادہ بڑھا ہے بالمقابل سعودی عرب کے، کہ وہ آج بھی امریکہ کے رحم و کرم پر جی رہا ہے، اپنے آقا کے اشارے کے بغیر آج بھی ایک قدم بڑھا نہیں سکتا، وقتا فوقتا ٹرمپ اپنے احسان کی یاد دہانی کرتا رہتا ہے،ایک سیاسی ریلی میں ٹرمپ نے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ اگر وہ اپنا ہاتھ کھینچ لیں تو سعودی ایک ہفتہ بھی نہیں ٹک سکتا، یہ کسی بھی قوم کے لئے نہایت ذلت کی بات ہے، یہ صحیح ہے کہ ایران پر اقتصادی پابندیاں عائد ہیں اور اس کے کئئ لیڈروں کو موت کے گھاٹ  اتار دیا گیا لیکن کم سے کم  ذلت کی بات نہیں ہے بلکہ کہیں نہ کہیں مزید آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتی ہے۔ قومیں رفاہیت اور آسایش سے نہیں بنتیں بلکہ امتحان اور آزمایش سے بنتی ہیں، کاش سلمان کے بیٹے فرانس میں قصر لویس اور سیرین شپ خریدنے کے بجاے کوئی نجی ڈفینس اور اسٹریٹیجک تحقیقی ادارہ قائم کیا ہوتا تو ممکن تھا پپچاس سال بعد  کسی ملک کے ساتھ خفیہ میٹنگ کرنے کی ضرورت نہ پڑتی،  صحافیوں اور  حکومت کی تنقید کرنے والوں سے اتنا خوف کھانے کی نوبت نہ آتی، جمال خاشقجی سے شروع ہونے والا یہ سلسلہ اگر اب بھی نہ رکا اور سعودی اپنے اخراج کی پالیسی کو ترک کر کے شمولیت کی پالیسی اور انحصار کے بجائے خود مختاری کی جانب قدم نہیں بڑھاتا ہے تو شہزادہ محمد اپنے آل سعود سمیت تاریخ کی کسی کتاب کے نصاب میں ہوں گے، وہیں ایران ،شام و عراق سمیت یمن کے راستے سعودی تک رسائی حاصل کر چکا ہوگا اور بچے ہوئے امریکہ کے پالتوں چوہوں کے بلوں میں پانی بھر رہا ہوگا۔