اِراسنگھل:عزم،حوصلے اورجدوجہدکی اعلیٰ مثال -سفینہ عرفات فاطمہ

پستہ قد،قدرے جھکاہوانحیف جسم،ناتواں پاؤں ، کمزوربازو اورپیٹھ پرنمایاں کُب ؛لیکن چہرے پر محرومی ، مایوسی ،مجبوری کا کوئی رنگ نہیں۔بڑی بڑی روشن آنکھوں میں ہلکی سی اداسی کی کیفیت بھی نہیں۔لوگ اِراسنگھل کو physically challenged  سمجھتے ہوں تو سمجھیں ،وہ خودکومعذوریااپاہج نہیں سمجھتیں۔
نئی دہلی کی اِراسنگھل ملک کی پہلی جسمانی طورپر معذور خاتون ہیں ،جنہوں نے عام زمرے میں یوپی ایس سی سیول سروس 2014ء کے امتحان میں اول پوزیشن حاصل کی تھی۔ وہ scoliosisنامی مرض میں مبتلا ہیں۔جس میں ریڑھ کی ہڈی میں غیرفطری خم پیدا ہو جاتاہے ۔ اس بیماری کے سبب ان کی پیٹھ پر کب hunchpackابھرآیاہے۔اور ان کے بازووں کو حرکت میں دشواری ہوتی ہے۔
اِرا نے 2010ء ہی میں سول سروس امتحان میں کامیابی حاصل کرلی تھی،لیکن انہیں ان کی معذوری کے سبب نااہل قراردیتے ہوئے انڈین ریوینیو سروس میں تقررسے محروم رکھا گیا تھا۔خدمت خلق کا جذبہ رکھنے والی بلند حوصلہ اِرا نے ہمت نہیں ہاری  اور اس ناانصافی کے خلاف کیس دائر کیا۔سینٹرل ایڈمنسٹریٹیو ٹریبونل نے چار سال بعدان کے حق میں فیصلہ سنایاتھا‘ اس کے باوجود انہیں مذکورہ محکمے میں پوسٹنگ کا بروقت آرڈر نہیں ملا تھا۔ اس دوران انہوں نے اپنا رینک بہتر کرنے کے لیے دو مرتبہ سول سروس کا امتحان لکھا اور کامیاب رہیں ۔ چوتھی کوشش میں انہیں پہلا رینک حاصل ہوا اوروہ ملک کی پہلی خاتون بنیں جس نے جسمانی طورپر معذور ہوتے ہوئے عام زمرے میں آئی اے ایس میں امتیازی کامیابی حاصل کی تھی۔
اِراسنگھل بی ای اور ایم بی اے کی ڈگریاں رکھتی ہیں۔ انہوں نے کیڈبری انڈیا اور کوکاکولاکمپنی میں بھی ملازمت کی ہے اوروہ ہسپانوی زبان کی ٹیچر بھی رہی ہیں۔
ہندوستان ٹائمز(5جولائی 2015ء) کی رپورٹ میں ان کا یہ بیان درج ہے کہ ’’میرے والدین نے میرے ساتھ ایک معذور اورلاچار جیسا سلوک نہیں کیا۔ انہوں نے مجھے ایک نارمل انسان کی طرح چیزوں کوقبول کرنا سکھایا۔اس دنیا میں میری جدوجہد ایک physically challenged انسان کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک عورت ہونے کی حیثیت سے ہے۔کسی بھی دوسری خاتون کی طرح جوصنفی امتیاز اور دقیانوسیت کا سامناکرتی ہے۔
این ڈی ٹی وی کے معروف اینکر اورحساس، انسانیت نواز صحافی رویش کمار نے پرائم ٹائم میں اِراسنگھل کی کامیابی اور اس کے حصول کی خاطر مسلسل جدوجہد کی کہانی پیش کی تھی۔ارا کی ماں نے بتایا تھاکہ وہ پیدائشی طورپرنارمل تھی، لیکن جیسے جیسے وہ بڑی ہوتی گئی ، جسمانی نقائص سامنے آنے لگے ۔ کافی علاج کے باوجود بھی افاقہ نہیں ہوا۔شاید وہ سرجری سے ٹھیک ہوجاتی، لیکن اس میں کافی جوکھم تھا، اسی لیے سرجری نہیں کروائی گئی۔اِرا کو ڈاکٹر بننے کی خواہش تھی ‘ لیکن ان کے والد نے یہ محسوس کیا کہ اپنی جسمانی کمزوریوں کے سبب شاید وہ ایک ڈاکٹر کے فرائض بخوبی ادا نہ کرسکے اسی لیے انہیں کمپیوٹر انجینئرنگ میں داخلہ دلوایاگیا۔
اِرا کومتعدد زبانوں پر عبورحاصل ہے ۔ رویش کمار کے استفسار پرانہوں نے بتایا تھاکہ وہ اطالوی ، ہسپانوی ، فرانسیسی ، پرتگالی زبانیں جانتی ہیں اورجرمن زبان سیکھ رہی ہیں۔اسی لیے ان کی ترجیح انڈین فارین سروس تھی لیکن وہ معذوری کی وجہ سے اس کی اہل نہیں تھیں۔وہ فکشن پڑھنے کی بہت شوقین ہیں۔ان کے والدین نے بتایا کہ وہ ہر وقت ناول پڑھتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔
ارا کا کہنا تھا کہ مطالعے سے انسان کی شخصیت اور اس کے رویے میں بہت فرق آجاتا ہے ۔ وہ کنفیوژن کا شکار نہیں رہتا۔
رویش کمارکے اس سوال پر کہ کیا انہیں مایوسی نہیں ہوتی ؟اِرا نے اس کا بہت ہی متاثرکن جواب دیاتھا۔ ان کا کہنا تھا کہ’’ ہرکسی کوکوئی نہ کوئی مشکل درپیش ہے ۔ فرق بس اتنا ہے کہ کسی کی کوئی تکلیف دکھائی دیتی ہے اور کسی کی کوئی پریشانی نظر نہیں آتی۔جس کے ماں باپ نہیں ہیں یا جس کے ساتھ گھر میں اچھاسلوک نہیں ہوتا اس کی تکلیف اوراذیت جسمانی معذوری سے بھی زیادہ ہے۔اگر وہ آئی اے ایس بننے سے محروم رہتیں تو اسے زندگی اور موت کا سوال ہرگز نہیں بناتیں۔ کیوں کہ ایک انسان کی زندگی کسی ایک امتحان سے نہیں جڑی ہے ۔مایوسی تو تب ہوتی ہے ‘جب آپ توقع رکھتے ہیں۔کرم کریں اور پھل کی فکرنہ کریں۔ ‘‘