اقبالؔ کا پیغام نوجوانوں کے نام-ڈاکٹر ممتاز احمدخاں

اقبالؔ کا پیغام یوں تو سارے انسانوں کے لیے ہے لیکن انھوں نے جابجا نوجوانوں سے بھی خصوصی خطاب کیا ہے اور ان کو بہ طورِ خاص کچھ نصیحتیں کی ہیں اور پیغام دیا ہے۔ نوجوانوں کے لیے اقبالؔ الگ سے کوئی نقشۂ کار یا پیغام نہیں رکھتے۔ ان کا جو پیغام سب کے لیے ہے، وہی نوجوانوں کے لیے بھی ہے۔ اقبالؔ کی وہ اردو نظمیں جن میں نوجوانوں سے خصوصی خطاب کیا گیا ہے، حسبِ صراحت یہ ہیں:
بانگ درا کی نظم — ”خطاب بہ جوانانِ اسلام“
بالِ جبریل کی نظم — ”ایک نوجوان کے نام“
ارمغانِ حجاز کی نظم — ”بڈھے بلوچ کی نصیحت بیٹے کو“
ان کے علاوہ جن نظموں میں جاوید (اقبالؔ کے بیٹے جاوید اقبال) سے خطاب ہے، ان میں بھی جاوید کے پردے میں اقبالؔ نے قوم کے نوجوانوں کو پیغام دیا ہے۔ ایسی نظموں میں ”جاوید کے نام“ کے عنوان سے دو نظمیں بالِ جبریل میں ملتی ہیں۔ پھر ضربِ کلیم میں تین بندوں پر مشتمل ایک نظم ہے جس کا عنوان ہے ”جاوید سے“۔
مذکورہ بالا نظموں کے علاوہ ضربِ کلیم کی نظم ”ایک فلسفہ زدہ سیدزادے کے نام“ میں بھی ایک مسلمان نوجوان سے خطاب ہے جو مغربی فلسفیوں کے فلسفے سے متاثر و مرعوب ہوکر گمراہ ہوگیا ہے۔ اقبالؔ نے اس نظم میں اس نوجوان کو تنبیہہ کی ہے اور اسے فلسفے کی کوتاہی و نارسائی سے آگاہ کرتے ہوئے اس پر اسلام کی حقیقت و حقانیت واضح کی ہے اوراسے اسلام کی طرف مراجعت کی دعوت دی ہے۔
فارسی کلام میں ”جاوید نامہ“ میں اور دوسرے فارسی مجموعوں میں اقبالؔ نے نوجوانوں سے خطاب فرمایا ہے، وہ علاحدہ ہے۔ زیرِ نظر مضمون میں بہ خوفِ طوالت ان فارسی نظموں کا احاطہ نہیں کیا جائے گا۔ مذکورہ بالا اردو نظموں میں بھی ہر نظم کے مطالب کا خلاصہ بیان کرنا ایک مختصر مضمون میں ممکن نہیں۔ اس لیے یہاں صرف دو نظموں کے مطالب و مضامین کی وضاحت و صراحت کی جاتی ہے۔
نظم ”خطاب بہ جوانانِ اسلام“ میں اقبالؔ مسلم نوجوانوں کو مخاطب کرکے ان کو جھنجھوڑنا اور بیدار کرنا چاہتے ہیں۔ سب سے پہلے وہ نوجوانوں ہی سے سوال کرتے ہیں کہ اے مسلم نوجوانو! کبھی تم نے یہ غور و فکر بھی کیا ہے کہ وہ کون سا بلند و رفیع آسمان تھا تم جس آسمان کے ٹوٹے ہوئے تارے ہو :
کبھی اے نوجواں مسلم! تدبّر بھی کیا تونے
وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے اِک ٹوٹا ہوا تارا
کیا تم نے کبھی اس امر پر غور کیا کہ تمھارے آبا و اجداد کیا تھے اور تم کس قوم کی اولاد ہو؟ پھر اقبالؔ خود ہی جواب دیتے ہیں :
”اے نوجوانو! تمھیں معلوم ہونا چاہیے کہ تم اُس قوم کی اولاد ہو جس کی شان و شوکت کے آگے بڑے بڑے بادشاہ سرنگوں ہوگئے تھے۔ اے نوجوانو! تمھارے آبا و اجداد نے دنیا کی بڑی بڑی حکومتوں (یعنی قیصر و کسریٰ کی حکومتوں) کو زیرِنگیں کرلیا تھا۔ تمہارے اسلاف وہ لوگ تھے جنھوں نے دنیا والوں کو تہذیب سکھائی اور تمدن کا سبق پڑھایا۔ انھوں نے انسانوں کے حقوق کی حفاظت کے اصول نافذ کیے۔ گرچہ وہ اونٹوں کی پشت پر منزلیں طے کرتے تھے، پھر بھی انھوں نے اپنے جذب و شوق اور ان تھک محنت کی بنیاد پر دنیا کو ایک خوب صورت تہذیب عطا کی۔ وہ اقتدار و حکومت کی کرسی پر بھی نہایت سادہ و فقیرانہ زندگی گزارتے تھے۔ تمہارے اسلاف میں جو تونگر یعنی دولت مند نہ تھے، مفلس و نادار تھے، وہ بھی بڑے غیرت مند و خوددار واقع ہوئے تھے۔ کسی کے آگے وہ ہاتھ نہ پھیلاتے بلکہ بڑے صبر و شکر اور شانِ استغنا سے زندگی بسر کرتے تھے۔ ان کے وقار اور غیرت کا یہ عالم تھا کہ بڑے بڑے دولت مندوں کو ہمت نہ ہوتی تھی کہ ان کی امداد کریں۔ ریگستانوں اور صحراؤں میں وہ رہنے والے بے شمار اعلیٰ خوبیوں کے مالک تھے۔ انھوں نے ملکوں کو فتح کیا، ان پر عادلانہ اور منصفانہ حکومت کی اور ان کے انتظامات کو درست فرمایا، ان کو ہر طرح سجایا، سنوارا۔ ان کے کارناموں اور خوبیوں کا ذکر میں کہاں تک کروں، میں چاہوں تو ان اللہ والوں کی تصویر اور ماضی کی شاندار تاریخ کا نقشہ لفظوں میں کھینچ کر رکھ دوں لیکن اے نوجوانو! تمھاری آنکھیں جو جدید تعلیم اور مغربی تہذیب سے خیرہ ہوگئی ہیں، اس کا نظارہ نہیں کرسکتیں۔ اپنی بے عملی اور بدتوفیقی کے سبب تم اپنے اسلاف سے بہت دور ہوگئے ہو۔ ان سے تمھاری کوئی نسبت نہیں معلوم ہوتی۔ اس لیے کہ وہ سراپا کردار تھے اور تم صرف گفتار کے غازی ہو۔ حرکت و عمل سے ان کی زندگی عبارت تھی اور تمھاری زندگی جمود و تعطُّل، آرام طلبی اور عیش کوشی کا شکار ہوگئی ہے۔ افسوس کہ اپنے اسلاف سے ہم نے جو قیمتی ورثہ پایا تھا، اسے اپنی شامتِ اعمال اور شومیِ قسمت کے نتیجے میں گنوا دیا، یعنی اپنے بزرگوں کی اعلیٰ خوبیوں سے ہم جب عاری ہوگئے تو وقت نے ہمیں عزت و سربلندی کے آسمان سے ذلت و خواری کے گڑھے میں پھینک دیا۔ قیادت و سیادت اور اقتدار و حکومت جیسی نعمتیں ہم سے چھن گئیں۔ اس لیے کہ یہ نعمتیں اُس قوم سے چھین لی جاتی ہیں جو شمشیر و سناں کو چھوڑ کر طاؤس و رُباب کی خوگر ہوجاتی ہے۔ زمانے کا یہ قانون اور اللہ تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ جو قوم رقص و سرود، عیش کوشی و آرام طلبی کی عادی ہوجاتی ہے، اسے حاکم کے تخت سے اُتار دیا جاتا ہے اور محکوم کی چٹائی پر بٹھا دیا جاتا ہے۔ حکومت توخیر ایک آنی جانی چیز تھی، اس کے ختم ہوجانے کا کیا رونا۔ اصل افسوس تو اس بات کا ہے کہ ہمارے اجداد نے جو اعلیٰ درجے کی قیمتی کتابیں چھوڑی تھیں، ہم ان سے بھی محروم و بے خبر ہوگئے۔ وہ نادر و نایاب کتابیں یورپ والے مسلمانوں کو شکست دینے کے بعد اُٹھا لے گئے۔ اقبالؔ کہتے ہیں کہ جب میں نے ان کتابوں کو یورپ کے کتب خانوں میں دیکھا تو میرا دل صدمے سے ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا:
مگر وہ علم کے موتی کتابیں اپنے آبا کی
جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سیپارہ
دوسری نظم کا عنوان ہے ”ایک نوجوان کے نام“۔ یہ بالِ جبریل کی مختصر سی نظم ہے۔ اس میں اقبالؔ نے قوم کے ایک ایسے نوجوان سے خطاب کیا ہے جو تن آسانی اور عیش و عشرت کی زندگی کا خوگر ہوچکا ہے۔ اقبالؔ اُس نوجوان کو نصیحت کرتے ہیں اور اس کے پردے میں قوم کے تمام نوجوانوں کو یہ تعلیم دینا چاہتے ہیں کہ وہ اپنے اصل و اعلیٰ منصب سے واقف ہوں اور دوسری ذلیل و گمراہ قوموں کے نوجوانوں کی سی زندگی بسرنہ کریں۔ فیشن زدگی، لہو و لعب، تضیعِ اوقات اور امیروں اور رئیسوں کی طرح ٹھاٹ باٹ کی زندگی ان کے مقصدِ حیات سے میل نہیں کھاتی۔ اقبالؔ کہتے ہیں کہ اے نوجوان! تیرے انگریزی صوفے اور قیمتی ایرانی قالینیں اور غیرملکی سامانِ آرایش دیکھ کر مجھے بے حد رنج و ملال ہوتا ہے اور میں تیری حالت پر خون کے آنسو روتا ہوں:
ترے صوفے ہیں افرنگی، ترے قالیں ہیں ایرانی
لہو مجھ کو رُلاتی ہے جوانوں کی تن آسانی
اے نوجوان! تجھے یہ دولت، یہ فراوانی جو حاصل ہے، میرے نزدیک اس کی کچھ اہمیت نہیں بلکہ اگر بادشاہت بھی تجھے حاصل ہوجائے تو میں اس کو بھی کوئی اہمیت نہ دوں گا۔ اس لیے کہ محض دولت و امارت جو نیکیوں سے خالی ہو، بے کار ہے۔ اے نوجوان! اگر تجھ میں حضرت علی کرم اللہ وجہٗ کی قوتِ ایمانی اور زورِ بازو نہیں ہے اور حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کا فقر و استغنا نہیں ہے تو پھر تیرے تمام اسباب و املاک کی کچھ وقعت نہیں۔ تجھے چاہیے کہ تو اپنے اندر اپنے بزرگوں کی خوبیاں پیدا کرے۔ لیکن حضرت علی کرم اللہ وجہٗ کی قوتِ ایمانی اور دلیری و جاں بازی اور حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی سادہ و سپاہیانہ زندگی تجھے تہذیبِ حاضر کی چمک دمک میں کہیں نہیں ملنے والی ہے۔ یہ خوبیاں تو صرف تیرے اسلاف میں ملیں گی۔اس لیے تجھے انھی بزرگوں کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔
اے نوجوان! تجھے عقاب پرندے سے سبق سیکھنا چاہیے اور اس کی بلند نظری و بلند پروازی اختیار کرنی چاہیے۔ اپنے ارادے ہمیشہ بلند رکھ اور اعلیٰ کارنامے انجام دینے کا حوصلہ و شوق پیدا کر۔جب تجھ میں عقابی روح پیدا ہوجائے گی تو تُو معمولی اور حقیر مادّی اشیا کے حصول کی خاطر اپنی صلاحیتوں کو ضایع نہ کرے گا بلکہ ان صلاحیتوں کو اعلیٰ مقاصد کے لیے استعمال کرے گا اور بڑے اور اعلیٰ کارنامے انجام دینے کو فکرمند رہے گا۔ تجھے اپنے مقصد کے حصول میں دشواریوں اور رکاوٹوں کا سامنا ہوگا لیکن تجھے امید و یقین کا دامن مضبوطی سے تھامے رکھنا ہے۔ تم کبھی ناامیدی کا شکار نہ ہونا، اس لیے کہ ناامیدی اور پست ہمتی سے انسان کبھی کوئی کام نہیں کرسکتا۔ جو لوگ اللہ پر بھروسا رکھتے ہیں، وہ کبھی مایوسی و ناامیدی کے شکار نہیں ہوتے۔ اے نوجوان! تن آسانی، فیشن زدگی اور آرام طلبی کی زندگی تیرے شایانِ شان نہیں ہے۔ تجھے اربابِ حکومت کی چاپلوسی و کاسہ لیسی اختیار کرنے کے بجائے اپنا رزق اپنی قوتِ بازو سے حاصل کرنا چاہیے۔ تجھے شاہین پرندے کی طرح محنت و مشقت اور آزادی و کُلہ داری کی زندگی بسر کرنا چاہیے:
نہیں تیرا نشیمن قصرِ سلطانی کے گنبد پر
تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*