چپ کی کمی کے باعث ایپل کے آئی فون 13 کی پیداوار میں کمی کا امکان

نیویارک :عالمی سطح پر جاری ’چپ‘ کی کمی کا بحران شدت اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے اور اب دنیا کی معروف ٹیکنالوجی کمپنی ایپل کی پیداوار بھی اس سے متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز نے بلوم برگ نیوز کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ چپ کی عالمی سطح پر کمی کی وجہ سے ایپل کمپنی کو اپنے آئی فون کی پیداوار ممکنہ طور پر ایک کروڑ یونٹ کم کرنا پڑے گی۔بلوم برگ نے اس معاملے سے جڑے افراد کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ ایپل کو توقع تھی کہ وہ رواں سال کے آخر تک نئے آئی فون کے 9 کروڑ یونٹس تیار کرے گی۔ لیکن اب بظاہر اس کمی کے بعد ایپل کی پیداوار آٹھ کروڑ ڈالر کے لگ بھگ رہنے کی توقع ہے۔واضح رہے کہ دنیا بھر میں جاری چپ بحران نے آٹو موبائلز سے الیکٹرونکس تک سب صنعتوں پر دباؤ میں اضافہ کیا ہے اور کئی مشہور کارساز کمپنیوں نے اپنی پیداوار کو عارضی طور پر معطل بھی کیا ہے۔ البتہ بڑے پیمانے پر قوتِ خرید اور چپ بیچنے والوں سے فراہمی کے طویل مدتی معاہدوں کی وجہ سے ایپل کئی دیگر کمپنیوں کے مقابلے میں اپنی سپلائی کی کمی سے بہتر انداز میں نمٹ رہا ہے۔تاہم رپورٹ کے مطابق ایپل نے اپنے مینوفکچررز کو کہا ہے کہ اس کے یونٹس کی تعداد کم ہوگی کیوں کہ چپ فراہم کرنے والی کمپنیوں بشمول براڈکام اور ٹیکساس انسٹرومنٹس اپنے سامان کی فراہمی کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں۔دوسری جانب رائٹرز کے مطابق ایپل نے اس معاملے پر ردِعمل دینے سے انکار کیا ہے جب کہ براڈکام اور ٹیکساس انسٹرومنٹس نے بھی فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔نئے آئی فون کی پروڈکشن میں ممکنہ کمی کی رپورٹ کے بعد ایپل کے حصص میں ایک اعشاریہ دو فی صد گراوٹ دیکھی گئی جب کہ ٹیکساس انسٹرومنٹ اور براڈ کام کے حصص بھی لگ بھگ ایک فی صد کم ہوئے۔واضح رہے کہ جولائی میں ایپل نے سست رفتاری سے آمدنی میں اضافے کی پیش گوئی کی تھی اور کہا تھا کہ چپ کی کمی جس نے میک اور آئی پیڈز کی فروخت کی صلاحیت کو متاثر کرنا شروع کردیا ہے، وہ آئی فون کی پروڈکشن کو بھی متأثر کرے گی۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*