انٹر میڈیٹ کے اردو نصاب کی ترتیب پر قومی ورکشاپ کا آغاز

سولن:
وزارت فروغ انسانی وسائل کی حکومت ہند کے محکمہ اعلیٰ تعلیم کے ادارے ’اردو تدریسی وتحقیقی مرکز‘، سولن(ہماچل پردیش) میں ایک ہفت روزہ ورکشاپ بعنوان’’انٹر میڈئیٹ اردو کورس: ترتیب و تدوین اور تعئین قدر“ کا انعقاد ڈاکٹر طارق خان، کارگزار پرنسپل کی زیرِ صدارت ہوا۔ ورکشاپ کے کنوینرڈاکٹر ابو ارشد نے جلسے کی نظامت کے فرائض ادا کیے۔
ڈاکٹر ابو ارشد نے جلسے کی نظامت کرتے ہوئے ورکشاپ کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ اس ورکشاپ کا مقصد انٹرمیڈئیٹ سطح کے طلبہ کے لیے گزشتہ ورکشاپ میں تیار کیے گئے نصاب کی ترتیب و تدوین کرنا ہے۔ جس میں ہمیں زبان کے تقاضوں اور موجودہ رائج اصلاحات کا خیال رکھنا ہے۔
ڈاکٹر طارق خان نے اپنے خطبہئ صدارت میں زبان کی باریکیوں پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اردو کی بدقسمتی ہے کہ اس کے سیکھنے کے لیے کوئی معیار متعین نہیں ہے۔ زبانوں کے مختلف ماہرین، اپنے اپنے طور پر معیار قائم کرتے ہیں۔ اس سے دیگر زبانوں کے طلبا کوزبان سیکھنے اور کوئی ایک معیار قائم کرنے میں بڑی دقت ہوتی ہے۔ہمیں اس ورکشاپ کے ذریعہ یکساں معیار کی ایسی کتاب تیار کرنی ہے جس میں اختلافات کم سے کم ہوں۔ انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہاں ادب کی تدریس کا مقصد بھی زبان سکھانا ہوتا ہے۔
ڈاکٹر طارق نے سی.آئی.آئی. ایل.(میسور) کے دیگر منصوبوں کے تعلق سے بھی اظہار خیال کیا۔ اس موقع پر پروفیسر اسلم جمشیدپوری (میرٹھ)نے اردو زبان کی اہمیت و افادیت کے علاوہ اس کے تدریسی پہلوؤں پرروشنی ڈالی۔اس افتتاحی اجلاس میں ڈاکڑ زبیر شاداب (علی گڑھ)، احمد بدر(جمشیدپور) اور ڈاکٹر معراج الحسن (مرادآباد)نے اردو زبان کے تدریسی مسائل اور تدارک پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔جلسے میں ڈاکٹر مصباح احمد صدیقی،(امروہہ) ڈاکٹر سید تنویر حسن (امروہہ)، ڈاکٹر عبدالرشید (دہلی)، ڈاکٹر آفتاب عالم، ڈاکٹر آفتاب عالم نجمی (علی گڑھ)، ڈاکٹر عائشہ (امروہہ)، ڈاکٹر محمد مونس (پٹیالہ)، ڈاکٹر نصرت جہاں (کولکاتا)وغیرہ نے شرکت فرمائی اور اپنے مفید مشوروں سے نوازا۔