کسان احتجاج:انٹرنیٹ پابندی کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچا

نئی دہلی:کسانوں کے احتجاج کے مقامات پرانٹرنیٹ پابندی کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا ہے۔ درخواست میں دہلی کی سرحدوں پراحتجاج کرنے والے مقامات پر انٹرنیٹ پرپابندی کو ختم کرنے کامطالبہ کیا گیا ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ انٹرنیٹ بندکرنا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ درخواست میں یوم جمہوریہ کے موقع پر ٹریکٹر ریلی میں اس شخص کی ہلاکت کی عدالتی تحقیقات کا بھی مطالبہ کیاگیاہے جس کے بارے میں یہ الزام لگایا گیا ہے کہ اس کی موت گولی سے ہوئی ہے۔ مفاد عامہ کی قانونی چارہ جوئی میں کہا گیا ہے کہ کسان مخالف احتجاج کی سائٹوں پر انٹرنیٹ کی معطلی سپریم کورٹ کے فیصلے کے منافی ہے ، جس میں انٹرنیٹ کو بنیادی حق کہا گیا ہے۔ یہ درخواست وکلاء سمریت سنگھ اجمانی اور پشپندر سنگھ نے دائرکی ہے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ جموں وکشمیر میں سپریم کورٹ کے بنیادی حق کے حصے کے طور پر انٹرنیٹ تک رسائی کے فیصلے کو حکومت کی طرف سے پامال کیا جارہا ہے۔ انٹرنیٹ بندکرکے حکومت نے کسانوں اور حقیقی صحافیوں کو قوم کے سامنے حقیقی تصویرلانے سے روک دیاہے۔ انٹرنیٹ شہریوں کو عالمی پلیٹ فارمز پر اپنی رائے ظاہر کرنے میں مددکرتا ہے اوریہ ایک بنیادی حق ہے۔