انٹرنیٹ کی بحالی اورایف آئی آرکی واپسی تک کوئی گفتگونہیں ہوگی،کسان اپنے موقف پر مصر

نئی دہلی:کسانوں نے تین نئے زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے مرکزی حکومت کو واضح طور پر کہاہے کہ موجودہ ماحول میں بات چیت ممکن نہیں ہے۔ بھارتی کسان یونین کے صدر منجیت سنگھ رائے نے بتایاہے کہ جب تک حکومت معصوم کسانوں سے ایف آئی آر واپس نہیں لیتی اور انٹرنیٹ سروس کو بحال نہیں کرتی تب تک بات نہیں ہوسکتی ہے۔رائے نے کہا ہے کہ ہمیں دہلی حکومت کی طرف سے 115 افراد کی ایک فہرست ملی ہے ، جبکہ اب بھی ہمارے 6 افراد کا پتہ نہیں چل سکاہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے ایک ہیلپ لائن دی ہے ، لوگ کال کر رہے ہیں اور بتا رہے ہیں کہ ان کے کنبہ کے افراد ابھی بھی لاپتہ ہیں۔رائے نے کہاہے کہ حکومت سے اب بات چیت ممکن نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ دہلی بارڈر پر کسانوں کے خلاف آہنی چہرے کی دیواریں تعمیر کی گئی ہیں۔ خاردار تار لگائی گئی ہے۔ لہٰذا اس طرح کے ماحول میں گفتگوممکن نہیں ہے۔جمعرات کوپولیس نے کسانوں سے ملنے جانے والی حزب اختلاف کی دس جماعتوں کے 15 ارکان پارلیمنٹ کو روک دیا۔بھارتیہ جنتا پارٹی کی اتحادی جماعت کی سابقہ شراکت دار شرومنی اکالی دل کی رہنما اور سابق مرکزی وزیر ہرسمرت کوربادل نے ٹویٹر پر حکومت کے بارے میں معلومات دیتے ہوئے حملہ کیا۔ انہوں نے ٹویٹ کرکے حیرت کا اظہار کیاہے کہ یہاں تک کہ اراکین پارلیمنٹ کو بھی کسانوں سے ملاقات کی اجازت نہیں ہے۔