دلچسپ ’ڈیورس‘ ـ شکیل رشید

چلیے فلم اسٹار عامر خان نے پھر طلاق دے دی۔ معاف کیجئے کہ میں نے لفظ ’طلاق‘ لکھ دیا، یہ حقیقتاً انگریزی والا ’ڈیورس‘ ہے۔ اس میں ہوتا یہ ہے کہ جو پہلے میاں بیوی ہوتے ہیں وہ ’ڈیورس‘ کے بعد بھی میاں بیوی ہی کی طرح رہتے ہیں۔ یعنی ان کے درمیان کوئی نفرت اور عداوت نہیں پیدا ہوتی۔ عامر خان نے کرن راؤ کو، یا کرن راؤ نے عامر خان کو چھوڑنے کے بعد جو بیان جاری کیا ہے وہ بڑا ہی دلچسپ ہے۔ دلچسپ اس معنیٰ میں کہ اس بیان کو پڑھ کر لگ رہا ہے جیسے دونوں نے ’ہنسی خوشی‘ ایک دوسرے کو ’ڈیورس‘ کہا ہے! کسی کی طرف سے بھی کسی طرح کی کوئی شکایت سامنے نہیں آئی ہے۔ نہ عامر خان نے یہ کہا ہے کہ اسے کرن راؤ  سے کسی طرح کی شکایت تھی اس لیے وہ اسے ’چھوڑ‘ رہا ہے اور نہ ہی کرن راؤ نے ایسی کوئی بات کہی ہے۔ ہے نہ دلچسپ ’ڈیورس‘ ۔ہم نے تو عام طور پر ایسے طلاق دیکھے ہیں کہ دونوں طرف سے شکایت کے انبار لگے ہوتےہیں، گالیوں کا بھر پور استعمال ہوتا ہے اور گریبان تک پھٹ جاتے ہیں، پولس اور وکیل کرنے کی نوبت آتی ہے ۔ یہاں ایسا کچھ نہیں ہوا۔ کاش اس ملک میں ’طلاق‘ لینے اور دینے وا لے عامر خان اور کرن راؤ  سے کچھ سیکھ پاتے! اب یہ دیکھ لیں کہ ’ڈیورس‘ کے بعد بھی عامر خان اور کرن راؤ ایک ساتھ ہی بزنس کریں گے، ایک ساتھ فلمیں بنائیں گے اور ’پانی ‘ کی فراہمی سے متعلق جو ان کی تحریک یا مہم ہے وہ مشترکہ طور پر چلتی رہے گی۔ یہی نہیں ان کا ایک بیٹا ہے آزاد، اس کی دیکھ بھال اور نگہ داشت بھی دونوں ساتھ ہی ساتھ کریں گے، بالکل ایک فیملی یعنی خاندان کی طرح۔ یہ میرے نہیں عامر خان اور کرن راؤ کے الفاظ ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا ’ڈیورس‘ یوں ہی، بیٹھے بٹھائے دیاجاسکتا ہے؟ کسی کے من میں آیا کہ وہ اپنی بیوی کو چھوڑ دے، اور اس نے بیوی سے اپنے من کی بات بتائی، وہ ہنسی اور کہا ’دے دو ڈیورس‘، اور اس نے ڈیورس دے دیا! عامر خان اور کرن راؤ کے ڈیورس پر نظر ڈالیں تو بظاہر یہی لگتا ہے کہ یہ ایک ’مذاق‘ ہے۔ لیکن دنیا جانتی ہے کہ ’طلاق‘ کوئی مذاق نہیں ۔ یہ دو دلوں کے ٹوٹنے کے بعد کا عمل ہے۔ یقیناً عامر خان اور کرن راؤ کے درمیان کوئی ایسی بات ضرور ہوئی ہوگی کہ دونوں ہی الگ رہنے کےلیے ’ڈیورس‘ پر راضی ہوئے۔ ہمیں اس بات تک پہنچنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، لیکن اس ’ڈیورس‘ کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ یہ جو جگمگاتی ہوئی فلمی دنیا ، یا یہ جو سماج کا اوپر کا طبقہ ہے ، جسے کریم کہاجاتا ہے، اپنی ہڈیوں تک کس قدر سڑا اور بُسا ہوا ہے۔ عامر خان کی یہ کوئی پہلی ’ڈیورس‘ نہیں ہے وہ پہلے ایک بیوی ، اپنی بیٹی آئرہ خان اوربیٹے جنید خان کی ماں رینا کو ’ڈیورس‘ دے چکے ہیں۔ دنیا جانتی ہے کہ اس کا اثر ان کی بیٹی پر پڑا ہے، وہ ڈپریشن کی شکار ہوئی ہے۔ میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ وہ سب جو اس طرح کی حرکتیں کرتے ہیں اس سماج کے بیمار لوگ ہیں۔ ابھی کل ہی راجستھان سے ایک خبر آئی ہے کہ ایک سسر نے اپنی بہو سے شادی کرلی، بیٹے سے اسے چھڑوادیا۔ یہ ایک ہندو گھرانہ ہے۔ اس کی خبر تو خیر نہیں بنی کیوں کہ بہو کا نام عمرانہ نہیں تھا، مگر یقیناً کرن راؤ سے عامر خان کی علاحدگی پر خوب بحث ومباحثہ ہوگا کیوں کہ عامر خان ایک مسلم نام ہے۔ انگلی مسلمانوں پر اُٹھے گی کہ یہ مسلمان ہوتے ہی ایسے ہیں۔ ’لوجہاد‘ کرکے ہندو لڑکیوں سے شادیاں کرتے ہیں اور بچے پیدا کرکے انہیں بیچ منجدھار میں چھوڑ دیتے ہیں۔ عامر خان نے یہی تو کیا ہے ۔ بھلے مسلمان یہ سمجھیں کہ عامر خان کہاں ’باعمل مسلمان‘ ہے، مگر ساری دنیا اسے مسلمان جانتی ہے، لہذا اس کا گناہ یا اس کے عمل کا ٹھیکرا مسلمانوں کے سر پھوڑ کر ایک نیا ہنگامہ شروع کردیاجائے گا۔ لہذا مسلمان تیار رہیں!