انتخابی سیاست:بہت کٹھن ہے ڈگر پنگھٹ کی ـ مسعود جاوید

بہار الیکشن کے موضوع پر کل میں نے ایک تحریر پوسٹ کی تھی متعدد احباب نے اسے حوصلہ افزا قرار دیا تاہم ہمیں یہ حقیقت بھی پیش نظر رکھنی چاہئے کہ خواہشات پر مبنی سوچ wishful thinking اور زمینی حقیقت دو مختلف باتیں ہیں ان دونوں میں تطابق ممکن تو ہے مگر محنت اور صبر طلب ہے۔ یہ کوئی overnight process یعنی راتوں رات کسی پارٹی کا وجود میں آنا یا کسی ریاست میں جا کر اپنی حیثیت تسلیم کرانا محض جذباتی باتیں نہیں جہد مسلسل اور grassroots level پر کام چاہتا ہے۔

دوسری بات یہ کہ انتخابی سیاست اب اتنی سہل نہیں کہ کوئی سرگرم سماجی کارکن ارادہ کرے اور پارٹی اسے ٹکٹ دیدے۔ اس کی تمام عوامی خدمات کے باوجود مذہب اور برادری کو عذر بنا کر یعنی یہ کہہ کر کہ ‘دوسری جات یا دھرم والے آپ کو قبول نہیں کریں گے’ پارٹی ٹکٹ دینے سے انکار کر دیتی ہے۔

تیسری بات یہ کہ پارٹی lobbying اور پیسے خرچ کرنے کی صلاحیت کو دیکھتے ہوئے ٹکٹ دیتی ہے۔ بعض پارٹیاں خصوصا دو بڑی پارٹیاں امیدوار کو الیکشن لڑنے کے اخراجات دیتی ہیں تو دوسری کچھ ایسی پارٹیاں بھی ہیں جو پیسوں کے عوض ٹکٹ دیتی ہیں۔
الیکشن لڑنے کے لئے پچاس لاکھ سے ایک کروڑ تک بھی رقم درکار ہوتی ہے۔ سرمایہ کار، ٹھکیدار، بڑے تاجر اپنے مفادات کی برآری کے لئے متوقع جیتنے والے امیدواروں کو فائننس کرتے ہیں تاکہ جیتنے کے بعد ان سے کام لیا جا سکے۔
ایسے میں صاف ستھری سیاست اور "سیاست ذرا ہٹ کے” کی بات کرنا معقول نظر نہیں آتا۔ جب آوے کا آوا ہی بگڑا ہو تو مثالی باتیں کون قبول کرے گا سب کی زبان پر ایک ہی بات آتی ہے کہ ایک چنا بھاڑ نہیں پھوڑ سکتا اس لیے اس سسٹم سے ہٹ کر سوچنے کا فائدہ نہیں۔
لیکن میں کہتا ہوں کہ اس کو خاطر میں لائے بغیر کہ وہ جیتے گا یا نہیں، اچھے لوگوں کو سامنے لائیں ان کی شکست میں بھی خیر کا پہلو یہ ہے کہ اس بار ان کی پہچان بنے گی پھر رفتہ رفتہ بلا تفریق مذہب و ذات برادری عوامی خدمت سے ان کی مقبولیت بڑھے گی۔ یہ آپ کے نوٹا (فہرست میں مذکور امیدواروں میں سے کوئی نہیں) سے بہتر ہے۔ جب تک آپ زمینی پکڑ نہیں بنائیں گے آپ حقیقی طور پر عوامی نمائندگی کے لائق نہیں ہوں گے۔ ہر پانچ سال کے بعد جاگیں گے اور الیکشن میں شکست کے بعد پھر سو جائیں گے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*