انتخابی ریاستوں میں تیزی سے بڑھ رہے ہیں کورونا کیسز

مغربی بنگال میں 420فی صد ، آسام میں 532فی صد ، تمل ناڈو میں 159فی صد ، کیرالہ میں 103فی صد اور پڈوچیری میں 165 فیصد اضافہ
نئی دہلی:آخر کار ، وہ ہوا جس کا خدشہ تھا۔ حکومت اور الیکشن کمیشن نے مغربی بنگال ، تمل ناڈو ، کیرالہ ، آسام اور پڈوچیری میں لوگوں کی جان کو خطرہ میں ڈال دیا ہے۔تقریباََ ڈیڑھ ماہ سے جاری انتخابی پروگرام مہلک ثابت ہونے لگا ہے۔یہ ہم نہیں ، اعداد و شمار بول رہے ہیں۔ دینک بھاسکرنے ان پانچ ریاستوں کے ڈیٹا کو یکم اپریل سے 14 اپریل تک دیکھا۔اس سے پتہ چلتا ہے کہ مغربی بنگال میں کورونا کیسوں میں 420فی صد ، آسام میں 532فی صد ، تمل ناڈو میں 159فی صد ، کیرالہ میں 103فی صد اور پڈوچیری میں 165 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اوسطاََ ان پانچ ریاستوں میں اموات میں بھی 45فی صد کااضافہ ہوا ہے۔اور یہ تو ابھی آغاز ہے۔ آنے والے وقتوں میں حالات مزید خراب ہوتے جارہے ہیں۔ اگر یہ انتخابی جلسے اور اجتماعات ہجوم نہ ہوتے تو بہت سے لوگ اپنی جان بچاسکتے تھے۔جن میں خو دوزیراعظم کی ریلیاں بھی ہیں۔مغربی بنگال کے دارالحکومت کولکاتہ کی تصویریں آئی ہیں۔یہاں 7 مارچ کو بی جے پی کے ذریعہ ایک بڑی انتخابی ریلی کا انعقاد کیا گیا تھا۔ وزیر اعظم نریندر مودی اس میں شامل تھے۔ لاکھوں افراد نے ریلی میں شرکت کی۔ اس دوران کوویڈ قواعد کی پوری طرح خلاف ورزی کی گئی۔آسام کے اعداد و شمار کافی حیران کن ہیں۔ آسام میں 16 سے 31 مارچ کے درمیان صرف 537 افراد کورونا سے متاثر ہوئے تھے۔ مطلب اس وقت کے دوران صورتحال بہت بہتر تھی۔ اب اگر آپ یکم سے 14 اپریل کے درمیان نظر ڈالیں تو اندازہ کرنا مناسب ہے۔ ان 14 دنوں کے دوران ریکارڈ 3398 افراد کو کورونا نے نشانہ بنایا، اس کا مطلب ہے کہ اب کورونا کی رفتار بڑھ کر 532فی صد ہوگئی ہے۔ موت کے معاملات میں بھی یہ دیکھا گیا۔ 16 سے 31 مارچ تک ، جہاں صرف 6 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ، ان 14 دنوں میں اب تک 15 اموات کی اطلاع ملی ہے۔