انتخابِ امیرشریعت :سو برس بعد امار ت ِشرعیہ نے کیا کھویا؟کیا پایا؟؟-صفدرا مام قادری

[قسط اول]

شعبۂ اردو، کا لج آف کا مرس ،آرٹس اینڈ سائنس ،پٹنہ
گذشتہ چھ مہینوں میں امارتِ شرعیہ کے انتخابِ امیر کے سلسلے سے جتنے بھی خدشات ظاہر کیے گئے،وہ مختلف انداز اور صورتوں میں اجلاسِ اربابِ حل و عقد میں نظر آئے مگر انتظام کاروں کی دانش مندی، انتظامیہ اور پولس کی معقول توجہ اور اربابِ حل و عقد سنجیدہ کوششوں سے نا خوش گواری کے بغیر تمام باتیں انجام تک پہنچیں اور ایک صدی مکمّل کر چکے امارتِ شرعیہ کو آٹھواں امیرِ شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی کے طور پر حاصل ہوا۔ یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ نو منتخب امیرِشریعت کے والد مولانا محمد ولی رحمانی اور دادا مولانا منّت اللہ رحمانی بھی امارتِ شرعیہ کے چوتھے اور ساتویں امیرِ شریعت رہ چکے ہیں۔ مولاما منّت اللہ رحمانی کے وصال کے پچیس برسوں بعد مولانا ولی رحمانی امیرِ شریعت منتخب ہوئے تھے مگر مولانا ولی رحمانی کے انتقال کے محض سات مہینوں کے بعد انھیں باضابطہ طور پر ووٹنگ کے ذریعہ امیرِ شریعتِ ثامن بنایا گیا۔
اس بار انتخاب کے مسائل شروع سے پیچیدہ اور طرح طرح کے اختلافات کا باعث رہے۔ مولانا ولی رحمانی کے ناگہانی ارتحال ، کورونا کی دوسری لہر کے تباہ کن اثرات، لاک ڈائون اور پھر حکومت کی طرف سے مذہبی انعقادات کے لیے اجازت نہ ہونے کی وجہ سے سات مہینے کے بعد انتخابِ امیر کی گنجایش پیدا ہوسکی۔ مجلسِ شوریٰ نے آن لائن نشست بھی کی اور الگ الگ تین حلقوں میں چند افراد کی نشستیں ہوئیں اور امیرِ شریعت کے انتخاب کے لیے تین تین اعلانات سامنے آگئے۔ ان اختلافات کے بیچ نائب امیرِ شریعت نے پوری مجلسِ شوریٰ کو دعوت دی جس کے نتیجے میں متفقہ طور پر ۹؍اکتوبر کی تاریخ سامنے آئی۔ انتخاب کو بہ حسن و خوبی پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لیے گیارہ رکنی استقبالیہ کمیٹی بھی سامنے آئی اور متعدد مشاہدین کی موجودگی میں انتخابِ امیر کا کام انجام کو پہنچا۔
ابتدائی دور میں ہی علمائے کرام کے درمیان اور خاص طور سے انتخاب کے ذمہ داروں کے بیچ چند امور پر واضح اختلافات سامنے آچکے تھے۔ امیرِ شریعت کے عہدے کے لیے اردو اخباروں اور سوشل میڈیا کے صفحات پر دعویداریاں سامنے آرہی تھیں۔ کچھ کھل کر اپنے آپ میدان میں اتر آئے تھے، کچھ اپنے عقیدت مندوں کی زبانی دعوا پیش کررہے تھے اور چند نے باضابطہ طور پر ٹیم بنا کر کام کرنے کا سلیقہ اختیار کر رکھا تھا۔ جھارکھنڈ سے لے کر بہار تک نصف درجن افراد تو کھلے طور پر میدان میں آچکے تھے جس کا ثبوت ۹؍اکتوبر کے اجلاس میں بھی دیکھنے کو ملا جہاں پانچ علماے کرام کے بارے میں اربابِ حل و عقد کی جانب سے امیرِ شریعت کے لیے باضابطہ طور پر نام پیش کیے گئے۔ ناموں کی دعویداری سے فضا کچھ اس قدر مکدر نہیں ہوئی جس قدر ’جوابِ آںغزل‘ سے ہوئی۔ حُبِ علی کا معاملہ سمجھ میں کیا آتا،بُغضِ معاویہ میں قوم سینہ سپر ہونے لگی۔ ہوائی جہاز سے لے کر کاروں کے دورے ہونے لگے اور نئے نئے اشخاص امیرِ شریعت کے انتخاب کے بنیادی معاملات پر تھوڑا جان کر زیادہ اگلنے کی مہم میں کاربند ہوگئے۔
شروع میں اخباروں میں انجانے ناموں سے مضامین آنے شروع ہوئے۔ مولانا انیس الرحمان قاسمی اور مولانا احمد ولی فیصل رحمانی کی خدمات یا کارکردگیوں کے بارے میں لکھا جانے لگا۔ طرف داروں سے الگ مخالفین نے کردار کشی کا شیوہ اختیار کیا۔ مولانا انیس الرحمان قاسمی پر فردِ جرم یہ عاید ہوتی رہی کہ بہ حیثیتِ ناظم ان پر مالی خُرد برد اور خیانتوں کے ایسے الزام عاید ہوئے ہیں جن کی ابھی تک صفائی سامنے نہیں آسکی ہے۔ جناب فیصل رحمانی کے سلسلے سے یہ الزام باربارپیش نظر رہاکہ وہ روایتی طور پر عالمِ دین نہیں ہیں اور ان کی سابقہ زندگی امیرِ شریعت کے عہدے کے لیے مناسب نہیں ہے۔ یہ دونوں باتیں الزامات در الزامات کی شکل میں سامنے آتی رہیں اور کبھی بھی کسی ایک مجلس میں مجلسِ شوریٰ یا اربابِ حل و عقد کے افراد نے عوامی طور پر بیٹھ کر ان معاملات کی تفتیش کرنے کے لیے کوئی گنجایش نہیں پیدا کی جس کے سبب ایک ناخوش گوار صورت حال پریس اور میڈیا کے سامنے کئی مہینوں تک قائم رہی۔
اسی دوران کسی شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے ممتاز عالم دین مولانا خالد سیف اللہ عظیم آباد تشریف لائے اور مجلسِ شوریٰ کے بعض ارکان کی ایک مخصوص نشست گاہ میں ان کا پہنچنا اور پھر پریس میں انتخابِ امیرِ شریعت کے حوالے سے چند بنیادی نکتوں پر اپنے خیالات کا اظہار کرنا گویا جلتی ہوئی آگ کو شعلہ بنانے کے مترادف ثابت ہوا ۔بیان میں یہ کہا گیا کہ امیرِ شریعت منتخب کرنے کے لیے ووٹ کرانا غیر اسلامی ہے۔ ٹھیک اسی وقت اچانک امارتِ شرعیہ کے صدر مفتی کی طرف سے یہ فتویٰ نشر کیا گیا کہ ووٹنگ کے ذریعہ امیرِ شریعت کا انتخاب غیر اسلامی فعل ہے۔ حالاںکہ انتخابِ امیرِ شریعت سے چند دنوں قبل مولانا خالد سیف اللہ نے وضاحت کی کہ اخبارات میں ان کی باتیں درست انداز میں شایع نہیں ہوسکیں ۔ یہ بات بھی لوگوں نے دیکھا کہ ۹؍اکتوبر کو امیرِ شریعت کے انتخاب کے لیے ان بزرگوں نے خود سے ووٹ کے کاغذ پر اپنے پسندیدہ امیدواروں کے نام لکھ کر اس باضابطہ راے شماری کا حصہ بنتے ہوئے نظر آئے۔ اگر تین مہینہ پہلے یہی کام غیر اسلامی تھا تو اتنے دنوں میں کون سی تبدیلی ہوگئی کہ یہ علماے کرام اپنے گذشتہ اعلان نامے سے پیچھے ہٹ گئے۔
انتخاب کے عمل میں ایک بات اور بنیادی سوال کے طور پر سامنے آئی کہ جس شخص کو کسی منصب کی خواہش ہے یا جو امیرِ شریعت بننے کا دعوے دار ہے، وہ گناہ کا مرتکب ہے اور اس کی اہلیت اپنے آپ کالعدم ہوجاتی ہے۔ مولانا خالد سیف اللہ نے اس زمانے میں اسی مخصوص نشست میں یہ بات بھی کہی تھی کہ اگر انھیں اتفاقِ راے سے امیرِ شریعت چنا جاتا ہے تو وہ اس کے لیے راضی ہیں۔ ایک محتاط اور عاقل آدمی کی طرح ان کے بیان میں یہ بھی لکھا ہوا تھا کہ قوم کو انتشار سے بچانے کی ذمہ داری سے وہ الگ نہیں ہوسکتے اور اس نازک موقعے سے وہ یہ عہدہ قبول کرنے کے لیے راضی ہیں۔
ابھی اخبارات اور سوشل میڈیا میں مولانا انیس الرحمان قاسمی اور احمد ولی فیصل رحمانی صاحب کی امیدواری کے سلسلے سے ادھوری بحث ہی سامنے آئی تھی، اس مرحلے میں مولانا خالد سیف اللہ کے بیان نے کھلے طور پر ایک نئی صورتِ حال پیدا کردی ۔ یہ صورتِ حال رفتہ رفتہ پیچیدہ ہوتی گئی ۔ اخبارات اور سوشل میڈیا میں بہت مستعدی کے ساتھ یہ بیانات آنے لگے کہ مولانا خالد سیف اللہ اس عہدے کے لیے سب سے موزوں شخصیت ہیں اور انھیں لازمی طور پر اتفاق راے سے چن لیا جانا چاہیے۔ کمال تو تب ہوا جب مجلسِ شوریٰ اور اربابِ حل و عقد سے تعلق رکھنے والے کئی افراد مثلاً سنی وقف بورڈ کے چیرمین جناب محمد ارشاد اللہ کے واضح بیانات آنے لگے کہ مولانا خالد سیف اللہ ہی واحد ایسے شخص ہیں جن کو اس کام کے لیے چن لیا جانا چاہیے۔ بہار پبلک سروس کمیشن کے سابق رکن جناب شاہنواز خاں نے اپنے ایک مضمون کو درجنوں جگہوں پہ شایع کرایا جس میں امیرِ شریعت کے انتخاب میں صرف اور صرف مولانا خالد سیف اللہ کے نام پر غور کیا جانا چاہیے۔ کسی نہ کسی حوالے سے مجلسِ شوریٰ کے دوسرے ممبران ڈاکٹر احمد عبدالحئی، ڈاکٹر احمد اشفاق کریم، ڈاکٹر مولانا ابوالکلام شمسی اور جناب شاہنواز خاں وغیرہ کے اخبارات میں جو انتخاب سے پہلے عوامی بیانات شایع ہوئے ، ان میں بھی کبھی کھلے لفظوں میں اور کبھی خاموش زبان میں مولانا خالد سیف اللہ کی امیدواری اور صرف امیدواری نہیں بلکہ حتمی انتخاب کی وکالت گئی تھی۔ کسی کسی گوشے سے مولانا انیس الرحمان قاسمی کے لیے بھی اشارے آتے رہے مگر انتخاب کے دوسرے دور میں انیس الرحمان قاسمی اور مولانا احمد ولی فیصل رحمانی کے مقابلے مولانا خالد سیف اللہ کو سوں آگے نکل چکے تھے۔
بات شروع ہوئی تھی کہ دعوا پیش کرنا یا انتخاب کا حصہ بننا یا باضابطہ انتخاب کرانا غیر اسلامی فعل ہے مگر ہمارے جید علماے کرام نے اس موضوع پر چار لفظ بھی نہیں کہے کہ اخبار اور سوشل میڈیا پہ لاکھوں الفاظ خرچ کرکے امیرِ شریعت کے لیے کسی امیدوار کی حتمیت کس اصول کے تحت جائز ہے۔ اگر یہ درست ہے تو صرف اس لیے کہ جمہوری اداروں یا تنظیموں میں امیدواروں کے بارے میں تعریفی بیانات اور اشتہارات شایع کرانے کا چلن ہے اور اسی طور پر متوقع مخالفین کی کردار کشی کے کام کو بھی لگن کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ ہندستان ہی نہیں پوری دنیا میں اسی طرح سے انتخابات ہوتے ہیں اور امارتِ شرعیہ کے انتخابِ امیر کے عمل کو اسی طرح باضابطہ طور پر سیاسی رنگ آمیزی کے ساتھ پوری فراست اور دائوں پیچ کے ساتھ تکمیل تک لانے کی کوشش ہوئی۔
امیرِ شریعت کے انتخاب کے مراحل میں کئی طرح کے موڑ آئے اور اسی طرح معزز اور محترم لوگوں نے بڑی بڑی اور غیر ضروری قسم کی غلطیاں کیں۔ آن لائن مجلسِ شوریٰ کے بعد نائب امیرِ شریعت کو گیارہ رکنی کمیٹی بنانے کی جو ذمہ داری دی گئی تھی، اس کے انتخاب کے اصول و ضوابط میں ایک سو اکیاون ممبران کی تصدیق کے ساتھ باضابطہ پرچۂ نامزدگی پیش کرنے کی جو شِق تھی، وہ بنیادی قسم کی غلطی تھی اور شاید وہیں سے انتخابِ امیر کے سلسلے کے عمل میں ناچاقی پیدا ہوئی۔دوسرا بے موقع فتویٰ خود امارتِ شرعیہ کی طرف سے آگیا کہ جمہوری طرزِ انتخاب کو غیر اسلامی قرار دیا گیا تھا۔ تیسرا مولانا خالد سیف اللہ جیسی بڑی عالمانہ شخصیت کی طرف سے مختلف طرح کی احتیاطی لفظوں کی کاغذی دیواروں کے سہارے کھلی امیدواری کی پیش کش تھی۔ اچانک مجلسِ شوریٰ کے چند افراد جس میں مولانا ابوالکلام قاسمی، مولانا عالم قاسمی اور ڈاکٹر احمد عبدالحئی کی شرکت بتائی گئی ، اس نے ۱۰؍اکتوبر کو انتخاب کا اچانک اعلان کردیا۔ یہ مجلس شوریٰ کے ارکان کی جانب سے فاش غلطی تھی۔ ردِ عمل میں چند اور ارکانِ شوریٰ نے اسی طرح ۹؍اکتوبر کو انتخاب کا اعلان فرما دیا۔ اس دھرم ڈھکیل میں جھارکھنڈ سے تعلق رکھنے والے مجلس شوریٰ کے ارکان کیوں پیچھے رہتے، انھوںنے ۷؍اکتوبر کو انتخابِ امیر کا اعلان کردیا۔ کمال تو یہ ہے کہ پہلی چند افراد کی مجلس شوریٰ کی نشست کے فیصلے کو نائب امیرِ شریعت اور قائم مقام ناظمِ اعلیٰ نے نہ جانے کیوںانتخاب کی تاریخ تسلیم کرتے ہوئے پریس کو اپنے فیصلے کے طور پر پیش کردیا ۔
ابھی اڑیسہ سے تعلق رکھنے والے یا مغربی بنگال کے اربابِ حل و عقد یا مجلس شوریٰ کے افراد ایک اور تاریخ کا اعلان کرتے ، اس دوران نائب امیرِ شریعت کو اپنے آئینی اور مذہبی فریضے یا اختیار کی یاد آئی اور انھوںنے ۳۰؍ستمبر کو مجلس شوریٰ کے تمام ممبران کی ایک نشست بلانے کا فیصلہ کرلیا۔ یہ انتخابِ امیر کے سلسلے سے پہلا سب سے معقول اور حسبِ حال فیصلہ تھا۔ حالاںکہ اس اعلان کے بعد اخباروں میں یہ رپورٹیں شایع ہوئیں کہ جناب احمد اشفاق کریم اور جناب ڈاکٹر احمد عبدالحئی اور ان کے ہم خیال شوریٰ کے افراد اس مکمل شوریٰ کی نشست کو غیر ضروری اور غیر قانونی قرار دیتے رہے اور کسی طور پر بھی انتخابِ امیر سے پہلے ایسی کسی نشست کو ان افراد نے نامناسب مانا۔ مگر نائب امیرِ شریعت اپنے فیصلے پر قائم رہے اور انھوںنے مجلسِ شوریٰ کی مکمل نشست امارتِ شرعیہ میں بلائی اور متوقع خدشات کے پیش نظر سول اور پولیس انتظامیہ سے کھلے طور پر انتظامات کے طلب گار ہوئے۔ ۳۰؍ستمبر کو مجلسِ شوریٰ ہوئی اور خلافِ توقع تمام فریقین نے ۹؍اکتوبر کی تاریخ میں انتخاب کے لیے رضامندی ظاہر کردی۔ یہ بات باعثِ حیرت اس لیے بھی تھی کہ چند بااثر افراد آخر کن خفیہ اسباب سے مکمل مجلس شوریٰ کی نشست کرانے کے خواہاں نہیں تھے۔
انتخابِ امیر کے انتظامات کا بڑا حصہ پٹنہ کے کلکٹر کے زیرِ انتظام تھا اور پھلواری شریف کے ایس ڈی او اور اے ایس پی نے پوری ایمانداری ، محنت اور ہوش مندی کے ساتھ سارے عمل کو تکمیل تک پہنچایا ۔ ان سب نے یہ کوشش کی کہ علماے کرام اور مذہبی شخصیتوں کے ٹکراو کا وہ حصہ نہ بنیں۔ ہر ناخوش گوار موقعے پر انھوںنے اپنی کوششوں سے آسانیاں پیدا کیں۔ یہ بھی پُرلطف رہا کہ مرحلۂ اول میں مولانا انیس الرحمان قاسمی، مولانا خالد سیف اللہ اور مولانا احمد ولی فیصل رحمانی کی امیدواری کی پرچیاں اربابِ حل و عقد کی جانب سے اسٹیج تک پہنچیں۔ یہ تینوں امیدوار اخبارات اور سوشل میڈیا پر گذشتہ چھے سات مہینوں سے کسی نہ کسی ذریعے سے اپنی موجودگی درج کرانے میں کامیاب تھے۔ مولانا خالد سیف اللہ نے ایک گھنٹے کے بعد اتفاق راے نہیں ہونے کی صورت میں سیدھے انتخاب میں جانے سے گریز کرتے ہوئے انتخابی عمل سے خود کو الگ کیا اور براہِ راست مولانا انیس الرحمان قاسمی اور مولانا احمد ولی فیصل رحمانی کے درمیان سیدھا مقابلہ باضابطہ بیلٹ پیپر کے انداز کی پرچیوں پر نام لکھ کر ہوا اور نتیجے کے طور پر مولانا احمد ولی فیصل رحمانی آٹھویں امیرِ شریعت بنائے گئے۔
(جاری)

 

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*