پنجاب میں باغیانہ تیور :سدھو کے قریبی وزیر ترپیت راجندر باجوہ کے گھر 23 ممبران اسمبلی کی میٹنگ

چنڈ ی گڑھ : پنجاب کانگریس کی اندرونی تنازع ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ نوجوت سنگھ سدھو کو پنجاب کانگریس کا صدر بنانے کے بعد یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ تمام تنازعات حل ہو جائیں گے لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔ منگل کو صوبائی کابینہ کے وزیر ترپت راجندر سنگھ باجوہ کی رہائش گاہ پر تقریباً دو درجن افراد بشمول ریاستی وزراء ، ایم ایل اے اور دیگر سینئر لیڈروں کی میٹنگ نے اس بات کی تصدیق کی کہ پارٹی کی خانہ جنگی مزید تیز ہو گی۔میٹنگ کے بعد ترپت باجوہ ، سکھ جندر رندھاوا ، سکھ سرکاریا اور چرنجیت سنگھ چنی نے صحافیوں کو بتایا کہ انہیں کیپٹن امریندر سنگھ کی قیادت پر بھروسہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ کیپٹن کو بدلا جائے ، تبھی کانگریس پنجاب میں اگلے انتخابات میں واپسی کر سکے گی۔ میٹنگ کے بعد چاروں وزراء باہر آئے اور صحافیوں سے بات کی ، لیکن اس کے بعد وہ دوسرے ایم ایل اے سے ملنے کے لیے دوبارہ اندر چلے گئے۔ذرائع کے مطابق میٹنگ میں فیصلہ لینے کے بعد چار وزرا اور ایک ایم ایل اے پر مبنی ایک وفد تشکیل دیا گیا ہے، جو نئی دہلی میں پارٹی ہائی کمان سے ملاقات کرے گا اور پنجاب کانگریس کی موجودہ صورتحال سے آگاہ کرے گا۔ ممکنہ طور پر یہ وفد ہائی کمانڈ پنجاب میں وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ کو ہٹانے کا مطالبہ کرے گا۔اس میٹنگ کے دوران کن مسائل پر فیصلہ کیا گیا ، یہ واضح نہیں ہے ، لیکن مانا جاتا ہے کہ اس میٹنگ میں جمع ہونے والے تمام وزرا ء اور ایم ایل اے ماضی میں کپتان کی مخالفت کرتے رہے ہیں، اور شروع سے ہی نوجوت سدھو کے حامی نظر آئے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس میٹنگ میں ہائی کمان سے ملنے کے لیے بنائی گئی کمیٹی یہ مسئلہ اٹھانے جا رہی ہے کہ کیپٹن کی قیادت میں موجودہ حکومت عوام سے کیے گئے وعدے پورے نہیں کر سکی اور یہ ذمہ داری ہے یہ حکومت اگلے انتخابات تک وعدے پورے کرے ، اس کی وجہ سے کانگریس کو اگلے الیکشن میں نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔