انسانوں کا کوئی پرسانِ حال نہیں،مگرایم پی میں گئو تحفظ کےلیے  6 محکموں پر مشتمل گائے کابینہ کی تشکیل

بھوپال:مدھیہ پردیش حکومت نے ملک میں پہلی گائے کابینہ تشکیل دینے کا فیصلہ کرلیاہے۔یقینا یہ قدم ملک کے کروڑوں گئو میں آستھا رکھنے والوں کے لیے باعث ِ’’مسرت‘ ‘ ہوگا۔ یہ کابینہ گایوں کے تحفظ اور اس کے فروغ کے لیے کام کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان نے بدھ کے روز ٹوئٹ کرکے اطلاع دی ۔سی ایم شیوراج سنگھ چوہان نے لکھا کہ ریاست میں گائے کے تحفظ اوراس کے فروغ کے لیےگائے کابینہ بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔گئو کابینہ میں جانوروں کے پالنے ، جنگلات ، پنچایت اور دیہی ترقی ، محصول ، محکمہ داخلہ اور کسانوں کی بہبود کوبھی شامل کیا جائے گا۔ اس کی پہلی میٹنگ 22 نومبر کو ’گوپش ٹمی‘ کو دوپہر 12 بجے مالوہ میں منعقد کئے جانے کی تجویز ہے۔البتہ سابق وزیر اعلیٰ کمل ناتھ نے شیو راج حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شیوراج سنگھ جنہوں نے 2018 کے اسمبلی انتخابات سے قبل ریاست میں گائے کی وزارت بنانے کا اعلان کیا تھا ، اب وہ گائے کابینہ بنانے کی بات کررہے ہیں۔ اپنے انتخابات سے قبل کے اعلان میں انہوں نے ریاست بھر میں گائے کی وزارت قائم کرنے کے ساتھ ساتھ گائے کی محفوظ گئوشالہ کے قیام کی بات بھی کی تھی۔کمل ناتھ نے کہا کہ ہر کوئی جانتا ہے کہ اپنے پچھلے 15 سالوں اور موجودہ 8 مہینوں میں شیوراج حکومت نے ’ ’گئوماتا‘‘کے تحفظ اور فروغ کے لئے کچھ نہیں کیا ہے، بلکہ کانگریس حکومت نے گائے کے چارہ کے لئے مہیا کی جانے والی چارے میں 20 روپے کم کئے تھے ، موجودہ سرکار نے اس میں اضافہ کردیا ہے ۔ سابق وزیراعلیٰ کے مطابق ، ہم نے منشور میں یہ وعدہ کیا تھا کہ جب ہماری حکومت آئے گی تو ہم ایک ہزار گوشالہ تعمیر کروائیں گے ۔ سابق وزیر اعلی کمل ناتھ نے کہا کہ گایوں کی دیکھ بھال کرنے والوں کے لیےایک آن لائن عطیہ پورٹل شروع کیا تھا ، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ عطیہ دہندگان کو انکم ٹیکس چھوٹ دی جائے گی۔