انسانی رشتوں کی بے قدری-مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی

نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ وجھارکھنڈ
انسانی زندگی کے بہت سارے مسائل میں ایک اہم مسئلہ رشتوں کی ٹوٹ اور خاندان کا بکھراؤ ہے، پہلے رشتوں کا احترام اس قدر کیا جاتا تھا کہ گاؤں کے ہر آدمی سے دوسرے کا رشتہ ہوتا تھا ، گاؤں کے بڑے بوڑھے، دادا ، چچا، تاؤ ، نانا وغیرہ کہہ کر پکارے جاتے تھے، کسی مرد وعورت کی مجال نہیں ہوتی تھی کہ بغیر ان رشتوں کے ذکر کے ان کا نام لے لے؛ کیوں کہ یہ حرکت بے ادبی کے دائرے میں شمار ہوتی تھی، یہ بڑے بوڑھے بھی بچوں کی تربیت کو اپنا فرض سمجھتے تھے اور گاؤں کا کوئی بھی آدمی بچوںکو ان کی غلطیوں اور شرارتوں پر ٹوک سکتا تھا ، ٹوکتا ہی نہیں ،تنبیہ بھی کرتا تھا اور کوئی بھی اس تنبیہ کا برا نہیں مانتا تھا ، بلکہ خوش ہوکر کہتا تھا ، چچا اور کیوں نہیں مارا ، بچے ان بڑوں کے ڈر سے غلط کاموں سے اجتناب کرتے تھے، بچتے تھے، وہ اگر کھینی کھاتے یا سگریٹ پیتے تو انتہائی چوکنا رہتے کہ گاؤں کا کوئی بڑا بوڑھا دیکھ تو نہیں رہا ہے، جب یقین ہوجاتا کہ کوئی بڑا یہاں پر نہیں ہے ، تبھی ان کاموں کو انجام دیتے، ہمارے بچپن تک یہ رواج تھا ، اور گارجین کا اس قدر خوف تھا کہ صرف یہ کہنا کافی ہوتا تھا کہ آنے دو، تمہاری شکایت تمہارے باپ سے کریں گے ۔ اس خوف میں بڑوں کا ادب احترام سب شامل تھا ، رشتوں کا پاس رکھا جاتا تھا ، یہ بڑے صرف تنبیہ ہی نہیں کرتے تھے، کوئی موقع آتا تو ٹھیک اسی طرح تعاون کرتے جیسے کوئی اپنے بچے کے لیے کیاکرتا ہے ، گاؤں میں کسی کی موت پورے گاؤں کو سوگوار کرتی تھی اور ہر گھر میں ایسا سنا ٹا پسرا اہوتا تھا، جیسے اسی کے گھر میں موت ہو گئی ہو، نہ دو کانیں کھلتی تھیں اور نہ لوگ سفر پر جاتے تھے، گاؤں میں جنازہ ہو اور بغیر تجہیز وتکفین کے آدمی سفر پر نکل جائے ، یہ انتہائی معیوب تھا اور وجہ وہی پورے گاؤں کا رشتوں کی ڈور میں بند ھا ہونا تھا ۔گاؤں، گاؤں نہیں ایک خاندان کے مانندہوتا تھا۔
اب یہ بات قصۂ پارینہ ہے، اب گاؤں کے رشتے باقی نہیں رہے، ہر آدمی ایک دوسرے کا نام اجنبی کی طرح لیتا ہے، بچے کی غلطی پر کوئی بھی تنبیہ نہیںکر سکتا ، تنبیہ کا مطلب ہے جھگڑا مول لینا، بچے کا گارجین بڑے آرام سے کہہ دیتا ہے کہ آپ نے کیوں تنبیہ کی ، میرا لڑکا خراب ہوتا ، آپ کو کیا پڑی ہے، سماج کے اسی بدلتے ہوئے مزاج کی وجہ سے یہ مقولہ چل نکلا کہ ’’دوسروں کے پھٹے میں ٹانگ کیوں اڑا ئیں‘‘ اس خیال نے انسان کو نفسیاتی طور پر مردہ بنا دیا ہے، اب لڑکے بڑوں کے سامنے کھینی ، گٹکا بلکہ تاڑی شراب پینے میں بھی عار نہیں محسوس کرتے ، کوئی بعید نہیں کہ بعض سر پھرا سگریٹ پی کر دھنواں آپ کے منہ پر چھوڑ دے ، اب تو چپراسی تک آپ کو دیکھ کر اپنی جگہ سے نہیں ہلتے ، آپ کو آتا دیکھ کر وہ دوسری طرف رخ کرکے کھڑے ہوں گے، یا دوسری راہ لیں گے ، ایسا محسوس کرائیں گے کہ انہوںنے آپ کو دیکھا ہی نہیں، حفظ مراتب کا پاس ولحاظ باقی نہیں رہا، جب یہ سب ختم ہو گیا تو ماتحتوں کے تئیں جو ہمدردی کے جذبات ہوا کرتے تھے وہ بھی سرد پڑ گیے، شکوہ دو طرفہ ہے، لوگ بدلتے زمانے کو برا بھلا کہتے ہیں ، اپنے اعمال کو نہیں دیکھتے ، اپنے طور طریقے پر نظر نہیں ڈالتے ، حدیث قدسی ہے کہ زمانہ کو برا بھلا نہ کہو ، اللہ کہتے ہیں کہ زمانہ تو میں ہوں۔
گاؤں سے رشتے ٹوٹے تو معاملہ خاندان تک پہونچ گیا باپ بیٹے میاں بیوی ، بھائی ، بھائی میں تکرار شروع ہو گئی ، لوگ ہندومسلمان کے جھگڑوں کا ذکر کرتے ہیں، لیکن عدالتوں میں جاکر دیکھئے زیادہ جھگڑے بھائی بھائی کے آپ کو ملیں گے ، باپ بیٹوں کے درمیان مقدمات بھی شاذ نہیں ہیں، پاس پڑوس کے جھگڑے اس پر مستزاد ، یہ لڑائی کہیں تو’’ انا‘‘ کی ہے اور کہیں حقوق کی ، حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی نے پورے خاندان کو آپس میں لڑا رکھا ہے، کسی گھر میں سرد جنگ ہے اور کسی گھر میں گرم جنگ ، کہیں لڑائی کی آگ دکھتی ہے اور کہیں دھواں بھی دکھائی نہیں دیتا ، لیکن لڑائی ہے کہ جاری ہے ، ساس بہو، نند دیور کے جھگڑوں کی بہتات ہے، اس معاملہ میں زن وشوہر کے جھگڑوں نے بھی رکارڈ قائم کر لیا ہے، چھوٹی چھوٹی بات پر تکرار ، منہ پھلول ، زد وکوب گالی گلوج، سات پشتوں کو الٹ دینا عام سی بات ہے، بات آگے بڑھتی ہے تو رشتہ ٹوٹ جاتا ہے، طلاق ہوجاتی ہے، معصوم بچے اس افتاد کی وجہ سے پریشان ہو جاتے ہیں اور انہیں نا کردہ گناہ کی سزا مل جاتی ہے، اس طرح خاندان ٹوٹ جاتا ہے۔
یاد رکھیے ٹوٹ اللہ اور اس کے رسول کو پسند نہیں ہے، اللہ اپنے بندوں سے محبت کرتے ہیں، اور چاہتے ہیں کہ یہ محبت بندوں کے رگ وپے میں گردش کرے، ایک دوسرے کے ساتھ رحم کا برتاؤ کیا جائے، تمام مخلوق اللہ کا کنبہ ہے، اللہ کے نزدیک پسندیدہ وہ شخص ہے جو اپنے کنبے کے ساتھ حسن سلوک کرے، جو توڑ پیدا کرنا چاہتا ہے،اس سے جڑنے کی کوشش کرے اور جو ظلم کرے اس کو معاف کردے، آج معافی کوکمزوری کی علامت سمجھا جاتا ہے، حالانکہ یہ زندگی کو خوش گواربنانے کا بہترین طریقہ اور اللہ کے نزدیک اپنے گناہوں کو معاف کرانے کا بہترین ذریعہ ہے ، معافی بزدلی نہیں، کام کی حکمت عملی ہے، معافی سے تحمل اور بر داشت کا مزاج بنتا ہے، اور یہ برداشت ہی خاندان کو آپس میں جوڑے رکھتا ہے۔
خاندان کے ٹوٹنے کے اعداد وشمار پر ایک نظر ڈالنے کے لئے ہمیں باہر جانے کی ضرورت نہیں ، ہمارے یہاں صرف مرکزی دار القضاء میں جو مقدمات ۱۴۳۷ھ میں آئے ان کی موضوعاتی تقسیم سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ہماری خواتین میں عدم برداشت کا مزاج کس قدر بڑھ گیا ہے ، اس سال کل چار سو بائیس مقدمات مرکزی دار القضاء میں آئے جن میں ایک سوا کانوے مقدمات مطالبہ فسخ نکاح ، ایک سو ساٹھ مقدمات مطالبہ رخصتی زوجہ ، اکاون مقدمات مطالبہ خلع اور ایک مقدمہ طلاق نامہ بتراضی طرفین کا تھا ، ان کا مجموعہ ۴۰۲ ہوتا ہے، دوسرے معاملات سے متعلق صرف بیس مقدمات دائر ہوئے ، فسخ نکاح کے اسباب پائے جائیں تو نکاح کا ختم کرنا شرعی تقاضہ ہے، لیکن مطالبہ رخصتی زوجہ اور مطالبہ خلع میں سے ایک شوہر کی طرف سے دائر ہوتا ہے اور ایک بیوی کی طرف سے ، لیکن خلاصہ اس کا یہی تو ہے کہ عورت رہنا نہیں چاہتی ہے، یہی حال دوسرے ذیلی دار القضاء میں دائر مقدمات کا ہے ، کولکاتہ توپسیا کے دار القضاء میں چھہتر مقدمات میں چھیاسٹھ اس قسم کے مقدمات ہیں، ان اعداد وشمار کے جائزہ سے محسوس ہوتا ہے کہ خاندان تیزی سے ٹوٹ رہا ہے اور تحمل وبرداشت کی کمی ہوتی جا رہی ہے۔
مغربی ممالک میں تو یہ بیماری اس قدر عام ہے کہ وہاں مشہور ہے کہ تین ڈبلو (Work, Wether, Wife,) کا کوئی بھروسہ نہیں ہے ، کب ساتھ چھوڑ جائے، کچھ کہنا مشکل ہے ، پھر یہ خاندانی انتشار بربادی کی ایک داستان چھوڑ جاتا ہے ، کیوں کہ جدائیگی کے لئے عمر کی کوئی قید نہیں ہے ، کسی بھی عمر میں میاں بیوی الگ ہو جاتے ہیں اور ان کی زندگی ہر اعتبار سے برباد ہو کر رہ جاتی ہے ۔
ابھی حال ہی میں لندن کا ایک ایسا ہی مقدمہ سامنے آیا ہے، جس میں شادی کے بائیس سال بعد میاں بیوی نے علیحدگی کا فیصلہ کیا ، جائیداد کے حصول کے لئے دو سال تک مقدمہ لڑتے رہے ، وکیلوں کو چھہ کڑوڑ روپئے بطور فیس ادا کئے ، ڈیڑھ کڑوڑ روپئے کا قرض الگ سے سر چڑھا ، مشترکہ کاروبار اس لڑائی کی نظر ہو گیا ، طلاق تو ہو گئی؛ لیکن اس لڑائی نے دونوں کو کنگال کر دیا ، کہنے کے لئے دونوں کو پانچ پانچ لاکھ روپئے ہاتھ آئے ،لیکن ڈیڑھ کڑوڑ کے قرض دارکے لئے پانچ لاکھ کی رقم کیا معنی رکھتی ہے ، عدالت میں تیرہ(۱۳) سنوائی ہوئی، پانچ دن ٹرائل پر مقدمہ رہا ، شوہر نے چار بار اپیل کی؛ جو ہر بار خارج ہو گئی ، جسٹس رابرٹ بیل نے کہا کہ خود کو برباد کرنے والا یہ مقدمہ آج ختم ہو گیا ، لیکن اس مقدمہ پر جو اخراجات ہوئے اس پر یقین کرنا مشکل معلوم ہوتا ہے ، انہوں نے کہا کہ یہ مقدمہ ایسے میاں بیوی کے لئے عبرت ہے جو قانونی داؤ پیچ میں اپنا سب کچھ خرچ کر ڈالتے ہیں ۔
اس پورے فیصلہ کے مقابل اسلامی تعلیم کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ طلاق اسلام میں حلال کاموں میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ عمل ہے ، اس سے حتی الامکان گریز کرناچاہئے ، لیکن اگر میاں بیوی کی ازدواجی زندگی ان خطوط پر استوار نہ ہو سکے جو اسلام نے مقرر کئے ہیں اور جسے حدود اللہ کا نام دیا گیا ہے اور اصلاح حال کی ساری کوششیں ناکام ہو جائیں تو طلاق کے ذریعہ ترک تعلق کر لیا جائے؛ تاکہ دونوں کے لئے آئندہ نئے سرے سے خوشگوار زندگی کا آغاز کرنا ممکن ہو سکے ، طلاق کے اس عمل میں نہ عدالت کی ضرورت ہے اور نہ ہی عام حالات میں گواہوں کی۔ شریعت نے سوائے عدت کے نفقہ کے کوئی مالی بوجھ بھی شوہر پر نہیں ڈالا ہے ، رہ گیا مہر تو وہ نکاح کی وجہ سے لازم ہوتا ہے ، طلاق کی وجہ سے نہیں ، یہ الگ بات ہے کہ مہر کی ادائیگی کا مزاج نہیں ہے ، اس لئے اس قرض کی ادائیگی کا خیال بھی طلاق کے بعد آتا ہے ، یہ انسانی کمزوری ہے، شریعت کا اس سے کچھ لینا دینا نہیں ہے ، رہ گئی بات اثاثہ جات کی توجو چیز جس کی ملکیت ہے وہ اس کو ملے گی ، اس میں بٹوارے وغیرہ کا کوئی معاملہ نہیں ہے ، جو اثاثہ جات مشترک ملکیت ہیں، ان کی تقسیم بھی شرعی رہنمائی کے مطابق ہو جائے گی ، اتنے آسان طریقہ سے ترک تعلق میں کسی قسم کی بربادی نہیں ہے ، بلکہ ایک خوشگوار زندگی کے آغاز کا یہ پیش خیمہ ہے ۔ جو لوگ اسلامی طلاق پر اعتراضات کرتے ہیں ، ان کو اس حقیقت کو سمجھ لینی چاہئے کہ کرب کے ساتھ زندگی گذارنے اور چھٹکارہ ممکن نہ ہو تو عورتوں کو جلا دینے سے لاکھ گنا بہتر ہے کہ اسے آزاد کر دیا جائے اور وہ اپنے نفس کی مالک ہو کر شرعی انداز میں کسی دوسرے مرد سے رشتہ قائم کرکے عزت و اکرام کے ساتھ پُر سکون زندگی گذار سکے ۔
اس صورت حال کو بدلنا انتہائی ضروری ہے، خاندان کی حفاظت اور اسے ٹوٹنے سے بچانا، مال ودولت کی حفاظت سے زیادہ اہم ہے اور اس کی شکل صرف ایک ہے کہ ایک دوسرے کے حقوق کی ادائیگی کا مزاج بنایا جائے، اللہ رب العزت نے حقوق کی ادائیگی پر زور دیا ہے ، حقوق مانگنے پر نہیں ، حقوق مانگنا بھی شرعی طور پر غلط نہیں ہے ، لیکن اگر حقوق ادا کرنے کے الٰہی احکام پر عمل ہوگا تو حقوق مانگنے کی نوبت ہی نہیں آئے گی، یاد رکھیے، حقوق کی ادائیگی فرض ہے، ہر آدمی اپنے حق کی بات کرتا ہے اور اپنے اس فرض کو بھولا بیٹھا ہے، جس دن حقوق وفرائض کی ادائیگی انسان اپنے ذمہ لازم کر لے گا، رشتے ٹوٹنے سے بچ جائیں گے اور گھر ٹنشن فری زون(Tention free zone) ہوگا، جو اللہ رسول کی پسند ہے۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*