انسان نامہ – محمد اکرام الحق ندوی 

کل کائنات کے سامنے انسان کی حیثیت ایک ذرہ کی ہے ، وہ صحراے عوالم میں ایک مشت خاک ہے ، جسم وڈول کے لحاظ سے ایک نحیف وناتواں مخلوق ہے ، لیکن قدرت نے اسے ایک ایسی بیش بہا نعمت سے نوازا ہے جو کسی مخلوق کو عطا نہیں کی، وہ نعمت عقل وشعور کی نعمت ہے ، یہ ایسی نعمت ہے جس پر ہزار نعمتیں  قربان ، یہی حضرت "انسان ” کی وہ مابہ الامتیاز خصوصیت ہے، جس کی بنا پر وہ اشرف المخلوقات کی مسند عالی پر جانشیں ہے ۔ ایک مشت خاک سے بنے انسان نے خدا کی عطا کردہ اس نعمت کو بروئے کار لا کر  دنیا کی عظیم تہذیب و تمدن کو وجود بخشا ، اپنی ناخن تدبیر سے پہاڑوں کو تراش کر قابل رہائش بنایا ، خار دار وادیوں اور گھاٹیوں کو پاٹ کر اپنی ہنر مندی سے گلشن پر بہار بنادیا ، سمندروں میں غواصی کرکے اپنے جیب ودامن کو  موتیوں سے مالا مال کیا ، زمین کے سینے کو چیر کر "سیال سونے ” کو برآمد کیا ، حرفت وصناعت کے پہیوں کو تیز رفتاری سے چلانے میں اس "سیال سونا "کا خوب استعمال کیا اور خزانوں کو درہم و دینار سے گراں بار کیا ‌۔
    اس "عاقل ناداں ” نے کائنات کی مخفی طاقتوں کے چہرے پر پڑے پردہ کو اٹھایا اور یارانِ نکتہ داں کے لیے صلاے عام کردیا ، وہ ان طاقتوں سے وہ خدمات  لے رہا ہے،جو ",علاء الدین” اپنے جن سے بھی نہیں لے سکا۔  جب دنیا اپنی وسعتوں کے باوجود اس "عاقل ناداں ” کو تنگ معلوم ہونے لگی تب اس نے دوسرے سیاروں کا  رخت سفر باندھا، شاید وہاں وہ پر کیف زندگی گذار سکے ، اپنے شوق جستجو کو تسکین دے سکے ، اپنی عقل کی قوت  سے اس” ناداں”  نے مریخ کو رام ، اور  چاند کو  قابل آرام بنایا ہے ، کہکشاؤں کی تلا ش میں آج بھی سرگرداں وغلطاں ہے ۔
    حضرت انسان کی طبیعت بھی عجیب ہے ، وہ کسی چیز پر قانع نہیں ، وہ ہر لمحہ جدت وندرت کا طالب ہے ، وہ ہر آن ترقی کا طلب گار ومستقبل  کا امیدوار ہے ،  اس کی آرزوئیں اتنی ہیں ہے کہ ہر آرزو پہ دم  نکلے:
    ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
      بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے
      لیکن ایک وقت آتا ہے ، جب دنیا کی کوئی طاقت وقوت اس کو موت کے پنجۂ استبداد سے نہیں  بچا پاتی ، سائنس وٹیکنالوجی موت کے سامنے سپر ڈال دیتی ہے ، میڈیکل سائنس کی تحقیقات دھری کی دھری رہ جاتی ہیں ” سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارہ "۔ موت اپنا فیصلہ سنا کر اس کی روح کو عالم بالا کے سفر پر روانہ کردیتی ہے اور اس کے جسم فانی کو اسی” مرکب ” میں ملا دیتی ہے جس سے بنا تھا۔ (منها خلقناكم وفيها نعيدكم ومنها نخرجكم تارة أخرى )