Home تجزیہ انصاف میں تاخیر کیوں ؟-شکیل رشید

انصاف میں تاخیر کیوں ؟-شکیل رشید

by قندیل

( ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز )

یہ کیسی پولیس ہے ؟ یہ سوال ضعیف العمر عبدالکریم ٹنڈا کی دہشت گردی کے الزامات سے گیارہ سالوں کے بعد بری ہونے کے بعد کئی ذہنوں میں اُٹھ رہا ہوگا ۔ بھلا کیوں ایک ستّر سالہ شخص کو گرفتار کر کے دہشت گردی کے الزامات میں ماخوذ کیا گیا ، اور جب اُس کی زندگی کے گیارہ قیمتی سال سلاخوں کے پیچھے ضائع ہو گئے تب اُسے چھوڑا گیا ، کیا یہ کام پہلے نہیں کیا جا سکتا تھا ؟ بھلا کون واپس لوٹائے گا ٹنڈا کو اُس کی زندگی کے یہ بیش قیمت سال ؟ یہ سارے سوال بھی لوگوں کے ذہنوں میں اُٹھ رہے ہوں گے ، لیکن یقین رکھیں ان میں سے کسی بھی سوال کا جواب نہیں ملے گا ۔ پولیس اور ایجنسیوں نے نہ پہلی دفعہ یہ کیا ہے اور نہ ہی یہ آخری دفعہ ہے ، یہ اس وقت تک ہوتا رہے گا جب تک پولیس اور ایجنسیاں جواب دار نہیں بنائی جائیں گی ۔ اگر انہیں جوابدار نہیں بنایا جاے گا ، پولیس فورس میں مثبت اصلاحات نہیں کی جائیں گی ، ذہنوں پر پڑے جالے صاف نہیں کیے جائیں گے تو پولیس اور افسران پر نہتے ، بے بس ، غریب ، ستائے ہوئے لوگوں کو پیٹنے اور جان سے مارنے کے الزامات لگتے رہیں گے ، اور یہ اپنے گناہوں کو چھپانے کے لیے جھوٹ پر جھوٹ گڑھیں گے ، جس طرح خواجہ یونس کے معاملے میں جھوٹ گڑھا گیا ہے ۔ پولیس کا کام نہ کسی کی جان لینا ہے ، اور نہ ہی مجرموں کو بچانے کے لیے بےقصوروں کو مجرم بنا کر پیش کرنا ہے ، لیکن پولیس یہی کرتی چلی آ رہی ہے ۔ دنیا دیکھ رہی ہے کہ دہشت گردی کے ماخوذین میں سے اکثر کے معاملات جب عدالت کے سامنے پہنچتے ہیں تو ٹائیں ٹائیں فش ہو جاتے ہیں ، لیکن تب تک ماخوذ کیے گیے لوگوں کی زندگیوں کے قیمتی سال برباد ہو جاتے ہیں ، ٹنڈا کا معاملہ اس کی تازہ ترین مثال ہے ۔ عبدالکریم ٹنڈا پر ملک بھر میں ۴۰ حملوں کے الزامات ہیں ۔ انڈین سیکیورٹی ایجنسی کی مطلوبہ دہشت گردی کی لسٹ میں ٹنڈا کا نام سب سے اوپر تھا ۔ ٹنڈا کو ۱۶ ، اگست ۲۰۱۳ ء میں بھارت نیپال کی سرحد سے گرفتار کیا گیا تھا ، ٹھیک اسی طرح جس طرح دوسرے اردو نام والے پکڑے جاتے ہیں ۔ گرفتاری کے وقت عبد الکریم ٹُنڈا کے نام سے ٹی وی چینلوں اور اخباروں میں بڑا پروپیگنڈا کیا گیا تھا کہ یہ ایک خطرناک آتنکی ہے وغیرہ ۔ کچھ دنوں تک میڈیا میں ٹنڈا ہی کا نام چھایا ہوا تھا اور ہر خبر اس کی تصویر کے ساتھ چھپتی تھی ۔ لیکن اب اسے ۱۹۹۳ ء کے ٹرینوں میں ہوئے سیریل بم بلاسٹ سے بری کردیا گیا ہے ۔ لیکن اب ٹی وی چینل خاموش ہیں ! اگر گرفتاری کا ایسا کوئی ایک آدھ واقعہ ہوتا تو غلطی مان لی جاتی ، لیکن اس طرح نہ جانے کتنے مسلمانوں کی زندگیوں اور خاندانوں کو برباد کیا جاچکا ہے ۔ ایسا ظلم کسی بھی دھرم کے آدمی کے ساتھ کیا جائے ، غلط ہے ، کیا مسلم اور کیا غیر مسلم ! ایک لمبی فہرست ہے جنہیں جیلوں میں سٹرایا گیا ہے ، جیسے کہ واحد شیخ ، مفتی عبدالقیوم ، عامر خان ، حبیب احمد خان ، محمد عبدالحئی اور اُن کے ۱۸ ساتھی ۔ یہ سب اور مزید بہت سارے گیارہ سے لے کر ۲۶ سال تک جیلوں میں رہے ، اس کے بعد انہیں بے گناہ قرار دیا گیا ، لیکن تب تک یہ بوڑھے ہو چکے تھے ۔ کیا یہ انصاف ہے ؟ کیا انصاف کی تیزترین فراہمی کا کوئی نظام نہیں بنایا جا سکتا ؟ کیا جو بری ہوتے ہیں اُن کے لیے کوئی معاوضہ طے نہیں کیا جا سکتا ؟ اور کیا ایسی ناانصافی کے لیے پولیس اور ایجنسیوں کو جوابدہ نہیں بنایا جا سکتا ؟ ان سوالوں کے جواب تلاش کرنے کی ضرورت ہے ۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

You may also like