Home تجزیہ انصاف کمزوروں کے ساتھ نہیں ہوتا-ڈاکٹر عابدالرحمن

انصاف کمزوروں کے ساتھ نہیں ہوتا-ڈاکٹر عابدالرحمن

by قندیل

بابری مسجد کیس میں ہم اسی بات سے دل بہلا رہے ہیں کہ ہمارے ساتھ نا انصافی ہوئی۔ آخر ہم یہ کیوں نہیں سوچتے کہ ہمارے ساتھ نا انصافی کیوں ہوئی؟دراصل کورٹ کو اس بات کا اچھی طرح ادراک ہے کہ ہم سماجی معاشی سیاسی اور ہر ہر پہلو سے اتنے کمزور ہیں کہ نا انصافی پر چوں بھی نہیں کریں گے بلکہ ماموں حضور ممتاز میر بجا طور پر کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ نے بابری مسجد کی جگہ ہندوؤں کو دے کر ہماری ناک کٹنے سے بچالی کیونکہ اگر فیصلہ ہمارے حق میں آبھی جاتا تو کیا ہم اتنے طاقتور ہیں کہ اسے اپنے قبضے میں لے سکتے تھے؟اب ہمیں اپنی اس کمتری پر نا انصافی کا پردہ ڈالنے کے بجائے اسے قبول کرنا اور یہ سوچنا چاہئے کہ ہم سماجی معاشی اور سیاسی اعتبار سے قابل قدر کس طرح بن سکتے ہیں۔ سماجی اور قومی اعتبار سے ہمارے اندر اتحاد کا اتنا زبردست فقدان ہے کہ شاید ہی دنیا کی کسی قوم میں ہو۔ غور فرمائیے۲۲ جنوری کو ہندو قوم کا ہر ہر فرد رنگ نسل ذات پات رسوم ورواج اور دیوی دیوتاؤں تک کے شدید اختلافات کے باوجود ایک تھا شنکر اچاریہ یعنی ہندو دھرم کی اعلی ترین اتھارٹی نے جب پران پرتشٹھا کے عمل کو دھرم شاستر کے اعتبار سے صحیح نہیں قرار دیا پھر بھی لوگ صحیح غلط اور دھرم ادھرم میں نہیں بٹے اور ہم ہیں کہ ہمارے یہاں دین کا فہم کسی کو ہو یا نہ ہو فرقہ واریت کا فہم بدرجہ اتم ہے اس معاملہ میں ہم اتنے ایکسپرٹ ہیں کہ آدمی کی بول چال اور ٹوپی داڑھی کے انداز ہی سے بھانپ لیتے کہ وہ کس مسلک جماعت یا نظریہ فکر کا حامل ہے دین کیا ہے یہ بھلے ہی معلوم نہ ہو لیکن کون سے مسلک اور جماعت والے دین میں شامل ہیں کون خارج یہ ہم میں کے ہر ہر شخص کو بہت اچھی طرح معلوم ہے۔ ویسے دین حق تو ہمارے یہاں کہیں نظر نہیں آتا بس مسالک اور جماعتیں ہیں جن کی پیروی ہم دین سمجھ کر کرتے ہیں، اور ستم بالائے ستم یہ کہ ایک ہی مسلک کے پیروکار بھی مختلف جماعتوں میں بنٹے ہوئے ہیں اور اپنے ہی مسلک کی دوسری جماعتوں کے پیروکاروں کے اتنے دشمن ہیں کہ کافروں کو ان پر ترجیح دیتے ہیں۔جس کی وجہ سے ہمارا سماجی اسٹرکچر اتنا کھوکھلا ہوچکا ہے کہ وہ کسی معمولی چیلنج ہی سے زمین دوز ہوجاتا ہے اور یہ بات کچھ ڈھکی چھپی بھی نہیں ہے اسی لئے ہمارے ساتھ نا انصافیاں کی جارہی ہیں۔

 

اسی طرح ہماری معاشی کمزوری کا علاج خود ہمارے پاس ہے۔ ہماری اپنی یعنی انڈین مسلمانوں کی سالانہ زکوۃ کی رقم شاید کئی کروڑ روپئے ہوگی دوسرے ممالک سے یہاں آنے والی زکوۃ الگ۔لیکن یہ زکوۃ ہمارے چندہ خور امیروں، جعلی فقیروں اور جھوٹے خیرخواہوں کے جیبوں میں چلی جاتی ہے۔ اگر ہم زکوۃ کا اجتماعی نظام قائم کریں اور اسے ہمارے غرباء و مساکین میں اور بے روزگاروں کو روزگار دلوانے میں خرچ کریں تو معاشی کمزوری سے چھٹکارا پایا جا سکتا ہے۔ ہمارا زیادہ زور تعلیم کی طرف ہے ہمارے خیال میں تعلیمی ترقی کے لئے پہلے والدین کو روزگار مہیا کیا جانا چاہئے جس سے بچوں کی تعلیم آسانی سے بہتر کی جاسکتی ہے۔ ہمارا مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہمارے یہاں تعلیم کا جتنا شور ہے تعلیم یافتہ بے روزگار بھی اتنے ہی ہیں کیونکہ انہیں روزگار دینے کے لئے ہمارا اپنا کچھ نہیں ہے نہ صنعت و کارخانہ جات کی طرف ہمارا رجحان ہے اور نہ تجارت کی طرف۔ ہم اپنی زکوۃ کو اس مد میں لگا کر اپنے بیروزگاروں کو روزگار مہیا کرواسکتے ہیں۔اسی طرح ہمارے مال کا بہت بڑا حصہ مساجد کی تعمیر و تزئین میں بھی خرچ ہوجا تا ہے۔مسجد بنانے کے جو انعام و اکرام احادیث نبوی صلی اللہ و علیہ وسلم میں وارد ہوئے ہیں اس سے کسی کافر کو ہی انکار ہو سکتا ہے لیکن اس سے بھی کسی کو انکار نہیں ہونا چاہئے کہ یہ انعام و اکرام ہر فرلانگ پر ایک مسجد اور ایک ہی علاقے میں اپنی اپنی یعنی اپنی اپنی جماعت کی الگ مسجد بنانے کے لئے نہیں ہیں بلکہ یہ تو قومی دولت اور ریسورسیس کا زیاں ہے اور فضول خرچی شیطان کی خصلتوں میں سے ایک بتائی گئی ہے۔ اس مد میں خرچ ہونے والی خطیر رقم بے روزگاروں کو روزگار فراہم کرنے میں لگائی جائے تو بھی ثواب جاریہ کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ بہر حال پیسے کی ہمارے پاس کمی نہیں بس اسے خرچ کرنے کی ترجیحات بدلنی ہوگی۔

 

رہی ہماری سیاسی بے وزنی تو اس کا علاج اتحاد اور سیاسی شعور کی بیداری میں پوشیدہ ہے جیسا کہ مفکر اسلام حضرت مولانا علی میاں ؒ سونے کے فریم میں کندہ کرکے نسل درنسل ٹرانسفر کرنے والی بات فرماگئے ہیں کہ‘‘اگر قوم کو پنج وقتہ نمازی نہیں بلکہ سو فیصدتہجد گزار بنادیا جائے لیکن ا س کے سیاسی شعور کو بیدار نہ کیا جائے اور ملک کے احوال سے ان کو واقف نہ کیا جائے تو ممکن ہے اس ملک میں آئندہ تہجد تو دور پانچ وقت کی نمازوں پر بھی پابندی عائد ہوجائے۔’’پہلے تو ہمیں مذہب اور سیاسیت کی لگی بندھی قیادت کو اسی سیاسی شعور کی بنیاد پر پرکھنا چاہئے جسے علی میاں ؒ بیدار کرنا چاہتے تھے دوسرے ہمیں اس قیادت سے پرے بھی دیکھنا چاہئے تاکہ جوان متحرک اور اہل لوگ بھی آگے بڑھائیں جاسکیں اورہمارے ووٹوںسے اپنی اپنی سیاسی پارٹیوں کی نمائندگی کرنے والے نیزمذکورہ سیاسی شعور کی کسوٹی پر کھرے نہ اترنے والے مسترد کئے جا سکیں ۔ نانصافیاں ہمیشہ کمزوروں کے ساتھ ہی ہوتی ہیں ، طاقتور وں کو انصاف کے لئے دوسروں کی منت سماجت کی ضرورت نہیں پڑتی ، ہمیں اب ناانصافیوں کا رونا چھوڑ کر اتنا مضبوط و طاقتور بننے کی سچی کوشش کرنی چاہئے کہ ہمارے ساتھ ناانصافی کرنے کے لئے سوبار سوچا جائے۔

You may also like