ان کا نکاح مت پڑھائیے۔ ایم ودود ساجد

ایک خبر آئی ہے کہ مفتی عفان منصور پوری نے امروہہ میں ایک نکاح (کا خطبہ) پڑھانے سے انکار کردیا۔ اس شادی میں معلوم ہوا ہے کہ ڈی جے ( ڈسکو جوکی) بجایا گیا تھا۔ یہ خبر عام ہوئی تو دوسرے نکاح خواں حضرات نے بھی نکاح نہیں پڑھایا۔ دولہا دولہن والے ان کی منت سماجت کرتے رہے لیکن وہ "رام” نہیں ہوئے۔ نکاح تو ہونا تھا سو وہ ہوگیا۔ ایک صاحب نے آخرکار دونوں کو "لعنت ملامت” کرکے نکاح پڑھا دیا۔
مجھے مذکورہ علما کا رویہ اچھا لگا۔ آج مجھے ایک ادارہ کے افسرِ اعلی نے دو تازہ واقعات سنائے ۔ ایک شادی میں لڑکی والوں نے دولہا اور بارات کے لیے  دو لاکھ روپے سے زیادہ کی شرٹیں Shirts اور دوسرا ساز وسامان باقاعدہ اسٹیج لگاکر نمائش کےلیے رکھا۔دولہا کے لیے جو کار خریدی گئی تھی اسے تقریب گاہ میں وہاں لے جاکر کھڑا کردیا گیا جہاں کار لے جانے کی ممانعت ہے۔ جب انہیں اس کار کو وہاں سے ہٹانے کےلیے کہا گیا اور اس کےلیے مختص جگہ دی گئی تو خصوصی طور پر منگائے گئے Elevator پر گاڑی کو اونچا کرکے کھڑا کیا گیا ۔
ایک دوسرے واقعہ میں 500 افراد کو انواع و اقسام کے کھانے چاندی کی طشتریوں میں کھلائے گئے ۔ بلا مبالغہ 500 افراد کی خدمت پر ڈھائی سو کارندے مامور کئے گئے تھے۔
ایک تیسرے واقعہ کا تو میں خود گواہ ہوں ۔وہ مہندی والی رسم تین دنوں تک ادا کی گئی۔ 30 سے زیادہ ایر کنڈیشنڈ کمرے کرایہ پر لئے گئے ۔ دہلی سے باہر کے مہمانوں کو مدعو کیا گیا ۔ان سب کے ناز نخرے اٹھائے گئے ۔ اب جب یہ شادی ہوگی تو کیا کچھ نہ ہوگا۔ معلوم نہیں کہ یہاں کوئی مفتی عفان رونما ہوں گے یا نہیں ۔اور ہو بھی گئے تو کوئی "لعنت ملامت” کرکے نکاح پڑھانے والا بھی نمودار ہوہی جائے گا۔
یہ مسلمانوں کے احوال ہیں۔ ایک ڈیڑھ سال کے "کورونائی” حالات نے غریب تو کیا متوسط طبقات کو بھی توڑ کر رکھ دیا ہے۔ ہزاروں افراد کے کاروبار تباہ ہوگئے ہیں ۔ لاکھوں افراد کی نوکریاں چلی گئی ہیں ۔ جن کی نوکریاں باقی ہیں ان کی تنخواہیں کم کردی گئی ہیں ۔ غریب گھرانوں کی بچیاں دلوں میں ارمان لیے بیٹھی ہیں ۔ غریب ماں باپ کے سینوں میں ہوک سی اٹھتی ہے اور وہ راتوں کو اٹھ اٹھ کر بیٹھ جاتے ہیں ۔ ایسے میں اگر یہ چند امیر لوگ بلکہ متمول شیطان چاندی کے برتنوں میں کھانا کھلا رہے ہیں تو علما کے نکاح نہ پڑھانے کے فیصلہ کی بڑے پیمانے پر توسیع ہونی چاہئے ۔ وہ جن صاحب نے امروہہ میں "لعنت ملامت” کے بعد نکاح پڑھادیا ان سے بھی پوچھا جانا چاہیےکہ کیا صرف اتنا کافی تھا؟
اگر ایسے "لعنت ملامت” کرکے نکاح پڑھانے والے ہر شہر میں پائے جانے لگے تو موقر علما کے مذکورہ رویہ اور فیصلہ کا فائدہ کیا ہوگا؟ کیا امروہہ کے نکاح خواں کو یہ نہیں کرنا چاہیےتھا کہ دونوں فریق سے عوامی طور پر اظہار ندامت’ توبہ اور عہد کا مطالبہ کرتے۔ ان سے کہتے کہ جب ان کے پاس ایسے حالات میں بھی ڈی جے بجانے کے پیسے ہیں تو وہ امروہہ کی ایسی دو لڑکیوں کی شادی کا صرفہ اٹھائیں جو واجبی سی رقم نہ ہونے کے سبب بے نکاح گھروں میں بیٹھی ہوئی ہیں؟ کیا تنہائی میں زمین پر گرنے والے ان کے آنسو ایسے اسراف کرنے والوں کےلیے زہریلی بد دعا نہیں کر رہے ہوں گے ؟

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*