Home تجزیہ ہندوستانی مسلمانوں کو در پیش سماجی و اقتصادی چیلنجز اور حل – محمد علم اللہ

ہندوستانی مسلمانوں کو در پیش سماجی و اقتصادی چیلنجز اور حل – محمد علم اللہ

by قندیل

ہندوستان میں مسلم معاشرہ طویل عرصہ سے ملک کے سماجی نظام کا اٹوٹ حصہ رہا ہے۔ لیکن سماجی، اقتصادی اور ثقافتی ترقی میں مسلم سماج کی جانب سے نمایاں شراکت کے باوجوداسے متعدد مسائل اور پریشانیوں کا سامنا ہے۔ یہ مسائل تاریخی، سماجی، اقتصادی اور سیاسی سبھی نوعیت کے ہیں جو ان کی زندگیوں پربری طرح اثر انداز ہورہے ہیں۔ اس جانب حکومت کی توجہ مبذول کرانے کی کوشش کی جاتی ہے تو وہ اپنے مسائل لے کر بیٹھ جاتی ہے جب کہ ہمارے اپنے ارباب حل و عقد بھی دھیان نہیں دیتے۔

جب ہم اس تمام صورت حال کا جائزہ لیتے ہیں تو پاتے ہیں کہ ہندوستان نے نظریاتی ریاست اور آئینی ریاست کے درمیان ہونے والی بحث وتکرارمیں مرکزی حیثیت حاصل کی ہے۔ہم دیکھ رہے ہیں کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران، سماجی اور سیاسی منظرنامے میں اقلیتوں کی مساوی حصہ داری کی عدم موجودگی کی وجہ سے اکثریتی طبقات ایک مضبوط قوت بن گئے ہیں، جس نے خاص طور پر مسلمانوں کی بقا کے لیے پیچیدگیوں میں اضافہ کیا ہے۔ آئینی دفعات اور بین الاقوامی اصولوں کی قابل قدر موجودگی اور نفاذ کے باوجود ہندوستانی مسلمانوں کو سماجی و سیاسی چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں امتیازی سلوک، تعصب، فرقہ وارانہ فسادات اور سیاست اور میڈیا میں کم نمائندگی شامل ہے۔ بہت سے ہندوستانی مسلمانوں کو تعلیم کی کم سطح اور معاشی مواقع تک محدود رسائی کی وجہ سے غربت اور بے روزگاری کا سامنا ہے۔

2011-12 میں مسلمانوں میں بے روزگاری کی شرح 6.3 فیصد تھی، جبکہ قومی اوسط 5.4 فیصد تھا۔ یہ ہندوستان کی ملازمت کے بازار میں مسلمانوں کے لیے محدود مواقع کا ایک تشویشناک اشارہ ہے،اس نے صحت کی دیکھ بھال اور معیاری تعلیم جیسی بنیادی سہولیات تک رسائی سمیت ان کی ترقی اور تعمیر میں رکاوٹ ڈالی ہے۔ جب بات معیاری صحت کی نگہداشت تک رسائی کی ہوتو دیہی علاقوں میں رہنے والے مسلمانوں کے متاثر ہونے کے امکانات زیادہ ہیں، جہاںنگہداشت صحت کی خدمات محدود ہیں۔ 2011-12 کے نیشنل سیمپل سروے کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ ملک میں نگہداشت صحت کی خدمات تک مسلمانوں کی رسائی سب سے کم تھی، صرف 23.4 فیصد مسلمانوں کو طبی سہولیات تک رسائی حاصل تھی جبکہ قومی اوسط 34.6 فیصد تھا۔

معاشی طورپر خود مختار اور خوشحال نہ ہونے کی وجہ سے بھی مسلما ن اپنے بچوں کو پرائمری اور انٹرمیڈیٹ تک تعلیم کے لیے مدارس اور سرکاری اسکولوں میں بھیجنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ ڈگری حاصل کرنے والے طلبہ کی اکثریت مالی مجبوریوں اور خاندان کی کفالت کی ضرورت کی وجہ سے اپنی پڑھائی بند کرنے پر مجبور ہے۔ 2011-12 کے نیشنل سیمپل سروے کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ مسلمانوں کی خواندگی کی شرح 68.5 فیصد تھی، جبکہ قومی اوسط 74.04 فیصد تھا۔ اسی طرح ابتدائی تعلیم میں مسلم طلبہ کے داخلہ کا مجموعی تناسب 87.6 فیصد کے قومی اوسط کے مقابلے میں 71.5 فیصد تھا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ مسلم طلبہ معیاری تعلیم تک رسائی حاصل نہیں کر پا رہے ہیں، جو سماجی و اقتصادی نقل و حرکت کے لیے ضروری ہے۔ 2011-12 کے نیشنل سیمپل سروے کے مطابق مسلمانوں کی شہری غربت کی شرح 28.3 فیصد تھی، جبکہ قومی اوسط 19.7 فیصد تھا۔ اسی طرح دیہی علاقوں میں مسلمانوں میں غربت کی شرح 30.7 فیصد تھی جبکہ قومی اوسط 24.7 فیصد تھا۔ یہ اس حقیقت کی واضح یاد دہانی ہے کہ ہندوستان میں مسلمان غیر متناسب طور پر غریب ہیں، غربت کی سطح قومی اوسط سے کہیں زیادہ ہے۔

ہندوستانی مسلمان اکثر اپنی روزمرہ کی زندگی کے مختلف پہلوؤں بشمول روزگار، رہائش اور عوامی خدمات تک رسائی میں امتیازی سلوک اور تعصب کا سامنا کرتے ہیں۔ اس کی وجہ سے ہندوستان کے ہر شہر میں مخصوص مقامات پر علیحدگی اور گھیٹوں پر مشتمل بستیوں کی تشکیل ہوئی ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں سماجی تفریق میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے اور اس نے سماجی سطح پر عدم تحفظ کا احساس پیدا کیا ہے۔ مسلمانوں اور دیگر مذہبی برادریوں کے درمیان فرقہ وارانہ تناؤ کے نتیجے میں بعض اوقات فرقہ وارانہ تشدد بھی ہوا ہے۔ یہ تناؤ ہمیشہ سے ہی ہندوستانی سیاست میں ایک تکلیف دہ مقام رہا ہے اور گزشتہ چند سالوں میں مسلمان بہت سے واقعات میں تشدد کا نشانہ بنے ہیں۔

آزادی کے بعد سے ہندوستانی مسلمانوں کا سب سے بڑا مسئلہ سیاسی نمائندگی کی کمی ہے۔ ہندوستانی مسلمانوں کی سیاست اور حکومت میں اکثر نمائندگی کم ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں ان کے مفادات اور ضروریات کے لیے بھرپورنمائندگی نہیں ہوپاتی۔ ملک کی سب سے بڑی اقلیت ہونے کے باوجود، ہندوستانی مسلمانوں کی سیاسی اداروں اور اقتدار کے اعلیٰ دفاتر تک رسائی بہت محدود ہے۔ مسلمانوں کے پاس اس وقت پارلیمنٹ کے ایوان زیریں (لوک سبھا)میں 543 میں سے صرف 23 نشستیں ہیں، جو کل کے 5% سے بھی کم ہیں۔ اسی طرح ان کے پاس پارلیمنٹ کے ایوان بالا (راجیہ سبھا) میں 245 میں سے صرف 29 نشستیں ہیں، جو کل کے 12 فیصد سے بھی کم ہیں۔ یہ کم نمائندگی ان کی آبادی کی قدرکے بالکل برعکس ہے اور ہندوستان میں سیاسی اقتدار سے مسلمانوں کو باہر رکھنے کی سوچ کو نمایاں کرتی ہے۔

ہندوستانی معاشرے میں مسلمانوں کے بارے میں سماجی دقیانوسی تصورات بھی پائے جاتے ہیں، جو سماج کے خلاف تعصب اور امتیازی سلوک کا باعث بنتے ہیں۔ ہندوستانی مسلمانوں کو اکثر سخت نگرانی اور حفاظتی اقدامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے حراست میں لے کرانھیں ہراساں کرنا بھی شامل ہے۔ میڈیا میں خاطر خواہ نمائندگی کے فقدان نے ان کے تعلق سے سماج میں غلط معلومات پھیلانے کی راہ ہموار کی ہے۔ مسلم سماج کو مین اسٹریم کی میڈیا اور مقبول ثقافت میں کم نمائندگی دی جاتی ہے۔پھر میڈیا میں ان کے خلاف منفی دقیانوسی تصورات کو فروغ دیا جاتا ہے۔

حکومت، معاشرہ اور میڈیا کو مسلمانوں کو درپیش سماجی اور سیاسی خدشات کودور کرنے کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔ ایسا کرنے کے کئی طریقے ہیں، جیسے معاشی عدم مساوات کو کم کرنے کے لیے قانون سازی کی وکالت، سیاسی نمائندگی میں اضافہ، منفی دقیانوسی تصورات کا مقابلہ کرنا، بین المذاہب رابطے کو فروغ دینا اور تمام افراد کے حقوق اور وقار کی ضمانت دینا۔

تعلیم اور ملازمت کے تربیتی پروگراموں تک رسائی کے ساتھ ساتھ ایسی پالیسیاں جو مسلم اکثریتی برادریوں میں معاشی ترقی کو فروغ دیتی ہیں، ہندوستانی مسلمانوں کو ان کی اقتصادی حالت کو بہتر بنانے میں مدد فراہم کرسکتی ہیں۔ ہندوستانی مسلمانوں کے خلاف تعصب کو تعلیم اور عوامی بیداری کی مہموں کے ساتھ ساتھ مذہبی امتیاز کو روکنے والے قوانین کے نفاذ کے ذریعے کم کیا جا سکتا ہے۔ بین المذاہب رابطے اور افہام و تفہیم کو فروغ دینا، نیز قانون کی حکمرانی کو مضبوط بنانا اور فرقہ وارانہ تشدد کے ذمہ داروں کو جوابدہ ٹھہرانا، یہ سب فرقہ وارانہ کشیدگی کو کم کرنے اور خونریزی سے بچنے میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔مسلم سماج کے منفرد مسائل کو حل کرنے والی پالیسیوں کو فروغ دے کر بھی مسلمانوں کی سیاسی نمائندگی کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ تعلیم اور میڈیا مہمات کے ذریعے منفی تصورات کا مقابلہ کرنے سے ہندوستانی مسلمانوں کے خلاف منفی تاثرات کو ختم کرنے میں کافی مدد مل سکتی ہے۔

آخر میں ہندوستانی مسلمانوں کو درپیش بہت سے چیلنجوں کے باوجود حکومتی اقدامات، پالیسی حل اور عوامی بیداری کی مہموں کے امتزاج کے ذریعے ان مسائل کو حل کرنا سب کے لیے ایک زیادہ جامع اور مساوی معاشرہ بنانے میں مدد کر سکتا ہے۔ اس میں معاشی ترقی کو فروغ دینا، تعصب اور امتیاز کا مقابلہ کرنا، بین المذاہب رابطے اور افہام و تفہیم کو فروغ دینا، قانون کی حکمرانی کو مضبوط کرنا اور ہندوستانی مسلمانوں کی سیاسی نمائندگی کو یقینی بنانا شامل ہو سکتا ہے۔ اس طرح کے قدم اٹھا کر ہندوستان ایک ایسے مستقبل کی تعمیر سکتا ہے جہاں اس کے تمام شہری چاہے ان کا مذہب یا پس منظر کچھ بھی ہو، مساوی حقوق، مواقع اور وقار سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

You may also like

Leave a Comment