ہندوستانی مسلمان: قانون و انصاف کی مشکل راہیں کیسے آسان ہوں گی؟ -یعقوب مرتضی

( طالب علم شعبۂ قانون، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی)
Email. yaqoobmurtaza99@gmail.com
رابطہ: 9580556292

بھارت کے آئین نے بھلے ہی سب کے ساتھ عدل، مساوات اور برابری کا حکم دیا ہو اور اس بات کی گارنٹی دی ہو کہ آزادی کے بعد سب کو یکساں قانونی تحفظات فراہم کیے جائیں گے؛ لیکن اس صداقت کے باوجود یہ ایک تاریخی تلخ حقیقت ہے کہ اقلیتوں؛ خاص کر مسلمانوں کے ساتھ عملی طور پر عدل و مساوات کا وہ پیمانہ قائم نہیں کیا گیا جس کے وہ حق دار تھے۔ لہذا وہ اپنے ہی ہاتھوں آزاد کرائے اپنے ہی ملک میں خوف کے سائے تلے زندگی کی صبح و شام گزارتے ہیں، ظلم و زیادتی، استحصال اور ناانصافی کے شکار ہوتے رہتے ہیں۔ کبھی ملک کے لئے ان کو خطرہ بتاکر انہیں برسوں جیلوں میں بند رکھا جاتا ہے، تو کبھی اسلامی دہشت گردی کے نام پر، تو کبھی یو اے پی اے ( UAPA) اور این ایس اے لگا کر ان کی آزادی سلب کر لی جاتی ہے اور ناانصافی کی حدیں تو یہاں تک پہنچ چکی ہیں کہ ان کے لباس، ان کے کھانے پینے، ان کے طرز زندگی حتی کہ مسلم نام سے بھی، اب ہمارے برادران وطن کے ایک بڑے طبقے کو نفرت ہونے لگی ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے مسلمان ہونا ہی جرم بن گیا ہو۔ مسلمانوں کے لیے عدل و انصاف کی رہگزر کتنی مشکل ہوگئی ہے، اس کا اندازہ ملک میں رونما ہونے والے پے درپے واقعات کی روشنی میں لگایا جا سکتا ہے۔

(1) کیرالہ کے ایک صحافی صدیق کپن جو کے ہاتھرس میں دلت لڑکی کے ساتھ ہوئے ریپ معاملے کی رپورٹنگ کرنے آئے تھے ان کے خلاف امن و شانتی بگاڑنے کا جھوٹا الزام لگا کر انہیں جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھیج دیا جاتا ہے، طرح طرح کی اذیتیں دی جاتی ہیں اور یوپی سرکار کی طرف سے پانچ ہزار صفحات پر مشتمل ضخیم چارج شیٹ پیش کیا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر کسی سنسنی خیز معاملے کی رپورٹنگ کرنے سے اگر ماحول بگڑتاہے تو صدیق سے پہلے اور بعد میں بھی بہت سے پترکاروں نے رپورٹنگ کی پھر ان سے ماحول کیوں نہیں خراب ہوا؟ ذرا اندازہ لگائیے کہ یوپی سرکار کی طرف سے صدیق کے خلاف کیسے کیسے بے بنیاد الزامات لگائے گئے ہوں گے کہ اس کے لیے پانچ ہزار صفحات پر مشتمل چارج شیٹ داخل کرنے کی ضرورت پڑی۔ سچائی یہ ہے کہ کیس سے ایک مسلمان نام جڑا ہوا ہے اس لئے اس کے خلاف جھوٹے الزامات کا ایک پلندہ تیار کر کے اسے پھنسانے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ حقیقت پر پردہ پڑ جائے۔

(2) اسی سال جنوری میں ایک طرف کامیڈین منور فاروقی کو ایک کامیڈی شو کے دوران مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا جب کہ وہ مزاحیہ بات جس کو بنیاد بنا کر انہیں گرفتار کیا گیا وہ انہوں نے کبھی بولی ہی نہیں،پھر بھی انہیں ایک ماہ سے زیادہ جیل میں رکھا گیا، دوسری طرف نرسنگہانند نے کھلے عام حضور صلعم کی شان میں گستاخی کی  اور بارہا مسلمانوں کے جذبات سے کھلواڑ کیا؛ لیکن پھر بھی کھلے عام گھومتا رہا، برملا زہر اگلتا رہا اور گرفتارنہیں کیا گیا،جو قانون کے یکساں نفاذ پر سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔ نیز دو مختلف مذاہب کے لوگوں کے مابین قانون کا یہ دوہرا معیار اگر ایک طرف قانون پر لوگوں کے اعتماد کو کمزور کرتا ہے تو وہیں دوسری طرف سماج کے کمزور طبقے کو اس خوف میں مبتلا کر دیتاہے کہ قانون ان کے لئے شیر کے مانند ہے اور طاقتور طبقے کے لیے بلی کے مانند۔

(3) حال ہی میں جہاں پوری دنیا کرونا سے لڑ رہی تھی وہیں ہمارے ملک میں دیکھنے کو ملا کہ ملک کے مختلف علاقوں میں اذان پر پابندی کا مطالبہ کیا گیا جیسا کہ الہ آباد یونیورسٹی کی وائس چانسلر سنگیتا سری واستو نے ڈی ایم (DM) کو ایک خط میں لکھا کہ اذان سے ان کی نیند میں خلل پڑتا ہے اور نتیجتاً وہاں کی مقامی مسجد کے مائک کی آواز کو کم کر دیا گیا ۔ کچھ ایسا ہی واقعہ اعظم گڑھ اور دیگر علاقوں میں پیش آیا جہاں اذان پر پابندی کا مطالبہ کیا گیا ۔ سوال یہ ہے کہ یہ کیسی آزادی ہے کہ  پابندی لگائی جا رہی ہے؟ ہندو برادری کی یہ کیسی مذہبی رواداری ہے؟ اور مسلمانوں کے مذہبی امور کا یہ کیسا احترام ہے کہ ایک سے دو منٹ تک کہی جانے والی اذان بھی کانوں پہ گراں گزرتی ہے اور اس سے خلل ہونے لگتا ہے؟ واقعہ یہ ہے کہ پریشانی آواز سے نہیں ہے ورنہ تو بہت سی دوسری بے ہنگم آوازیں شہروں ہی نہیں بلکہ دیہاتی علاقوں میں ہمہ وقت گونجتی رہتی ہیں لیکن نہ تو کسی کو کوئی تکلیف ہوتی ہے اور نہ ہی نیند میں خلل پڑتا ہے۔ ان کی اصل پریشانی اذان سے ہے، مسلمانوں کے مذہبی امور سے ہے۔

(4) اسی ناانصافی سے جڑا ایک اور کڑوا سچ تب سامنے آیا جب سیمی (SIMI) سےجڑے ہونے کے الزامات میں 127 لوگوں کے حق میں سورت کی ایک عدالت نے 20 سال بعد رہائی کا فیصلہ سنایا۔ بیس سالوں بعد عدالت اس نتیجے پر پہنچی کہ ان کے خلاف لگائے گئے سارے الزامات بے بنیاد تھے۔ لیکن کیا آج ان کے ساتھ انصاف ہوا؟ بالکل نہیں ۔دیر سے ملا ہوا ہر انصاف نا انصافی ہے۔ بیس سال کسی بے بنیاد معاملے کی سچائی جاننے میں لگ جانا فوجداری نظام پہ سوالیہ نشان لگاتا ہے۔ یہ کیسا نظامِ انصاف ہے جس میں وقت پر سچائی سامنے نہیں آتی ؟ بیس سال ایک انسان کی زندگی کی اچھی خاصی عمر ہے اور اس بات کا واضح ثبوت یہ کیس خود ہے جس میں بری ہونے والے 127 لوگوں میں سے پانچ افراد کی موت اس لمبے مقدمے کی سماعت کے دوران ہی ہوگئی ۔ قانون بھلے ہی یہ بات کہتا ہو کہ جس انسان کے خلاف الزامات ثابت نہیں ہوئے وہ انسان بے گناہ اور معصوم ہے لیکن کیا عدالت سماج کی نگاہوں میں اسے بے گناہ ثابت کر پائے گی؟ کبھی نہیں. کیونکہ جس انسان کے خلاف ایک بار کسی جرم میں ملوث ہونے کا الزام لگ گیا، پھر بھلے ہی الزام بے بنیاد ثابت ہوجائے لیکن وہ انسان ہمیشہ ہمیش کے لئے سماج کی نگاہوں میں مجرم بن جاتا ہے۔ یہی ہمارے سماج کی سچائی ہے جو ہمیں تسلیم کرنا ہی ہوگی۔
بری ہونے والے لوگوں میں سے 122 جو اب بھی زندہ ہیں ان میں سے اکثر و بیشتر پڑھے لکھے تھے۔ کوئی کسی یونیورسٹی کے پروفیسر تھے تو کوئی افسر تو کوئی کسی اور دوسری ملازمت سے جڑے ہوئے تھے، ان کی نوکریاں چلی گئیں، انہوں نے بیس سال عدالت کے چکر لگائے، لاکھوں روپے خرچ کیے، ان کو اور ان کے خاندان والوں کو برسوں ذہنی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا، ان کی خوشی چھین لی گئی، جسمانی سکون غارت کیا گیا۔ کیا ہماری عدلیہ کے پاس ان کے قیمتی 20 سالہ عرصے اور اس میں انصاف کے لیے کی گئی تگ ودو کا کوئی معاوضہ ہے؟! یقینا نہیں ہے۔ یہ ایسی کھلی ہوئی نا انصافی ہے جس میں سوائے افسوس کے کچھ ہاتھ نہیں آنے والا۔

(5)عرفان کی کہانی بھی افسوسناک ہے جن کو ممبئی ہائی کورٹ نے17 جون کو تمام یو اے پی اے (UAPA) چارجز ختم کرتے ہوئے رہائی دی۔ انہیں اپنی بے گناہی ثابت کرنے اور عدالت کو انہیں بے گناہ پانے میں زندگی کے قیمتی نو سال لگ گئے۔ مشہور پترکار روش کمار نے اپنے پرائم ٹائم میں صحیح سوال پوچھا تھا کہ "کیا ان نو سالوں میں عدالت اپنا کام کر رہی تھی یا عدالت سے اپنا کام کرایا جا رہا تھا؟‘‘۔

(6) اسی عالمی وبائی مرض کرونا کو جہاں پوری دنیا وائرس بتا رہی تھی وہیں یہ بھی مشاہدہ کرنے کو ملا کہ سرکار اپنی ناکامی کو چھپانے کے لئے تبلیغی جماعت والوں کو بد نام کرتی رہی، ان پر کرونا پھیلانے کے جھوٹے الزامات لگا کر انہیں ملک کے مختلف جیلوں میں بند کیا گیا، انہیں کرونا جہادی اور نہ جانے کیا کیا کہا گیا جس کی بعد میں ملک کی مختلف عدالتوں نے شدید لفظوں میں مذمت کی۔ تصویرکا دوسرا رخ یہ ہے کہ جب ملک کے مختلف علاقوں اور شہروں سے مہا کمبھ میلے میں شرکت کے لیے لاکھوں کی تعداد میں لوگ جو در جوق گئے، جہاں نہ دو گز دوری، ماسک ہے ضروری جیسے قانون کا خیال رکھا گیا بلکہ کھلے عام بھیڑ جمع ہوئی اور ڈزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ کی کھلے عام خلاف ورزی کی گئی تو اسے آستھا کا مسئلہ بتا کر چپی سادھ لی گئی۔ ان پر کرونا وائرس پھیلا نے کا کوئی الزام اور نہ ہی کوئی قانونی کاروائی کی گئی۔ جبکہ سچائی یہ ہے کہ اس کمبھ میں سینکڑوں لوگ کرونا پوزیٹیو پائے گئے۔

(7)”لو جہاد” کے نام پر بھی مسلمانوں کو ٹارگٹ کیا گیا اور وقتا فوقتا کیا جاتا رہتا ہے۔ اس سیاسی ہتھکنڈے کے شکار بہت سے مسلم نوجوان اب بھی پس دیوار زنداں ہیں، ان کی فیملی کو ہراساں کیا جارہا ہے اور معاشرے میں ان کی زندگی اجیرن بنا دی گئی ہے۔

یہ سب کی سب نا انصافی اور عدلیہ و انتظامیہ کے عملی نفاق و تعصب کی ایسی منہ بولتی تصویریں ہیں، جن سے اس بات کا اندازہ لگانا آسان ہو جاتا ہے کہ مسلمانوں کے لیے قانون کی رہگزر کتنی مشکل اور پر خطر ہے۔ اگر سڈیشن لا ( sedition law) یو اے پی ایے (UAPA) اور ان جیسے دیگر غیر قانونی ایکٹس کی بات کی جائے تو وہ صرف اور صرف سرکار کی غلط پالیسیوں پر تنقید کرنے والے اور خاص کر مسلم آواز کو دبانے کا مضبوط ہتھیار بن چکے ہیں۔ میرے خیال میں ان کو ختم ہونا چاہیے۔ حالیہ برسوں میں جس طریقے سے ان قوانین کا بے جا استعمال کیا گیا ہے، وہ سب کے سامنے عیاں ہے، ابھی دو روز قبل دہلی ہائی کورٹ نے اسٹوڈنٹس اکٹیوسٹس نتاشا نروال، دیونگنا کلیتا اور آصف اقبال تنہا کو بیل دیتے ہوئے "دہشت گردی” اور "پروٹسٹ” کے مابین جس فرق کو واضح کیا ہے، وہ یقینا ایک قابل ستائش قدم ہے اور امید کی کرن بھی۔ لیکن سرکار کورٹ کے اس بیان پر آئندہ دھیان دے گی یا اسے پس پشت ڈال دے گی، کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ کورٹ نے کہا؛ "ایسا لگتا ہے کہ اسٹیٹ کی نگاہ میں جو مخالف آوازیں ہیں ،ان کو دبانے کے چکر میں، حق احتجاج اور دہشت گردانہ عمل کے درمیان کا جو فرق ہے وہ کچھ نہ کچھ دھندلا ہوتا جارہا ہے، اگر یہ مائنڈ سیٹ عام ہوجاتا ہے تو ڈیموکریسی کے لیے وہ ایک غمناک دن ہوگا‘‘۔

ایسے خوفناک ماحول میں مسلمانوں کو چاہیے کہ ان تمام مسائل کا جامع حل تلاش کریں۔ وہ اپنے بچوں کو ہر شعبے میں اعلیٰ تعلیم دیں، آبادی میں اپنے تناسب کے مطابق ہر میدان میں پائے جانے والے خلا کو پر کریں، اپنے بچوں کو دیگر شعبوں میں باکمال بنانے کے ساتھ بڑی تعداد میں انھیں وکیل اور جج بھی بنائیں؛ تاکہ وہ آپ کے لیے قانون و عدل کی رہ گزر کو آسان بنا سکیں، آپ کے بنیادی اور انسانی حقوق کی حفاظت ہو سکے۔ ایک وقت بھوکے سونے کی ضرورت پڑے تو سو جائیں؛ لیکن اپنے بچوں کو قانون کا ماہر ضرور بنائیں، اسی میں کامیابی پا کر آپ کے موجودہ مسائل کا حل نکلے گا اور قانون و انصاف کی مشکل راہیں آسان ہوں گی۔