ہندوستانی باکسروں کی شاندار کارکردگی کے نام رہا یہ سال

نئی دہلی :
ہندوستانی باکسروں کے لیے یہ سال کامیابیاں حاصل کرنے والا رہا جس میںامت پنگھال نے سب سے زیادہ متاثر کیا۔ اس کے ساتھ ہی ڈوپنگ معاملے میں باکسر کا نام آنے سے ایک بار پھر شرمشار ہونا پڑا تو وہیں اولمپکس کوالیفکیشن کے لئے ٹیم کا انتخاب بھی تنازعات میں رہا۔مثبت پہلوؤں کی بات کریں تو 23 سال کے پنگھال مرد عالمی چمپئن شپ میں چاندی کا تمغہ جیتنے والے پہلے ہندوستانی کھلاڑی بنے جبکہ چھ بار عالمی چمپئن میریکام بھی فارم میں رہیں۔بین الاقوامی سطح پر کئی ہندوستانی باکسر نے تمغہ اپنے نام کئے۔پیشہ ورانہ سرکٹ میں وجیندر سنگھ کا جیت کا سلسلہ اس سال بھی جاری رہا۔اولمپکس کوالیفکیشن کے لئے منتخب کی گئی ٹیم میں میریکام تنازعات میں رہیں جبکہ نیرج پھوگاٹ (خواتین) اور سمت سانگوان (مرد) کے ڈوپ ٹیسٹ میں ناکام ہونے سے ہندوستانی باکسنگ کو جھٹکا لگا۔یورپ میں پنگھال نے 49 کلوگرام وزن کے زمرے میں طلائی تمغہ جیتا۔سابق جونیئر عالمی چمپئن نکہت زرین اور مینا کماری بھی اس ٹورنامنٹ میں سب سے اوپر رہیں۔نکہت اولمپکس کوالیفکیشن کے لئے میریکام سے ٹرائل کرنے کا مطالبہ سرخیوں میں رہا۔پنگھال نے اس کے بعد اولمپکس کے خواب کو پورا کرنے کے لئے مارچ میں 52 کلوگرام وزن کے زمرے میں کھیلنے کا فیصلہ کیا۔وہ حالانکہ شروع میں تھوڑے نروس تھے لیکن نتائج پر اس کا اثر نہیں دکھا۔انہوں نے اپریل میں ایشیائی چمپئن شپ میں سونے کا تمغہ جیت کر اپنی برتری ثابت کی۔پوجا رانی نے بھی سٹریدجا میموریل میں طلائی تمغہ جیت کر اپنی شناخت بنائی۔اس کے بعد ستمبر-اکتوبر میں عالمی چمپئن شپ سے اولمپک کوالیفکیشن کا درجہ چھین لیا گیا۔ٹورنامنٹ کے لئے ہندوستانی خاتون ٹیم کے انتخاب کو لے کر تنازعہ ہوا کیونکہ نکہت نے اس کے لیے ٹرائل کا مطالبہ کیا۔ حالانکہ اس کا زیادہ اثر نہیں پڑا کیونکہ انڈیا اوپن اور انڈونیشیا میں ہوئے ٹورنامنٹ اور قومی کیمپ میں کارکردگی کی بنیاد پر میریکام کا انتخاب ہوا۔عالمی چمپئن شپ میں مردوں کے زمرے میں پنگھال نے فائنل میں پہنچ کر تاریخ بنائی جبکہ منیش کوشک (63 کلوگرام) نے کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔یہ عالمی چمپئن شپ میں ہندوستان کی بہترین کارکردگی بھی رہی۔ اس چاندی کے تمغہ نے پنگھال کو ٹاپ ہندوستانی باکسروں میں شامل کر دیا۔منجو رانی (خواتین 48 کلو) کو خود کی شناخت بنانے کی خواہش نے باکسنگ دستانے پہننے کو حوصلہ افزائی کی اور رنگ میں اترنے کے بعد انہوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔پہلی بار خواتین ورلڈ چمپئن شپ میں حصہ لینے والی 20 سالہ منجو کو فائنل میں شکست کے بعد چاندی کے تمغہ سے اکتفا کرنا پڑا۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*