Home تجزیہ کیا پانچ ریاستی اسمبلی الیکشنز میں انڈیا اتحاد اپنی موجودگی درج کرا پائے گا ؟ -نہال صغیر

کیا پانچ ریاستی اسمبلی الیکشنز میں انڈیا اتحاد اپنی موجودگی درج کرا پائے گا ؟ -نہال صغیر

by قندیل

آنے والے نومبر میں میں ملک کی پانچ ریاستوں میں ہونے جارہے انتخابی عمل سے انڈیا اتحاد کا کچھ بھلا ہوپائے گا ؟ کیا انڈیا اتحاد بی جے پی اور مودی حکومت کے غرور کو توڑنے میں کامیاب ہوپائے گا ۔ جوش میں کہیں تو بس ایک جملہ کہ انڈیا اتحاد مودی یا بی جے پی حکومت کو دھول چٹائے گا ، لیکن کیا یہ ممکن ہے ؟ کوئی بھی ہدف تک پہنچنا اسی وقت ممکن ہوپاتا ہے جب ہدف تک جانے والا پرعزم ہو ، وہ راہوں میں آنے والی کسی مشکلات کو خاطر میں نہ لائے اور مخالفین کو منھ توڑ جواب دے سکے یا الیکشن کے تناظر میں یہ کہیں گے کہ وہ عوام کو مخالفین کی خامیوں ست روشناس کراسکے ، وہ بتاسکے کہ موجودہ حکومت نے ملک و قوم کا کتنا نقصان کیا ہے ؟ ابھی تک کی پوزیشن حزب اختلاف یعنی انڈیا اتحاد سے جڑی پارٹیوں کا یہ رہا ہے کہ وہ بی جے پی کے سامنے گھگیانے کے سوا کچھ نہیں کرپاتی تھیں ۔ موجودہ حکومت کے قول و عمل کا تضاد انہوں نے کامیابی سے عوام کے سامنے پیش ہی نہیں کیا ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ بی جے پی مودی و شاہ کی قیادت میں کامیابی کے ساتھ سرپٹ دوڑ لگاتی رہی اور اپوزیشن شکست خوردگی کے احساس سے اپنا وجود تسلیم کرانے میں ناکام رہی ۔ لیکن ادھر کچھ ماہ سے حالات میں کچھ تبدیلی محسوس ہورہی ہے اور اپوزیشن میں کچھ جان سے آرہی ہے ۔ ان میں مقابلہ کرنے کی اس قوت میں کرناٹک الیکشن کے نتائج کے بعد کچھ زیادہ ہی اضافہ ہوگیا ہے ۔ اصل شئے انسان کے اندر پائی جانے والی جرات ہے یہ جس میں پیدا ہوگئی اس نے میدان مار لیا۔حالانکہ موجودہ حکومت اپوزیشن کو ہراساں و کمزور کرنے کے لیے سرکاری اداروں کا استعمال کررہی ہے ۔ابھی کی حزب اختلاف کی کیفیت یہ بتارہی ہے کہ انہوں نے ڈر کو پیچھے چھوڑ دیا ہے اور مقابلہ کےلیے کمربستہ ہیں ۔بس یہی جذبہ حکومت کی پیشانیوں پر نمودار ہونے والے پسینوں کے قطروں کی اصل وجہ ہے ۔حرکت میں ہی زندگی ہے اور آخری لمحوں تک جد و جہد کرنے والے ہی کامیاب ہوتے ہیں یا اگر کامیاب نہ بھی ہوں تو وقار کے ساتھ جینے کا حق انہی کو ہے ۔ ؎ چلنے والے نکل گئے ہيں /جو ٹھہرے ذرا، کچل گئے ہيں۔

پانچ اسمبلی حلقوں میں انتخاب کا اعلان کردیا گیا ہے اسی کے ساتھ انتخابی ضابطہ اخلاق کا نفاذ بھی ہوگیا۔اسمبلی کے الیکشن ۷؍نومبر سے چھتیس گڑھ اور میزورم سے شروع ہوں گے اور ۳۰؍نومبر کو تلنگانہ کے الیکشن کے ساتھ اختتام کو پہنچیں گے ۔چھتیس گڑھ کے علاوہ چاروں اسمبلی حلقوں یعنی میزورم ، مدھیہ پردیش، راجستھان اور تلنگانہ میں ایک ہی مرحلہ میں انتخابی عمل پورا ہوگا جبکہ چھتیس گڑھ میں دو مرحلوں میں انتخابات ہوں گے ۷؍اور ۱۷؍ نومبر کو ۔ بی جے پی کے پاس منافرتی سیاست کے علاوہ کوئی دوسرا طریقہ کار نہیں ہے کہ وہ عوام کو اس طرف راغب کرے ، اس کی کوشش ابتدا سےیہی رہی ہے کہ وہ فرقہ وارانہ خطوط پر انتخابی نتائج پر اثر انداز ہو۔ اس نے اقتدار کے حصول کے لیے ہمیشہ منفی طریقہ کار اپنایا ۔حالانکہ ۲۰۱۴ میں بدعنوانی کو اہم مسئلہ کے طور پر پیش کرکے یو پی اے کی حکومت کا خاتمہ کردیا لیکن اس کے دور میں نا تو بدعنوانی کا خاتمہ ہوا اور نا عوام کو کسی قسم کی سہولیت دستیاب ہوئی ۔ اس کے برعکس بدعنوانیوں کا بول بالا ہوا اور عوام مہنگائی سمیت بہت سے مسائل سے جان بلب ہو رہے ہیں، مگر بی جے پی نے نفرت کو کچھ یوں ہوا دیا کہ عوام اس کی ناکامیوں اور اپنی پریشانیوں کی جانب زیادہ توجہ نہیں دے پائے۔ پھر ۲۰۱۹ کا الیکشن بی جے پی کے لیے بہت زیادہ مشکلات سے بھرا ہوا تھا ۔ کشمیرکے پلوامہ میں ہونے والے سی آر پی ایف کی گاڑی پر فدائی حملہ نے بی جے پی کی نیم مردہ رگوں میں زندگی کی رمق دوڑا دی ، اور یوں ۲۰۱۹ کے الیکشن میں بی جے پی نے بازی مار لی ۔۲۰۱۹ کے الیکشنی نتائج نے ہمیں یہ نتیجہ اخذ کرنے کو مجبور کیا کہ یہاں کے عوام دماغی طور پر معذور ہیں ۔ اگر وہ دماغی طور پر مفلوج نہیں ہوتے تو محض ایک اختراعی جذباتی ماحول میں اپنے آپ کو نہ بہاتے ، جس کا نتیجہ پورے پانچ سال انہوں نے وہ بھگتا ہے جس کا تصور محال ہے ۔ پتہ نہیں اس ملک کے شہریوں کا سیاسی شعور کب بالغ ہوگا ۔

سچ تو یہ بھی ہے کہ ۲۰۱۹ میں بی جے پی کے خلاف حزب اختلاف نے وہ مضبوطی اور جرات و بیباکی کا مظاہرہ نہیں کیا جس کا تقاضہ تھا ۔اپوزیشن کی ساری پارٹیاں نیم مردہ نظر آتی تھیں ، انہوں نے خوف کی وجہ سے پلوامہ سانحہ پر دوٹوک رویہ نہیں اپنایا جس کی وجہ سے الیکشن کی مہم میں بھی وہ جوش و جذبہ نہیں دیکھا گیا ۔شاید انہوں نے یہ مان لیا کہ وہ مودی کا مقابلہ نہیں کرسکتے ۔ دوسری بات یہ کہ جیسا کہ کئی ذرائع سے خبریں ہیں کہ مودی حکومت نے اپوزیشن لیڈروں کی بدعنوانی کی فائلیں بنارکھی ہیں اور وہ اس کا استعمال اپوزیشن کے لیڈروں کو بلیک میل کرنے کے لیے کرتی ہے ،اس طرح کے الزامات کئی اپوزیشن لیڈروں نے عائدبھی کیے ہیں اور کھلے عام یہ محسوس بھی کیا جاسکتا ہے،اسی وجہ سے انہوں نے سستی دکھائی ۔بہر حال وجہ کچھ بھی رہی ہو مگر وقت ہمیشہ یکساں نہیں رہتا اس کی تبدیلی یقینی ہے ۔عوام نے موجودہ بی جے پی حکومت کی عوام مخالف پالیسی کو پوری طرح تو نہیں لیکن کچھ حد تک سمجھ لیا ہے اور اس نے سبق سکھانے کا من بنالیا ہے جس کی ایک جھلک کرناٹک اسمبلی الیکشن میں وہاں کے عوام نے دکھا دیاہے۔ اگر یہاں کے عوام سیاسی طور سے باشعور ہوتے موجودہ حکومت کی عوام مخالف اور کچھ حد تک ملک مخالف سرگرمیوں کو سمجھ کر اسے اس کی پرانی تاریخ پر پہنچادیتے ۔ بہار کی نتیش حکومت نے ایس سی ایس ٹی اور او بی سی برادری کے برسوں پرانے مطالبوں پر توجہ دیتے ہوئے ذات پر مبنی مردم شماری کا انعقادکرادیا اور اس کے اعداد و شمار بھی ظاہر کردیئے جس کے بعد وہ سیاست جس نے فرقہ وارانہ رخ لے لیا تھا اور کانگریس سمیت کئی دوسری سیکولر پارٹیاں بھی بی جے پی کے سخت ہندو توا کے مقابلہ میں نرم ہندو توا کی لائین پر چل رہی تھیں اب انہیں ایک اہم انتخابی ایشو مل گیا ہے ۔ اب کئی ریاستوں سے ذات پر مبنی مردم شماری اور جس کی جتنی آبادی اس کی اتنی بھاگیداری کی آواز اٹھنے لگی ہے ، یہ آواز بی جے پی کے اتحادیوں اور اپنے اندر سے بھی اٹھنے لگی ہے ۔بی جے پی نے یہ کہہ کر اعتراض تو کیا کہ یہ ہندوؤں کو تقسیم کرنے کی کوشش ہے لیکن انہوں نے زیادہ شدت سے اس بات کو نہیں دوہرایا ۔ شاید اس لیے کہ اب مقابلہ حقیقی معنوں میں پچاسی بمقابلہ پندرہ فیصد کا ہے اور کوئی بھی پچاسی فیصد سے ناراضگی مول نہیں لے گا ۔

حالات یہ بتارہے ہیں کہ اس بار الیکشن ذات پر مبنی مردم شماری اور کمزوروں کو دی جانے والی سبسڈی پر ہی لڑا جائے گا ۔ یہی سبب ہے کہ عام آدمی پارٹی اور اس کے نقش قدم پر چل کر راجستھان کی حکومت پر قبضہ کرنے والی کانگریس کا مذاق اڑانے والے نریندر مودی یا ان کی بی جے پی بھی اسی سبسڈی کا سہارا لیتے ہوئے الیکشن کے لیے تیاری میں مصروف ہے ۔ مدھیہ پردیش میں شیو راج سنگھ چوہان جنہیں ماما کہا جاتا ہے کی جانب سے لاڈلی بہنا یوجنا (جس میں خواتین کےا کاؤنٹ میں کچھ رقم دی جائے گی) سمیت کئی طرح کے اعلان کیے گئے ۔یہ خبر بھی آئی کہ کئی جگہ خواتین نے اس رقم کو لینے سے ہی انکار کردیا ۔ وجہ یہ ہے کہ عوام نے بی جے پی کے کئی وعدے جسے ان کے اہم لیڈروں نے انتخابی جملہ کہا تھا سے سمجھ چکے ہیں کہ یہ لوگ عوام کی فلاح کے لیے کچھ نہیں کریں گے ۔ انہوں نے جو وعدے کیے تھے وہ بس وعدے ہی ثابت ہوئے ۔ لیکن ذات پر مبنی مردم شماری بی جے پی کی گلے کی ہڈی بننے جارہی ہے ۔ وہ نہ اسے نگل سکتی ہے اور نا ہی اگل سکتی ہے ۔ انڈیا کا توڑ تو انہوں نے بھارت نکال لیا لیکن ذات پر مبنی مردم شماری کا توڑ شاید وہ نہیں نکال پائیں ۔ حالانکہ انڈیا کے مقابلہ میں بھارت نے بھی انہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچایا ۔ حد تو یہ ہے کہ جنوب کی طرف سے سناتن کے خلاف اٹھنے والی آواز جس کی حمایت شمالی ہندوستان کے کئی لیڈروں نے کی اور اس سے بھی سخت الفاظ کا استعمال کیا ، اس پر بھی زیادہ ہائے ہو نہیں ہو سکا ۔ یہ سب کچھ بی جے پی کے لیے بری خبروں کی نوید سنارہے ہیں کہ آئندہ اسمبلی الیکشن ان کے لیے یہ سبق دینے والا ہے کہ ’’گئے دن بَہار کے‘‘ ۔ بی جے پی کے خلاف سب سے خطرناک اس کی ماضی کی حلیف شیو سینا ہے جس کے لیڈر آج بھی اپنی جگہ پر ڈٹے ہوئے ہیں اورانہوں نے بی جے پی کو بار بار چیلنج کیا ہے کہ اس کا ہندوتوا نسانیت سوزی ہے جبکہ وہ انسانیت نوازی پر یقین رکھتے ہیں ۔لیکن بی جے پی کےلیے مستقبل کی بری نوید پر حزب اختلاف کو زیادہ خوش ہو کر غافل ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔انہیں بی جے پی اور اس حرکتوں پرسخت نظر رکھنی ہوگی کیونکہ یہ اقدار سے عاری سیاسی جماعت ہے ۔ کل ملاکر مستقبل تو انڈیا کا روشن نظر آتا ہے لیکن فتح و شکست مقدر کا کھیل ہونے کے باوجود وقار سے جینے کا حق صرف ان کو ہے جنہوں نے سینہ سپر ہونے کا سلیقہ سیکھ لیا ۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

You may also like