ہندستانی جمہوریت کو مساوات اور سائنسی مزاج کے بغیر محفوظ نہیں رکھا جاسکتا:وبھوتی نارائن رائے

بزمِ صدف انٹرنیشنل کی جانب سے شفیع جاوید یادگاری خطبے کا انعقاد
پٹنہ(پریس ریلیز):ہندستان کا آئین جس مضبوطی کے ساتھ جمہوری اور سیکولر اقدار کے تحفظ کا ہمیں اعتماد فراہم کرتا ہے، وہ ہندستان کے عوام کی وہ اجتماعی قوت ہے جس کی بدولت ملک کے اندر پیدا ہورہے تمام خطروں کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔ آزادی کے بعد آئین کے معماروں نے جس سلجھی ہوئی فکر کی بنیاد پر اپنے خوابوں کے ملک کی تعمیر کا خاکہ پیش کیا، اس میں برا بری اور رواداری کے ساتھ روشن خیال فکر کی بڑی اہمیت تھی مگر ملک کی تاریخ میں بار بار ایسی رکاوٹیں بھی پیدا ہوتی رہیں جن کے سبب جمہوری اداروں کے سامنے طرح طرح کے مسائل ابھرتے رہے اور عوام کے بیچ ایسے اندیشے پیدا ہوتے رہے کہ ملک کی جمہوریت کے سامنے شدید خطرات منڈلا رہے ہیں۔
بزمِ صدف انٹرنیشنل کی جانب سے منعقدہ پہلا شفیع جاوید یادگاری خطبہ بہ عنوان ’’ہندستانی جمہوریت: موجودہ چیلنجزـ‘‘ میں عظیم آباد کے منتخب اصحابِ دانش سے خطاب کرتے ہوئے ممتاز ناول نویس اور دانش ور ، سابق ڈی۔جی۔پی، اترپردیش اور سابق وائس چانسلر ، مہاتما گاندھی بین الاقوامی ہندی یونی ورسٹی، وردھا جناب وبھوتی نارائن رائے نے مذکورہ باتیں کہیں۔ انھوںنے آغاز میں ہی اس بات کی وضاحت کردی کہ دنیا کے دوسرے ممالک کے مقابلے ہندستانی سماج کو جمہوری ادارہ چلانے کا زیادہ تجربہ نہیں تھا اور خاص طور پر ہندستانی سماج کو جمہوری مزاج میں تبدیل ہونے میں ابھی کافی دیری تھی ، اس وجہ سے جمہوریت کے نفاذ کے باوجود سارے ادارے ٹھیک طریقے سے کبھی بھی چلتے ہوئے نظر نہیں آئے۔ ہندستانی سماج میں بالخصوص ہندو تہذیب و معاشرت میں ورن آشرم کی وجہ سے ایسی نابرابری بیٹھی ہوئی تھی جس کے نتیجے میں چھوا چھوت سے لے کر استحصال کے کئی منظرنامے اپنے آپ پیدا ہوجاتے تھے۔ یہ غیر برابری جمہوری تقاضوں کے صریحاً خلاف ہے۔ جناب وبھوتی نارائن رائے نے یورپ کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ وہاں آٹھ سو سال میں جموری تصورات ان کے بالیدہ شعور کا حصہ بنے ہیں اور اس سماج نے رفتہ رفتہ جمہوریت کی روح کو سمجھنے اور اسے اپنانے کی کوشش کی مگر ہندستان میں سماجی اعتبار سے اس کی مکمل تیاری نہیں ہوئی تھی جس کے نتائج واضح ہیں اور جمہوریت کی روح کو ہم نے ٹھیک سے سمجھے بغیر آگے قدم بڑھائے۔

جناب وبھوتی نارائن رائے نے اپنی تقریر میں کہا کہ ۲۶؍جنوری ۱۹۵۰ء کو جب ہندستان میں جمہوری ادارے کی داغ بیل پڑی اور ہم نے ایک مکمل آئین کو پیش نظر رکھ کر نئے سماج کا خاکہ پیش کیا، اسی وقت یہ بات سمجھ میں آنے لگی تھی کہ ابھی یہ جنگ دور تک چلے گی۔ مہاتما گاندھی آزادی کے دوران کئی طرح کی سماجی اصلاح کے پروگرام پیش کرتے رہے کیوںکہ وہ سمجھتے تھے کہ ان کے بغیر ملک کامیابی سے آگے نہیں بڑھ سکتا۔ انھوںنے تقسیمِ ملک کے دور میں ان روشن خیال مسلم دانش وروں کو یاد کیا جنھوںنے خود کو اور اپنے سماج کو کسی مذہبی ملک کا حصہ بنانے سے بہتر ایک مشترکہ تہذیب کے ملک ہندستان کو چنا۔ یہ جمہوری اقدار کی طرف بڑھنے کا بڑافیصلہ تھا ور نہ انھیں مذہبی بنیاد پر ایک نیا ملک میسر آچکا تھا۔
جناب وبھوتی نارائن رائے نے جمہوریت کو درپیش خطروں کو پہچاننے کے لیے مہم چلانے کی بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں بار بار ساتھ بیٹھ کر ایسی باتوں کا اعادہ کرتے رہنا چاہیے کیوںکہ ہمیں یہ یاد رہے ملک ، اس کے عوام یا اس کی حکومت کا کوئی راستہ بدل تو نہیں رہا ہے۔ انھوںنے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ ملک میں جمہوری اقدار پر بھروسہ کرنے والی جماعت بڑی تعداد میں موجود ہے جس کی وجہ سے باربار پیدا ہونے والی رکاوٹوں کا یہ طبقہ مقابلہ کرکے اپنے ملک کی حفاظت اور عوام کے ذہن کو پراگندہ ہونے سے بچالیتا ہے۔
جناب وبھوتی نارائن رائے نے ہندستانی جمہوریت کے سامنے تین بڑے خطروں کی پہچان کی اور ان سے مقابلہ کرنے کے لیے اصحابِ دانش کو یک راے ہونے کی وکالت کی۔ انھوںنے اکثریتی بھیڑ کو جمہوری ادارے کے لیے سب سے بڑا خطرہ کہا ۔ جسے سربراہی میسر آگئی وہ شتربے مہار ہوکر باقی لوگوں کو ہانکنا چاہتا ہے۔ حالاںکہ جمہوریت میں اکثریت کا مطلب یہ ہوا کہ سربراہی ملنے کے بعد آپ سب کی جواب دہی اپنے سر لیتے ہیں، ان کی بھی جنھوںنے کھلے بندوں آپ کو ناپسند کیا اور اس کا اعلان کیا۔ انھوںنے گذشتہ دو پارلیامانی انتخابات میں اکثریتی بھیڑ کے وقوعات واضح کیے اور ان سے ۱۹۵۲ء کے پہلے انتخاب کا موازنہ کیا۔

انھوںنے ہندستانی جمہوریت کے لیے دوسرا بڑا خطرہ اعتقاد اور آستھا کے نام پر سماج اور حکومت کو چلانے کا تسلیم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب ہندستان کے آئین میں واضح ہدایات موجود ہیں کہ ہمیں سائنسی مزاج کی تشکیل دینی ہے اور چیزوں کو عقل اور منطق کی بنیاد پر دیکھنے کی روش اختیار کرنی ہے، ایسے میں اس ملک کو جب جب سماجی یا مذہبی یا ذاتی اعتقاد کی بھٹی پر کسنے کی کوشش کی جائے گی، ملک کا راستہ بدل جائے گا۔ انھوںنے کہا کہ سیکولرزم صرف اس ملک میں نہیں بلکہ ساری دنیا میں چاہیے اور اس کے بغیر ہم دنیا میں جمہوری اقدار کی حفاظت نہیں کرسکیںگے۔ جناب رائے نے جمہوریت کے سامنے عدم مساوات کو ایک بڑا چیلنج تصور کیا۔ انھوںنے اولا معاشی نابرابری کا سوال اٹھایا کہ ملک میں دس فی صد آبادی کے پاس جتنی دولت ہے، وہ نوے فیصد آبادی سے زیادہ ہے۔ ایسے ماحول میں جمہویت بھلا کیسے بچ سکے گی۔ انھوںنے وبائی دنوں میں یاد کیا کہ کس طرح بمبئی سے پیدل بھوکے پیاسے مرتے لٹتے بہار اور اترپردیش بے یارومددگار ہوکر ہمارے مزدور بھائی آئے۔ جمہوری ملک میں انھیں برابری کا حق کہاں ملا؟ ایسی نابرابریاں بڑھتی رہیں گی تو جمہوریت کی بنیادیں کمزور تر ہوتی جائیںگی۔
پروگرام کا آغاز کرتے ہوئے بزمِ صدف کے ڈائرکٹر پروفیسر صفدر امام قادری نے شفیع جاوید کی ادبی اہمیت پر روشنی ڈالی اور’’ ہندستانی جمہوریت: موجودہ چیلنجز‘‘ جیسے موضوع کے انتخاب کی وضاحت کی۔ انھوںنے ایک ادیب اور ایک پولیس آفیسر کی حیثیت سے وبھوتی نارائن رائے کا تعارف پیش کرتے ہوئے ان کی کتابوں کا تذکرہ کیا، ان کی دانش ورانہ حیثیت پر روشنی ڈالی اور ان کا سرزمینِ بہار میں استقبال کیا۔ اس پروگرام کی صدارت ہندی کے ممتاز شاعر آلوک دھنوا نے کی۔ انھوںنے ہندستان کی سیکولر روایات میں اردو زبان اور اردو اور ہندی کے ادیبوں کی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے نوجوانوں کو سامنے آنے اور اپنی بے باک رائے پیش کرنے کے لیے آواز دی۔ انھوںنے امیر خسرو ، فیض احمد فیض، مخدوم محی الدین، ناگارجن، پاکستان کے حبیب جالب اور پروفیسر اعجاز احمد کا ذکر کیا اور ملک اور دنیا میں جمہوری اقدار کے لیے لڑنے اور قربانیاں دینے کے لیے انھیں خراجِ تحسین پیش کیا۔

معروف صحافی ڈاکٹر ریحان غنی نے ہندستانی جمہوریت کا سب سے بڑا حسن کثرت میں وحدت کو تسلیم کیا۔ انھوں نے وبھوتی نارائن رائے کی کتابوں اور آج کی تقریر کے حوالے سے ان کے خیالات کی وضاحت کرتے ہوئے یہ بات کہی کہ گلدستے میں الگ الگ پھولوں کو جس طرح ایک کڑی میں پرونے کی ضرورت پڑتی ہے، اگر رائے صاحب جیسے لوگ اس میں سرگرم نہ ہوں تو یہ کڑی ٹوٹ جائے۔ انھوںنے یاد دلایا کہ بعض سیکولر پارٹیوں سے جو غلطیاں ہوئیں اور فرقہ وارانہ جماعتوں کو انھوںنے ملک میں کام کرنے کا موقع فراہم کردیا ، وہ غیر مناسب تھا۔
کالج آف کامر س کے صدر شعبۂ انگریزی پروفیسر کمار چندردیپ نے ہندستانی جمہوریت کے لیے معیشی غلامی کو ایک بڑا خطرہ قرار دیا۔ انھوںنے کسانوں کی ایک سال سے زیادہ چلی تحریک کا ذکر کرتے ہوئے اس بات کی وضاحت کی کہ جمہوری ملک میں حکومت کے ذریعہ اس طرح عوام کی باتوں کو ناقابلِ غور قرار دینا خطرناک ہے۔ ممتاز ناول نگار عبدالصمد نے ہندستانی جمہوریت کے خطرات کو خارج تو نہیں کیا مگر اس بات پر اظہارِ رنج کیا کہ ہمارے یہاں جو دانش ور طبقہ ہے وہ ببانگِ دہل اپنی بات نہیں رکھتا ہے۔ اکثر وہ خاموشی کا شکار ہوجاتا ہے۔ انھوںنے کہا کہ ہمارے ملک میں جمہوریت کی جڑیں گہری ہیں اور ہم ان خطرات سے متحد ہوکر مقابلہ کرنے میں کامیاب ہوںگے۔ بزرگ مصنف جناب شفیع مشہدی نے اپنی تقریر کا آغاز شفیع جاوید کو یاد کرتے ہوئے کیا اور یہ بتایا کہ یہ یقین نہیں آتا کہ ان کا سب سے عزیز دوست اس محفل سے اچانک روٹھ کر چلا گیا ہے۔ انھوںنے کہا اگر چہ نفرت کی کھیتی ہورہی ہے اور اس سے ہم سب متفکر ہیں مگر یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ایسے حالات عارضی ہوتے ہیں۔ زیادہ دنوں تک عوام کو بے وقوف نہیں بنایا جاسکتا ہے۔ انھوںنے کہا کہ ملک کے ماحول کو بگاڑنے کی کوشش تو ہر طرف سے ہورہی ہے مگر صالح فکر رکھنے والے افراد بھی کم نہیں ہیں۔ اس لیے مایوسی کی ضرورت نہیںمگر کھل کر مقابلہ کرنے کا وقت آگیا ہے۔

بزمِ صدف کی جانب سے تمام مہمانوں کو تازہ پھول کے گلدستے ، شال اور یادگاری گھڑی کا تحفہ پیش کیا گیا۔ پروگرام کے منتظم پروفیسر صفدر امام قادری نے رسمِ شکریہ سے پہلے آلوک دھنوا کی نظم ’’سفید رات‘‘ کے اجزا سنائے ۔