ان شاعروں نے خودکشی کیوں کی؟-سہیل انجم

آکے پتھر تو مرے صحن میں دو چار گرے
جتنے اس پیڑ کے پھل تھے پسِ دیوار گرے
دیکھتے کیوں ہو شکیب اتنی بلندی کی طرف
نہ اٹھایا کرو سر کو، کہ یہ دستار گرے
مذکورہ بالا اشعار خوش فکر شاعر شکیب جلالی کے ہیں۔ یکم اکتوبر کو ان کا یوم پیدائش تھا۔ ان کی شاعری تو ان کے لیے وجہ شہرت بنی ہی مگر ایک اور واقعے نے ان کی شہرت میں اضافہ کیا۔ بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ اس واقعے نے ان کی شہرت کو چار چاند لگا دیے۔ وہ واقعہ ان کی خودکشی کا تھا۔ انھوں نے محض 32 سال کی عمر میں خودکشی کر لی تھی۔ اس کی متعدد وجوہات میں سے ایک وجہ ان کی والدہ کی دلدوز موت تھی جو ان کے والد ہی کے ہاتھوں ہوئی تھی۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی اردو کی ویب سائٹ پر اس سلسلے میں ایک بہت اچھا مضمون شائع ہوا ہے جسے کراچی کے محقق اور مورخ عقیل عباس جعفری نے تحریر کیا ہے۔ انھوں نے ایسے کئی شعرا کا تذکرہ کیا ہے جنھوں نے غم و آلام سے گھبرا کر اپنی زندگی کو موت کی پناہ میں ڈال دیا۔ ان کے اس مضمون کا ماخذ ڈاکٹر صفیہ عباد اور زیبا نورین کے مقالے ہیں۔ ڈاکٹر صفیہ عباد نے اپنے مقالے میں جو بعد میں ’راگ، رُت، خواہش مرگ اور تنہا پھول‘ کے نام سے کتابی شکل میں شائع ہوا، لکھا ہے کہ ’جب شکیب کی عمر تقریباً نو دس برس تھی تو ان کی آنکھوں کے سامنے ان کے والد سید صغیر حسین نے ان کی والدہ کو ٹرین کے سامنے دھکا دے دیاتھا۔ اس حادثے میں شکیب کی والدہ کی موت واقع ہو گئی۔ یہ حادثہ بریلی ریلوے سٹیشن پر پیش آیا۔ شکیب جلالی کا اصل نام سید حسن رضوی تھا۔ وہ یکم اکتوبر 1934 کو ہندوستان کے قصبے بدایوں میں پیدا ہوئے تھے۔ صفیہ لکھتی ہیں ’شکیب کے والد کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ محکمہ پولیس میں ملازم تھے۔ وہاں سے کسی معاملے میں معطل ہوئے تو انھوں نے اوراد و وظائف شروع کر دیے اور چلّے کاٹنے لگے جس سے ان کا دماغی توازن بگڑ گیا۔ وہ کچھ عرصہ پاگل خانے میں بھی رہے۔ لیکن صورتحال میں خاطر خواہ تبدیلی نہ آئی۔ وہ کچھ روحانی تجربے کرتے تھے اور پیری مریدی کے قائل تھے۔ کچھ لوگ انھیں پاگل یا دیوانہ کہتے تھے اور کچھ انھیں پہنچا ہوا بزرگ۔ ان کی ذہنی حالت کو کچھ بھی کہا جائے یہ بات طے ہے کہ وہ ایک نارمل انسان نہیں تھے اور ان کی اسی کیفیت نے ایک روز ان کی بیوی کی جان لے لی۔ ایک دوسری مصنفہ زیبا نورین نے اپنی کتاب ’جسم و جاں سے آگے‘ میں لکھا ہے کہ ’شکیب کی والدہ نے لب مرگ سسکتے ہوئے پولیس کو بیان لکھوایا کہ ’یہ حادثہ ان کی اپنی غلطی کی وجہ سے پیش آیا ہے۔ نیز یہ کہ ان کے شوہر کا ذہنی توازن درست نہیں۔وہ بے پناہ عبادت و ریاضت سے وہ آپے میں نہیں رہتے‘۔ لیکن ان کا بیان بھی صغیر حسین کو گرفتاری سے نہ بچا سکا۔ کیوںکہ واقعے کے عینی شاہدین موجود تھے اور انھوں نے موصوف کو بیوی کو دھکا دیتے ہوئے دیکھا تھا۔ یہ 1944 کا واقعہ ہے‘۔ والدہ کی اندوہناک وفات کے وقت شکیب جائے حادثہ پر موجود تھے۔ یہ واقعہ ان کے ذہن سے کبھی محو نہ ہوا اور ایک کبھی نہ ختم ہونے والی نفسیاتی بیماری اور ذہنی عدم توازن کی صورت میں زندگی بھر ان کے ساتھ رہا۔ شکیب کی شاعری میں جگہ جگہ اس کیفیت کا عکس نظر آتا ہے۔ سنہ 1950 میں شکیب جلالی اپنی چار بہنوں کے ساتھ پاکستان چلے گئے جہاں ملازمتوں کے سلسلے میں وہ مختلف شہروں میں مقیم رہے۔ ادھر شکیب کے والد اگلے پندرہ برس تک ایک پاگل خانے میں زیر علاج رہے۔ وہ 1965 میں شفایاب ہوئے۔ شکیب کو ان کی رہائی کی اطلاع ملی تو انھوں نے ان سے ملنے کے لیے ہندوستان آنا چاہا مگر جنگ کا زمانہ تھا۔ شکیب نہ آ سکے اور فروری 1966 میں ان کے والد دنیا سے رخصت ہو گئے۔ شکیب پر ان کی وفات کا بھی گہرا اور شدید ردعمل ہوا اور موت کی کشش انھیں اپنی طرف کھینچنے لگی اور یہ کشش ان کے اشعار میں بھی نظر آنے لگی۔ 12 نومبر 1966 کو سہ پہر ساڑھے تین بجے وہ گھر سے نکل گئے۔ ساڑھے پانچ بجے اطلاع ملی کہ انھوں نے خود کو ٹرین کے آگے گرا کر خودکشی کر لی ہے۔ وہ شدید زخمی حالت میں ہسپتال لائے گئے جہاں ان کی وفات ہو گئی۔
شکیب جلالی کے بعد خودکشی کی وجہ سے مشہور ہونے والے دوسرے شاعر مصطفی زیدی تھے۔ کچھ لوگ اسے قتل کا واقعہ گردانتے ہیں لیکن جب یہ مقدمہ عدالت میں چلا تو عدالت نے اسے خودکشی قرار دیا۔ مصطفیٰ زیدی 12 اکتوبر 1930 کو الٰہ آباد میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا تعلق ایک علمی اور ادبی گھرانے سے تھا۔ وہ نہایت کم عمری سے شاعری کرنے لگے تھے۔ 1947 میں صرف 17 برس کی عمر میں ان کا پہلا مجموعہ ’زنجیریں‘ شائع ہوا جس کا دیباچہ فراق گورکھ پوری نے تحریر کیا تھا۔ تقسیم کے بعد وہ پاکستان چلے گئے جہاں انھوں نے تدریس کے شعبے سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔ پھر انھوں نے سول سروس کا امتحان پاس کیا اور متعدد انتظامی عہدوں پر خدمات انجام دیتے رہے۔ مصطفیٰ زیدی کا حلقہ احباب بہت وسیع تھا۔ وہ اردو کے ایک اہم شاعر تھے اور ان کی شاعری کے کئی مجموعے شائع ہوچکے تھے۔ ان کی شاعری پسند کرنے والوں میں جوش ملیح آبادی، فراق گورکھپوری اور فیض احمد فیض جیسے نامور شاعر شامل تھے۔ خودکشی کرنے والی شخصیات میں سارا شگفتہ کا نام بھی بہت اہم ہے۔ وہ 31 اکتوبر 1954 کو پاکستان کے گوجرانوالہ میں پیدا ہوئی تھیں۔ ان کا تعلق کسی علمی اور ادبی گھرانے سے نہیں تھا۔ یہ چھ بہنوں، چار بھائیوں اور ماں باپ پر مشتمل ایک غریب خاندان تھا۔ معاشی تنگ دستی کے باوجود جیسے تیسے گزارا ہو رہا تھا مگر جب ان کے والد نے دوسری شادی کرلی تو سارا اور ان کے بہن بھائی نہ صرف اپنی والدہ سمیت دو وقت کی روٹی کے محتاج ہو گئے بلکہ باپ کی عدم سرپرستی نے گھر کی مجموعی فضا کو منتشر کر کے رکھ دیا۔ انتہائی کم عمری میں سارا کی شادی ہو گئی مگر آٹھ نو برس جاری رہنے اور کئی بچوں کے باوجود یہ شادی ناکام رہی۔ سارا نے دوسری شادی کر لی مگر یہ شادی بھی ناکام رہی۔ البتہ اس شادی نے ان پر شاعری کے دروازے کھول دیے۔ انھوں نے تیسری شادی کی مگر وہ بھی ناکام رہی۔ پھر وہ ایک جاگیردار کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئیں مگر صرف چند ماہ بعد یہ شادی بھی ختم ہوگئی۔ اس شادی کے بعد ان کا جذباتی تعلق سعید احمد نامی ایک کاروباری شخص سے ہوا۔ صفیہ عباد نے لکھا ہے کہ ’یہ سارا کی زندگی کی آخری پناہ گاہ تھی جو سارا کی حیرتوں سے وحشتوں میں شریک ہوئی‘۔ سارا نے سعید احمد سے شادی نہیں کی کیوںکہ وہ پہلے سے شادی شدہ تھے اور سارا اپنے گھر کی تاریخ نہیں دہرانا چاہتی تھیں۔ اس جذباتی کشمکش میں چار جون 1984 کو سارا نے کراچی میں ریل کے نیچے آ کر خودکشی کر لی۔ ان کی ناگہانی موت نے ان کی زندگی اور شاعری کو ایک نئی جہت عطا کی۔ ان کی وفات کے بعد ان کی شخصیت پر امرتا پرتیم نے ’ایک تھی سارا‘، انور سن رائے نے ’ذلتوں کے اسیر‘ اور عذرا عباس نے ’درد کا محل وقوع‘ کے نام سے کتابیں تحریر کیں اور پاکستان ٹیلی ویژن نے ایک ڈرامہ سیریل پیش کیا جس کا نام ’آسمان تک دیوار‘ تھا۔ کچھ عرصہ قبل لاہور سے ان کی کلیات بھی شائع ہو چکی ہے۔ خودکشی کرنے والے سب سے کم عمر شاعر سید آنس معین تھے۔ وہ لاہور میں پیدا ہوئے تھے۔ انھوں نے پچیس سال کی عمر میں خودکشی کی۔ خودکشی سے اپنی زندگی کا خاتمہ کرنے والے ایک اور اہم شاعر ثروت حسین تھے۔ وہ نومبر 1949 میں کراچی میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ ایک خوش گو شاعر تھے اور اپنا ایک جداگانہ اسلوب رکھتے تھے۔ ان کے دو مجموعے ’آدھے سیارے پر‘اور ’خاک دان‘ شائع ہوئے۔ دوسرا مجموعہ ان کی وفات کے بعد 1998 میں شائع ہوا اور پھر ان کی کلیات بھی شائع ہوئی۔ تنہائی سے گھبرا کر انھوں نے 1993 میں حیدرآباد سندھ میں خودکشی کرنے کی کوشش کی اور ایک ٹرین کے نیچے اپنی ٹانگیں دے دیں۔ انھیں بچا لیا گیا مگر وہ عمر بھر کے لیے معذور ہو گئے۔ ستمبر 1996 میں انھوں نے ایک مرتبہ پھر ٹرین کے سامنے آ کر خودکشی کرنے کی کوشش کی اور اس مرتبہ ان کی یہ کوشش کامیاب رہی۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*