Home قومی خبریں دس اکتوبر کو ہی ہو گا ارباب حل و عقد کا اجلاس ، ارکان شوریٰ نے نائب امیر شریعت سے مل کر ۳۰؍ ستمبر کو شوریٰ کا اجلاس بلانے پر جتایا اعتراض

دس اکتوبر کو ہی ہو گا ارباب حل و عقد کا اجلاس ، ارکان شوریٰ نے نائب امیر شریعت سے مل کر ۳۰؍ ستمبر کو شوریٰ کا اجلاس بلانے پر جتایا اعتراض

by قندیل

پٹنہ(پریس ریلیز):ارکان شوریٰ کی نصف سے زیادہ تعداد نے دس اکتوبر کو امیر شریعت کے انتخاب کے لیے ارباب حل و عقد کے اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا ، نائب امیر شریعت اور امارت شرعیہ کے دفتر نے بھی اس اجلاس کی تائید و توثیق کی اور اس کے مطابق عمل درا ٓمد بھی شرو ع ہو گیا۔ نائب امیر نے اپنے دستخط سے مشاہدین کے نام خط جاری کیا، اجلاس کے بجٹ کی منظوری دی ، دفتر کی جانب سے تمام ارباب حل و عقد کو خطوط بھیج دیے گئے اور سب لوگ اب اجلاس کی تیاری میں لگے ہیں ، اجلاس کوصرف ۱۴ دن باقی ہیں ایسی حالت میں ذمہ داران امارت شرعیہ سے مشورہ کیے بغیر ایک ویڈیو جاری کر کے نائب امیر شریعت کا شوریٰ کا اجلاس بلانا سراسر غلط ہے ، ایسے وقت میں اجلاس شوریٰ بلانے کا کوئی جواز نہیں ہے ۔یہ باتیں شوریٰ کے معزز ارکان نے نائب امیر شریعت سے مل کر کہیں اور نائب امیر شریعت کے ذریعہ ویڈیو جاری کر کے ۳۰؍ ستمبر کو شوریٰ کے اجلاس کا اعلان کرنے پر سخت اعتراض کیا ۔
ارکان شوریٰ کا کہنا تھا کہ امارت شرعیہ کے دستور میں درج ہے کہ امیر شریعت کا منصب خالی ہو جائے تو جلد سے جلد نئے امیر کا انتخاب کر لیا جائے ، دستور میں اس کے لیے تین ماہ کی قید لگائی گئی ۔ شرعی اعتبار سے بھی امیر کے بغیر زندگی گزارنے کو پسند نہیں کیا گیا ہے اور حدیث میں ایسی زندگی کو جاہلیت کی زندگی سے تعبیر کیا گیا ہے ۔ لیکن نائب امیر شریعت نے اپنی شرعی اور دستوری ذمہ داری کو نہیں سمجھا اور امیر شریعت کے انتخاب میں غیر معمولی تاخیر ہوتی گئی ۔ زوم پر ۲۰؍ جون کو ہونے والی شوریٰ کی آن لائن میٹنگ میںشوریٰ نے لاک ڈاؤن کی وجہ سے نائب امیر کے اختیارات میں توسیع کی تھی اور انہیں حالات کے معمول پر آنے کے بعد اور لاک ڈاؤن کھلنے کے بعد ارباب حل و عقد کا اجلاس بلانے کا اختیار دیا ، لیکن نائب امیر شریعت نے اس کے باوجود آٹھ اگست کو انتخاب کا اعلان شوریٰ کی تجویز کے خلاف کر دیا، اس کے لیے الیکشن کا نداز اختیار کیا گیا ، غیر دستوری طریقہ پر پندرہ مقامات پر سنٹر بنا دیے گئے ۱۵۱ ؍ممبران کی تجویز کے ساتھ امیدواری کی بات کہی گئی جو سراسر دستور امارت شرعیہ کی خلاف ورزی تھی۔ جب پورے ملک سے اس پر اعتراضات ہوئے ، صدرمفتی امارت شرعیہ نے اس طریقۂ انتخاب کے خلاف فتویٰ دیا اور ۵۲؍ ارکان شوریٰ نے اپنے دستخط سے اس انتخاب کو رد کرنے کا مطالبہ کیا تب جا کر یہ انتخاب رد ہوا ۔ شوریٰ کے ارکان نے اسی وقت گیارہ رکنی کمیٹی اور اس کے ذریعہ کیے گئے تمام فیصلوں کو رد کر دیاتھا۔ گیارہ رکنی کمیٹی کے دو معزز ممبران نے بیچ میں کمیٹی سے استعفیٰ دے دیا تھا ، اس لیے گیارہ رکنی کمیٹی اسی وقت تحلیل ہو گئی تھی، اور نائب امیر شریعت کو دی گئی توسیع بھی شوریٰ کی تجویز کی خلاف ورزی کی بنیاد پر منسوخ ہو گئی۔
اس کے بعد جب لاک ڈاؤن کھل گیا،اس کو کھلے ہوئے بھی ۲۰؍ دن سے زیادہ کا عرصہ ہو گیا لیکن نائب امیر شریعت نے انتخاب امیرکے سلسلہ میں کوئی کارروائی نہیں کی تو آخر کار ارکان شوریٰ نے اپنی دستوری ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے ارباب حل و عقد کا اجلاس دس اکتوبر 2021 کو المعہد العالی میں طلب کیا ۔ یہ اچھی بات ہے کہ حضرت نائب امیر شریعت نے بھی ا س کی تائید و توثیق کی اور اس کے مطابق کاموں کو آگے بڑھایا ۔ سب کا م خوش اسلوبی سے باہمی رضامندی کے ساتھ چل رہا تھا ۔ لیکن اس کے بعد اچانک ایک ویڈیو جاری کر کے نائب امیر شریعت صاحب نے نہ جانے کس کے دباؤ میں۳۰؍ ستمبر کو شوریٰ کے اجلاس کا اعلان کیا ہے۔یہ اعلان بالکل غیر دستوری اور ان کے دائرہ ٔ اختیار سے باہر ہے۔اور امیر شریعت کے انتخاب میں رخنہ اندازی کی غرض سے ایسا کیا گیا ہے۔ان کے ذریعہ اچانک کیے گئے اس اعلان سے آپسی تنازع ، تصادم اور ٹکراؤ کی صورت پیدا ہو گی ، جو امارت شرعیہ کے لیے کسی بھی صورت میں مفید نہیں ہے ۔مجلس شوریٰ کے معزز اراکین نے نائب امیر شریعت سے مطالبہ کیا کہ وہ اختلاف و انتشار کی راہ کو چھوڑ کر امیر شریعت کا انتخاب کرانے میں تعاون کریں اور مجلس شوریٰ کے اس اجلاس کو کینسل کریں ۔ نائب امیر شریعت نے ارکان شوریٰ کو یقین دہانی کرائی کہ امیر شریعت کے انتخاب کے لیے ارباب حل و عقد کا اجلاس طے شدہ پروگرام کے مطابق دس اکتوبر 2021 کو المعہد العالی کیمپس پھلواری شریف ،پٹنہ میں ہی ہو گا۔ البتہ انہوں نے ۳۰؍ ستمبر کو شوریٰ کے اجلاس کو کینسل کرنے کے مطالبہ پرکہا کہ وہ اس کے بارے میں غور کریں گے۔
جن معزز اراکین شوریٰ نے نائب امیر شریعت کے ساتھ اس نشست میں شرکت کی ان میں جناب ڈاکٹر احمد عبد الحئی صاحب، جناب ڈاکٹر مجید عالم صاحب رانچی ،جناب احمد اشفاق کریم صاحب ، جناب جاوید اقبال صاحب ایڈووکیٹ ،جناب مولانا مفتی نذر توحید مظاہری صاحب، مولانا ڈاکٹر عتیق الرحمن قاسمی ، مولانا عتیق اللہ صاحب قاسمی ،مولانا ابوالکلام قاسمی شمسی ، مولانا محمد عالم قاسمی صاحب ، جناب سمیع الحق صاحب، مولانا مفتی محمد سہراب ندوی، مولانا قمر انیس قاسمی اورجناب الحاج سلام الحق صاحب وغیرہ شامل تھے۔ یہ اطلاع شوریٰ کے رکن الحاج سلام الحق صاحب نے دی ۔

You may also like

Leave a Comment