مولانا بدیع الزماں ندوی صاحب کا امارت شرعیہ پر اخباری بیان اور اس کی حقیقت- محمد ارشدرحمانی

آفس سکریٹری امارت شرعیہ ،پھلواری شریف پٹنہ

مولانا بدیع الزماں ندوی صاحب  مورخہ یکم جولائی ۲۰۲۱ء بروز جمعرات کو دفتر امارت شرعیہ قائم مقام ناظم جناب مولانا محمد شبلی القاسمی صاحب کی آفس میں آئےاور امارت شرعیہ کے سلسلے میں شوشل میڈیا اور اخباری بیانات کا حوالہ دےکر امارت شرعیہ سے سچی محبت اور عقیدت کی باربار دہائی دیتے رہے،انہوں نے جب کہا کہ ہم لوگ تحفظ امارت شرعیہ کمیٹی کے ذمہ دار ہیں توان سے دوٹوک لفظوں میں کہہ دیا گیا کہ اس نام کی کمیٹی بنانے کا کسی کو کوئی حق نہیں اور اگر کوئی اس طرح کی کمیٹی بنائےاور ہزاروں کمیٹیاں بھی بنائے، تو وہ غیر معتبر ہیں اور فتنے کا دروازہ کھولنے کا ذریعہ ہیں،ان سے پوچھا گیا کہ آپ ہی بتائیں کہ آپ جامعہ فاطمہ للبنات مظفرپور میں چلاتے ہیں،اگر تحفظ جامعہ فاطمہ للبنات بنادیا جائے تو آپ اسے گوارہ کریں گے،جس پر وہ لا جواب ہوگئے اور پھر انہوں نے بھری مجلس میں کہا کہ تحفظ امارت شرعیہ کمیٹی بنانا واقعتا غلط ہے۔انہوں نے سوشل میڈیااورپرنٹ میڈیا کے ذریعے جناب مولانا انیس الرحمن قاسمی صاحب پر لگائےجارہےمالی غبن کے بارے میں پوچھا،جس پر قائم مقام ناظم امارت شرعیہ مولانا محمد شبلی القاسمی صاحب نے کہا کہ سوشل میڈیایاپرنٹ میڈیا کے ذریعے دفتر نے کوئی الزام نہیں لگایا، اس کے بعد ان کے جو شکوک وشبہات تھے یہاں ذمے داروں کے ساتھ گفتگو پر وہ مطمئن ہوئےاور کہا کہ ہم کو اطمنان ہوگیا،اس گفتگو کے وقت جناب مولانا مفتی محمد ثناءالہدی قاسمی وجناب مولانا سہیل احمد ندوی صاحبان نائب ناظمین امارت شرعیہ ،جناب مولانا احمد حسین قاسمی صاحب معاون ناظم امارت شرعیہ موجود تھے،اس کے باوجود یہاں سے نکل کرتحفظ امارت شرعیہ کے ذمے دار بن کر پریس ریلیز جاری کرنااوردوسرےسے خود اپنے امیر شریعت کے امیدوار ہونے کا اعلان کرواناان کو کسی طرح زیب نہیں دیتا،امارت شرعیہ اور امارت کے جملہ مخلصین ومحبین اس طرح کی حرکت کو غیر دستوری اور امارت شرعیہ کے عظمت ووقارکو ٹھیس پہنچانے کا ذریعہ  اور اس طرح کی کمیٹی بنانے کو امارت شرعیہ اور پوری ملت کے ساتھ دھوکہ سمجھتے ہیں، خاص  طور سے اخبارات کی سرخی میں جس طرح قائم مقام ناظم صاحب کا نام دیا گیا ، اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔

ایسےلوگوں کو چاہیے کہ اپنےاپنے اداروں اور مدارس و مکاتب کی فکر کریں،امارت شرعیہ کی مجلس ارباب حل و عقد خود انتخاب امیرکامرحلہ حل کرلینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔حیرت کی بات یہ ہے کہ خود مولانا محترم نے بھری مجلس میں کہاکہ تیس سالوں کے بعد میں دفترامارت شرعیہ آیا ہوں ،اس اعتراف کے باوجود تحفظ امارت شرعیہ کمیٹی بنانا اور اس کا ذمے دار بننا کیا معنی رکھتا ہے اوراس طرح کی کمیٹی سے امارت شرعیہ کو کیا ملے گا ہرکوئی سمجھ سکتا ہے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*