امارت شرعیہ کی جانب سے تعلیم کو عام کرنے اور اردو کے تحفظ کے لیے ریاست گیر تحریک کا آغاز

پٹنہ:بنیادی دینی تعلیم کو عام کرنے ،معیاری عصری تعلیمی اداروں کے قیام کے لیے بیداری پیدا کرنے اور اردو زبان کے تحفظ کی طرف توجہ دلانے کی غرض سے مولانا سید محمد ولی رحمانی امیر شریعت بہار، اڈیشہ وجھارکھنڈکی ہدایت پرامارت شرعیہ بہار ، اڈیشہ و جھارکھنڈ کی ریاست گیر تحریک ’’ہفتہ برائے تعلیم و تحفظ اردو‘‘ کا آغاز صوبہ بہار میں آج سے ہو گیا ہے، اس کے تحت ہر ضلع میں مشاورتی اجلاس منعقد ہوں گے ، امارت شرعیہ سے علماء کی مختلف ٹیمیں اپنے اپنے طے کردہ اضلاع میں جا رہی ہیں ۔اس سلسلہ میں امارت شرعیہ کے مرکزی دفتر پھلواری شریف پٹنہ میں ایک پریس میٹنگ منعقد کی گئی ۔
اس پریس میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے مولانا محمد شبلی القاسمی صاحب نے کہا کہ امارت شرعیہ نے ہمیشہ ہی وقت اور حالات کے تقاضوں پر گہری نظر رکھی ہے اور وقت کے تقاضوں کے مطابق ہر میدان میں ملت کی رہنمائی کی ہے۔ اس وقت ملک میں جو فضا چل رہی ہے اور دین بیزاری کا جو ماحول بنتا جا رہا ہے ، ساتھ ہی ملک میںاقتدار پر بیٹھے ہوئے لوگ چاہتے ہیں کہ ایک خاص مذہب و عقیدہ کے رسم و رواج ، عقائد و خیالات کو پورے ملک پر تھوپ دیں ، ایسی صورت حال میں اپنی آنے والی نسل کے دین و ایمان کو بچانے اور ان کے اندر اسلامی افکار و خیالات اور عقائد و نظریات مستحکم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم ایسا نظام قائم کریں کہ ہر بچے کو دین کی لازمی تعلیم دی جا سکے اور یہ نظام مکاتب کے ذریعہ ہی ممکن ہے ، اس لیے امارت شرعیہ نے یہ تحریک شروع کی ہے ،اس کا مقصد یہ ہے کہ شہر سے لے کر گاؤںتک ہر چھوٹی بڑی آبادی جہاں مسلمان بستے ہیں وہاں بنیادی دینی تعلیم کے مکاتب قائم کیے جائیں ۔امارت شرعیہ کی اس تحریک کا دوسرا حصہ یہ ہے کہ قوم کے لوگ جن کے پاس اللہ نے دولت دی ہے وہ اپنی دولت کو قوم کی ترقی کے لیے لگائیں ،معاشی اور معاشرتی اعتبار سے کسی بھی قوم کی ترقی کا دارو مدار بڑی حد تک تعلیم و ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی کرنے پر منحصر ہے ، اس لیے ضروری ہے کہ ایسے معیاری تعلیمی ادارے قائم کیے جائیں ، جن میں پڑھ کر قوم کے بچے تعلیم و ٹیکنالوجی کے اعلیٰ معیا ر کو پہونچ سکیں ، ساتھ ہی وہاں اسلامی ماحول میں اخلاقی تربیت بھی پا سکیں۔ دنیا میں سر بلندرہنے اور اقوام عالم کی قیادت کے لیے ضروری ہے کہ ہم اور ہماری نسل عصری علوم و فنون حاصل کریں، اس کے لیے ہر علاقہ میں با صلاحیت اساتذہ کے تعاون سے اسکول، کالج اور تکنیکی ادارے قائم کئے جائیں۔ اس وقت ایک بڑا مسئلہ اپنی تہذیب اور زبان کی حفاظت کا بھی ہے ، اردوزبان جس کی گراں قدر خدمات ہیں ، جس زبان کا ملک کی آزادی اور اخلاق و کردار کے بنانے میں اہم رول رہا ،آج اس زبان کا وجود خطرے میں محسوس ہو تا ہے ، اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم اس کے پڑھنے ، لکھنے اور بولنے کا ماحول بنائیں ، بلکہ اردو کے تحفظ کی ایک مہم چلائیں۔ وہ طبقہ جو اردو پڑھنا جانتا بھی ہے ، اپنے بچے بچیوں اور گھر کے لوگوں کو اردو کی تعلیم سے دور رکھنے میں فخر محسوس کرتا ہے، مختلف اخبارات صبح میں ان کے گھر کی زینت بنتے ہیں ، لیکن ان میں اردو کا کوئی اخبار نہیں ہوتا ، اردو زبان کے معیاری روزنامے پڑھنے کی توفیق بھی انہیں نہیں ہو تی ، حالانکہ اردو کی ترویج کے لیے اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ اردو اخبارات کثرت سے پڑھے جائیںاور ہر گھر میں اردو بولنے ، پڑھنے اور لکھنے کا عام ماحول بنایا جائے ۔اسی غرض سے امار ت شرعیہ کی اس تحریک کا تیسرا پیغام اردو زبان کے تحفظ کاہے ۔ہم چاہتے ہیں کہ آپ کے ذریعہ امار ت شرعیہ کا یہ پیغام عام ہو اور گھر گھر پہونچے اسی غرض سے آج آپ حضرات کو جمع کیا گیا ہے ، آپ حضرات مختلف اخباروں سے جڑے ہوئے ہیں آپ امارت شرعیہ کے اس پیغام کو عام کرنے میں اپنا بھر پور تعاون پیش کیجئے ، اس تعلق سے منعقد پروگراموں کی اچھی کوریج کیجئے ،اس سلسلہ میں اچھی اسٹوریز بنائیے ، بیانات اور مضامین کواہمیت کے ساتھ شائع کیجئے ، کسی بھی تحریک کی کامیابی میں اخباراور میڈیا کا بہت بڑا رول ہو تا ہے ۔اگر آپ حضرات کا تعاون شامل رہا تو امارت شرعیہ کی یہ تحریک اپنے مقاصد کے حصول میں ان شاء اللہ ضرور کامیاب ہو گی ۔ اس موقع سے امار ت شرعیہ کے قائم مقام ناظم جناب مولانا محمد شبلی القاسمی صاحب نے اپنے پریس اطلاع میں بتایا کہ تعلیمی انقلاب کے لیے امارت شرعیہ نے ایک جامع منصوبہ پیش کیا ہے ، جس میں بنیادی دینی تعلیم کے مکاتب کے قیام کی ضرورت اور اہمیت واضح کی گئی ہے اور مکاتب کے قیام کا عملی طریقہ کار بھی بتایا گیا ہے ، اس میں عصری تعلیمی اداروں کے قیام کی ترغیب بھی دی گئی ہے ،اور اردو کے تحفظ کے لیے انفرادی او ر اجتماعی طورپر کیا کیا عملی اقدامات کیے جا سکتے ہیں ، اس کو بھی بیان کیا گیا ہے ، امارت شرعیہ کی جانب سے یہ پورا منصوبہ کتابچہ کی شکل میں شائع ہوا ہے ۔ اہل فکر ونظر سے گذارش ہے کہ امارت شرعیہ کے اس جامع منصوبہ کا مطالعہ کریں اور اس میں بتائے گئے طریقہ کار کے مطابق امارت شرعیہ کی اس تحریک کو زمین پر اتارنے میں معاون بنیں۔ اس پریس کانفرنس میں امارت شرعیہ کے نائب ناظم مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی ، نائب ناظم مولانا سہیل احمد ندوی صاحب،مفتی سہیل احمد قاسمی صدر مفتی ،مفتی امارت شرعیہ مفتی سعید الرحمان قاسمی صاحب، ڈاکٹر نثار احمد صاحب، مولانا ارشد رحمانی صاحب، مولانا نصیر الدین مظاہری ودیگر ذمہ داران موجود تھے۔