امارتِ شرعیہ:ایک صدی کا سفر-مفتی عبدالماجد رحمانی قاسمی

امارت شرعیہ بہار،اڈیشہ وجھارکھنڈ نے اپنی متنوع الجہات اور گرا ں قدر خدمات کے ساتھ ایک صدی کا لمبا سفر طے کرلیا،26/جون 1921 ء کو جس فکر کی بنیاد رکھی گئی تھی سن عیسوی کے اعتبارسے 26/ جون 2021 میں اس نے اپناصدسالہ سفر بحسن و خوبی مکمل کرے گی، یہ بانی امارت شرعیہ کے اخلاص کا نتیجہ ہے کہ آج سوسال بعد بھی امارت شرعیہ پوری توانائی کے ساتھ اپنی خدمات انجام دے رہی ہے اور ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ امارت شرعیہ بر صغیر میں قانون اسلامی کے تحفظ اور قضاء شرعی کے نفاذ میں جدو جہد کرنے والی سب سے پہلی باوقار مضبوط،بااثر اور طاقتور تحریک ہے، جو اب تک اپنے مشن میں رواں دواں ہے،چونکہ انسانیت کی نفع رسانی اور افادیت کسی بھی ادارے،قوم اور جماعت کی بقا و تحفظ اورترقی کا مدارہے، اللہ تعالیٰ اس شخص او ر اس جماعت کو پروان چڑھاتا ہے جو انسانیت کی خدمت کا کام کرتی ہے،اس لیے امارت شرعیہ بہار،اڈیشہ وجھارکھنڈ نے بھی اپنی سوسالہ تاریخ میں انسانی خدمات کے حوالے سے وہ کارہائے نمایاں انجام دیے ہیں جو قابلِ فخر اور لائق تقلید ہیں،امارت شرعیہ کی اہمیت و عظمت اور عظیم خدمات کو سراہتے ہوئے حضرت مولانا علی میاں ندوی ؒ نے فرمایا تھا کہ ”اگر مجھے ہندوستان کے کسی صوبہ پر رشک آتا ہے تو بہار پر،اور اگر بہار پر رشک آتا ہے تو امارت شرعیہ کی وجہ سے کہ وہاں مسلمان اس کی بدولت ایک ایسی زندگی گزار رہے ہیں جو معتبر اسلامی زندگی سے قریب تر اور جاہلی غیر اسلامی زندگی سے بعید تر ہے“۔
بیسویں صدی کے آغاز میں تحریک خلافت اور تحریک آزاد ی کی وجہ سے پورے ملک میں عام بیداری کی لہر پیداہوگئی تھی،ایسے میں کچھ عالی دماٖغ اور امت کے لیے دل دردمند رکھنے والی چند شخصیات نے ملت اسلامیہ ہندیہ کو صحیح اسلامی نظام کے ساتھ منظم اورمتحد کرنے کا خواب دیکھا،1919ء میں حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجادؒ نے کل ہند پیمانے پر امارت شرعیہ کے قیام کی تجویز پیش کی جو بعض  اسباب کی وجہ سے عملی شکل اختیار نہ کرسکی،تب حضرت سجادؒ نے سرزمین بہار میں صوبائی سطح پر اس کے قیام کا منصوبہ بنایا،اس طرح آپ کی کوششوں سے 26/جون 1921ء کو عظیم مجاہد آزادی مولانا ابوالکلام آزادؒ،قطب عالم مولا نا سید شاہ محمد علی مونگیری ؒ اور مولانا سید شاہ بدرالدین قادریؒ جیسے صاحب فکرونظر علما کی قیادت میں امارت شرعیہ کا قیام عمل میں آیا،محلہ پتھر کی مسجدبانکی پور،پٹنہ میں امارت شرعیہ کا پہلا اجلاس منعقد ہوا،جس میں اتفاق رائے سے حضرت مولانا سید شاہ بدرالدین قادریؒ کو پہلے امیر کے طور پر منتخب کیاگیا،تب سے آج تک امارت شرعیہ کو ہر دور میں ایسے مخلص اور عظیم امراے شریعت کی خدمات حاصل رہی ہیں، جنہوں نے امارت شرعیہ اور قوم و ملت کی فلاح وبہبود کے لیے اپنا سب کچھ نچھاور کردیا۔
امارت شرعیہ کے قیام کے بنیادی مقاصد:
امارت شرعیہ کاقیام ان بلند مقاصد کے حصول کے لیے خالصتا ً لوجہ اللہ ہوا جو درج ذیل ہیں
امت مسلمہ میں نظام شرعی کے قیام اور اس کے اجراء ونفاذ کی کوششیں کرنا مسلمانوں کے عائلی مسائل کے حل کے لیے دارالقضاء کا قیام اور تربیت یافتہ قاضیوں کی خدمات فراہم کرنا،امت مسلمہ کے جملہ اسلامی حقوق ومفادات کا تحفظ کرنا، تمام مسلمانوں کو بلااختلاف مسلک کلمہ کی بنیاد پر متحد کرنا تاکہ وہ اپنی اجتماعی قوت اعلاء کلمۃ اللہ پر صرف کریں،عام انسانوں کی خدمت کرنا اور ان کے لیے رفاہی وفلاحی ادارے قائم کرنا وغیرہ،امارت شرعیہ کی پوری سوسالہ تاریخ گواہ ہے کہ وہ اپنے اعلیٰ مقاصد سے کبھی پیچھے نہیں ہٹی اور نہ اپنے نصب العین کے حصول میں کبھی کسی سمجھوتے سے کام لیا۔
افتاء و قضاء کے باب میں امارت شرعیہ کی خدمات:
دور اول سے ہی امارت شرعیہ کو ایسے عظیم فقہاء و قضاۃ کی خدمات حاصل رہی ہے جن کی بدولت ہمیشہ امت میں امارت شرعیہ کے فتاویٰ اور فیصلوں کو اعتبار و استناد اور قبول عام حاصل رہا ہے،واضح رہے کہ امارت شرعیہ کے تحت مختلف اضلاع میں تقریباًستر دارالقضاء قائم ہیں،اب تک مسلمانوں کے نوے ہزار سے زائد مقدمات امارت شرعیہ کے قاضیوں کے ذریعہ شریعت اسلامیہ کے مطابق فیصل ہوئے ہیں،اور ہزاروں خاندان کورٹ،کچہریوں کے چکر لگا کر برباد ہونے سے بچ گئے۔ نیزفتاویٰ امار ت شرعیہ،ہندوستان اور مسئلہ امارت،آداب قضاء،قضایا سجاد،قانونی مسودے،خاندانی منصوبہ بندی جیسی کئی اہم،علمی وتحقیقی کتابوں کی اشاعت فقہ فتاویٰ کے باب میں امارت شرعیہ کی عظیم خدمات کا حصہ ہے،المعہد العالی للتدریب فی القضاء والافتاء امارت شرعیہ کا ایک اہم ادارہ ہے،جہاں فضلاء مدارس کو افتاء و قضاء کی خصوصی تربیت دی جاتی ہے،اور اہم فقہی موضوعات کی تحقیقات کا ہنر سکھا یا جاتا ہے۔
امارت شرعیہ کی علمی خدمات:
امارت شرعیہ نے مسلم نوجوانوں میں عصری تعلیم کے فروغ کے لیے1992ء میں مولانا منت اللہ رحمانی ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ،امارت انسٹی ٹیوٹ آف کمپیوٹر اینڈ الیکٹرانکس اور پارا میڈیکل انسٹی ٹیوٹ قائم کیا، 1993ء میں امارت شرعیہ ایجوکیشنل اینڈ ویلفئر ٹرسٹ کا قیام عمل میں آیا،1995ء امارت مجیبیہ ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ دربھنگہ،1997ء امارت ٹیکنیل انسٹی ٹیوٹ پورنیہ اور سن 2000ء میں ریاض آئی ٹی آئی ساٹھی مغربی چمپارن اور2002 ء میں امارت عمر ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ بسراراوڑ کیلا میں قائم ہوا،یہ تعلیمی ادارے اپنے قیام سے آج تک ملک وملت کی نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
امارت شرعیہ کی ملی ورفاہی خدمات:
خدمت خلق اسلام کا ایک اہم باب ہے،اس شعبہ حیات میں بھی امارت شرعیہ عظیم خدمات انجام دے رہی ہے،کسی بھی علاقہ میں سیلاب،طوفن،زلزلہ،آتش زدگی یادیگر قدرتی آفات وحادثات کے موقع پر امارت شرعیہ مصیبت زدہ افراد بالخصوص مسلمانوں کی مدد کرنے میں ہمیشہ پیش پیش رہتی ہے،نادار و ضرورت مندوں کی امداد اور بیوگان کے لیے وظائف بھی جاری کیے جاتے ہیں۔صحت کے میدان میں مولانا سجاد میموریل اسپتا ل کی خدمات لائق ستائش ہے،جہاں انسانیت کی بنیاد پر،خدمت خلق کے جذبہ کے ساتھ بلاتفریق مذہب وملت مریضوں کو کم خرچ میں معیاری علاج فراہم کرایا جاتاہے،مختلف علاقوں میں ہاسپیٹل کے تحت ضرورت مندوں کو مفت علاج اور دوا کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں،یہ ہاسپیٹل علاقہ کی اہم ضروت کی تکمیل اور خدمت خلق کا بہترین ذریعہ ہے۔
ماضی قریب میں امیر شریعت،مفکر اسلام حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی ؒ نے امارت شرعیہ کی ہمہ جہت ترقی کے لیے بڑی کوششیں کیں جن کے نتیجے میں ہر پہلو سے امارت کی خدمات کا دائرہ وسیع ہوا،بہار،اڈیشہ و جھارکھنڈ کے تمام اضلاع میں سی بی ایس ای طرز کے معیاری اسکول امارت پبلک اسکول کے نام سے قائم کرنے کا سلسلہ شروع فرمایا،جو دینی ماحول میں عصری تعلیم فراہم کرنے میں نمایاں کردار ادا کررہے ہیں،ہر گھر تک بنیادی دینی تعلیم کو عام کرنے کے لیے خود کفیل مکاتب کے نظام کو قائم کرنے کے لیے تحریکی طور پر کوششیں کیں،اردو زبان کے فروغ کے لیے اردو کارواں تشکیل دیا،تمام دارالقضا میں معاون قاضی کو بحال کیا،کئی نئے دارالقضا قائم فرمائے،مرکزی دارالقضا میں قضاۃ کی اضافی ٹریننگ اور تربیت کا خصوصی سلسلہ شروع فرمایا۔ گویا امارت شرعیہ دینی وملی خدمات کے ہر میدان میں تیز گام اور رواں دواں ہے،اللہ تعالیٰ تمام شرور وفتن سے محفوظ رکھے اور اس کے خدمات کے دائرۂ کار کو وسیع سے وسیع تر بنائے۔