امارت شرعیہ کے تعلق سے چند وضاحتیں ۔ مولانا محمد شاہد الناصری الحنفی

 

مدیر ادارہ دعوت السنہ مہاراشٹر و ماہنامہ مکہ میگزین ممبئی 

 

احباب کو اس کا بہ خوبی علم ہوگا کہ امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ خاص طورپر بہار اڈیشہ وجھارکھنڈ کے مسلمانوں کی شرعی ودینی رہنمائی کا ایک فقیدالمثال ادارہ ہے، جو ماضی کی ایک عظیم المرتبت، عالی دماغ عبقری شخصیت مفکراسلام حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد علیہ الرحمہ کے سوز جگر سے وجود پزیر ہوا ۔ امارت کو ہرزمانے میں ضرورت کے لحاظ سے اچھے امراے شریعت ملے ۔ معدودے چند مفسدین وچغل خور فاسق ومنافق کے دیگر تمام کارکنان بھی اب تک امارت کو ذی علم،مخلص اورمحنتی ملے ۔

حضرت مولانا سید نظام الدین صاحب مرحوم کے بعد بھی امیرشریعت سابع حضرت مولانا ولی رحمانی صاحب مرحوم کی شکل میں عالی دماغ ذی علم وعمل اور بے حد متحرک وفعال ملے، اگرچہ ان پر ملک وملت کی اتنی ذمے داریاں پہلے سے تھیں کہ وہ امارت شرعیہ میں ان منصوبوں پر عمل نہ کرسکے، جوانہوں نے سوچاتھا، مگر جو ہوسکا، وہ کرنے میں اللہ پاک کی توفیق سے دریغ نہیں کیا۔

حضرت مولانا مرحوم خاکسارسے اورمحب گرامی الحاج اشفاق احمد صاحب سے ممبئ کے سفر میں امارت کے تئیں شدید فکرمندی کا اظہار کرتے ہوئے کسی اچھے نائب امیرشریعت اوراچھے ناظم کی تلاش کی بات تو تقریبا ہرسفر میں کرتے، اس کے علاوہ یہ بھی فرماتے کہ مجھے امارت کے لیے درجنوں باصلاحیت افراد کی تلاش ہے ۔

امیرشریعت حضرت مولانا ولی رحمانی صاحب نے اپنی اچانک شدید علالت کے زمانے میں مکرم حضرت مولانا شمشاد رحمانی صاحب استاذ وقف دارالعلوم دیوبند کو نائب امیرشریعت نامزد کردیاتھا، جس کا اعلان حضرت امیرشریعت مرحوم کے ہسپتال میں بے ہوشی کے زمانے میں کیاگیا، جس کی وجہ سے اچھے اچھے صاحب علم کو بھی شک اورشبہ ہواکہ یہ اعلان حضرت مرحوم کے ہوش وحواس کی حالت میں ہسپتال جانے سے پہلے کیوں نہ ہوا ؟ اس لئے ہونہ ہو ایسا سازش کے تحت کیاگیا ہے ۔ بہرحال جتنی زبان اتنی باتیں ۔ خاکسار بھی شبہ کی زد میں آگیاتھا ؛لیکن بعد میں جب مکرم مولانا شمشاد رحمانی کے احوال وکوائف دیوبند سے معلوم ہوئے اور حضرت امیرشریعت مرحوم کی تجویز نائب کی تحقیق ہوئی تو اللہ پاک کی نصرت شامل حال ہوئی اور شرحِ صدر ہوگیا کہ یہ انتخاب حضرت امیرشریعت مرحوم کا ہی ہے ۔ نیز یہ کہ مولانا شمشاد رحمانی واقعی شریف اورمتین وسنجیدہ ذی علم ہیں، تواب کسی شبہ کی گنجائش میرے نزدیک تو نہیں رہی؛ اس لئے میں اپنے سابقہ شبہ سے رجوع کرتے ہوئے اللہ کے حضور توبہ واستغفار کرتاہوں اوراپنے محبین ومتوسلین سے بھی اپیل کرتاہوں کہ وہ تمام شکوک وشبہات کو ختم کرتے ہوئے توبہ واستغفار کا لزوم کریں ۔

اب رہ گئی بات مولانا شبلی القاسمی قائم مقام ناظم کی تو مجھے جیسے ہی ان کے محبین نے امارت شرعیہ سے یہ اطلاع دی میں نے فورا ہی مناسب سمجھا کہ میں خود بھی حضرت امیرشریعت کو مطلع کردوں؛چناں چہ میں نے حضرت مرحوم کو جوخط لکھا تھا احباب اس خط کو دوبارہ پڑھ لیں کہ تمام ترحزم واحتیاط کے ساتھ وہ سطریں تحریر کی گئی تھیں؛ اس لئے کہ کسی عام مسلمان پربھی کوئی الزام لگانا بغیر شرعی ثبوتوں کے آسان نہیں ہے ۔ ہاں میں نے برادر گرامی مولانا ابوطالب رحمانی صاحب سے زبانی وہی بات کہی تھی جو خط میں حضرت مرحوم کولکھا تھا ۔ انہوں نے جوابا یہ بات کہی تھی کہ میں اس وقت پٹنہ میں ہی ہوں اورحالات پر نگاہ رکھے ہواہوں ۔ مگرافسوس کہ اس واقعے کو قائم مقام ناظم کے دوستوں اورمحسنوں نے خوب پھیلاکر دادتحسین حاصل کیا اور حسد وعدوان کی بھراس نکالی، جوظاہر ہے کہ قرآن کی زبان میں صرف تعاونِ اثم وعدوان ہے ۔

مگرافسوس کہ حضرت امیرشریعت مرحوم فتنے کی تشہیر کے ابتدائی زمانے میں ہی اگر اس فتنے کے سازش ہونے کا اعلان کردیتے تو امارت شرعیہ کی ساکھ بھی مجروح نہ ہوتی اورقائم مقام ناظم بھی ذہنی اذیت اوربدنامی سے دوچارنہ ہوتے ۔ فیاحسرتا ہ

دینی اداروں میں یاکسی بھی مذہبی شخصیت کے ساتھ عزت ریزی کا یہ گھناؤنا کھیل صرف اورصرف حسد کی بنیاد پر ہی ہوتا ہے اورکرنے والے لوگ محسود کے ہم لباس وہم علم ہوتے ہیں ۔

سوچیے توسہی، بغیر شرعی ثبوت کہ ہم کس طرح کسی کوملزم بنادیں اورکیوں کر کسی سے بدگمان ہوں ۔ البتہ اس باب میں ان فرضی لکھاریوں نے بھی قلم کی جولانیاں دوسروں کے اسلوب تحریر کو اختیار کرکے دکھا ئیں تاکہ محرر پر الزام نہ آئے، اس کے تعلقات ملزم سے استوارہی رہیں اور بدنامی کا ٹھیکرا کسی اورکے سرٹکڑائے؛ چناں چہ میں اس تحریر کے ذریعے یہ واضح کردینا چاہتاہوں کہ شرعی ثبوت نہ ملنے کی صورت میں کل بھی قائم مقام ناظم ملزم نہیں تھے اورآج بھی نہیں ہیں اورکل بھی نہیں ہوں گے؛ اس لئے کہ فردواحد کی شہادت خواہ مرد ہویا عورت شرعا معتبر نہیں ہوگی اوریہ سارے حاسدین جانتے ہیں، پھر بھی چندروزہ زندگی میں معصیت کا ارتکاب اورمکروفریب اورحسد کی گرم بازاری جاری رکھتے ہیں ایسا کیوں ۔؟ انا کی تسکین کیلئے ؟

اس لئے میں خود بھی قائم مقام ناظم کی طرف سے تمام شبہ وبدگمانی کو ختم کرتے ہوئے توبہ واستغفار کرتاہوں اور اپنے تمام محبین ومتوسلین سے گزارش کرتاہوں کہ قائم مقام ناظم کے سلسلے میں ہونے والی بدگمانی اورشبہ کو دور کرلیں اورتوبہ واستغفار کا لزوم فرمائیں ۔

بہار اڑیسہ وجھارکھنڈ کے تمام مسلمان اپنی انا اوراہل علم حضرات اپنی مداہنت کو چھوڑ کر باہمی اتحاد واتفاق سے اپنے اکابر کی امانت امارت شرعیہ کی تعمیروترقی اوراس کی حفاظت کی فکر میں مشغول ہوجائیں اور کسی بھی فردوبشر کے بہکاوے میں آکر کسی ایسے عدیم الفرصت شخصیت کو امیرشریعت کے منصب پر نہ بٹھائیں جو امارت شرعیہ کی حقیقی معرفت اوراس کی روایت سے ناواقف ہو؛ بلکہ اس وقت امیرشریعت کے لئے ایسے شخص کی ضرورت ہے جو تمام امراے شریعت کا رفیق کار قریب سے رہ چکا ہو، اس کو امارت کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ ہو ۔ عموما ہم لوگ اپنی پاکیزگی اورتقوی بگھارتے ہیں اوردوسرے باصلاحیت افراد کی حسد کی بنیادپر تحقیرکرتے ہیں یہ رجحان غلط ہے ۔ شخصیتوں کے اختلاف سے تعمیر کی راہیں ہموار ہوتی ہیں، مگر کردار کشی اورتنقیص ایسے لوگ کسی شخصیت کی کرنے لگیں جو جمعہ جمعہ آٹھ دن پہلے کسی ادارے میں آئے ہوں تو یہ شرافت سے بعید تر بات ہے ۔ یہ دنیا جس طرح ہتھیلی پر ہے، اسی طرح ہرشخص کے احوال وکردار سے دوسرا شخص واقفیت رکھتا ہے ۔ بس ہم لوگ خیر کو قبول کرلیں اورشر کو چھوڑ دیں یہی سلامتی کی راہ ہے ۔ یہ کیا کہ سارے جہاں کا جائزہ اپنے جہاں سے بے خبر ؟

اس وقت کرۂ ارضی پر انسانی آبادیوں کی جودرگت بنی ہوئی ہے اورجتنی کثرت سے کورونا جیسے نت نئے وبائی امراض سے اموات ہورہی ہیں اس نے سبھوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے، ایسے حالات میں توبہ واستغفار اورتمام معاصی سے اجتناب اور رجوع الی اللہ ضروری ہے اوریہ وقت تو نفرت اورشرارت کرنے کا نہیں؛ بلکہ محبت اورمرہم تقسیم کرنے کا ہے ۔ بہ قول حضرت مرشد ی وسیدی مولانا شاہ محمد احمد صاحب پرتابگڈھیؒ:

رحمت کا ابر بن کے جہاں بھر میں چھائیے

عالم یہ جل رہا ہے برس کر بجھا ئیے

دنیا تڑپ رہی ہے جو آلام ودرد سے

جامِ شفا ضرور اب اس کو پلائیے

اور:

دونوں جہاں میں پاتا ہے بے شک وہی فلاح

روتا جواپنے جرم پر زاروقطار ہو

اسی لئے میں اپنے ان تمام متعارفین وغیرمتعارفین محبین سے گزارش کرتاہوں کہ اگر میری ذات یا میری تحریر یاکسی عمل سے آپ کو کو ئی تکلیف پہنچی ہے تو بغیرکسی لیت ولعل کے میں آپ سے معافی مانگتاہوں۔ اللہ کے لئے آپ مجھےمعاف فرماکر اللہ کی خوشی حاصل کریں ۔

اسی طرح میں ازخود ان تمام لوگوں کو معاف کرتاہوں جنہوں نے حسد کی بنیاد پر میری عزت ریزی کی ہے یا میری غیبت ۔ اللہ پاک ہم سب کو معصیت اوراپنی نافرمانی سے بچائے اورہمیں اپنی اصلاح کی توفیق سے نوازے ۔آمین