امارت شرعیہ کی مجلس شوریٰ کی میٹنگ کل ، اہم امور پر ہوگا تبادلۂ خیال

پٹنہ:امارت شرعیہ کے قائم مقام ناظم مولانا محمد شبلی القاسمی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ امارت شرعیہ ایک دستوری اور آئینی ادارہ ہے ، جو ایک امیر شریعت کی ماتحتی میںاکابر کے بنائے ہوئے دستور اور قواعدو ضوابط کے مطابق چلتا ہے ، امارت شرعیہ کا دستور شریعت مطہرہ کی روح اور مزاج کے مطابق ، نصوص کی بنیاد پرمنہاج نبوت کو سامنے رکھتے ہوئے بنایا گیا ہے ۔امارت شرعیہ میں مختلف امور کی انجام دہی ، پالیسی سازی اور فیصلوں کے لیے کئی اہم کمیٹیاں ہیں جن میں سے ایک اہم کمیٹی مجلس شوریٰ ہے۔ مولانا موصوف نے مزید کہا کہ امیر شریعت سابع مفکر اسلام حضرت مولانا سید محمد ولی صاحب رحمانی نوراللہ مرقدہ مورخہ ۳؍اپریل ۲۰۲۱ ء کو اپنے رفیق اعلیٰ سے جاملے ،انا للہ وانا الیہ راجعون !ان کا ہمارے درمیان سے اٹھ جانانہ صرف امارت شرعیہ بلکہ پوری ملت اسلامیہ کا ناقابل تلافی نقصان ہے ،انہوں نے اپنے مثبت افکار ،بلند عزائم ،طویل منصوبوں ،خداداد بصیر ت اور دور اندیشی سے امارت شرعیہ کو توانائی بخشی اور عروج عطا کیا،ان کا دور امارت شرعیہ کی تاریخ کا روشن باب ہے ۔
ان کے وصال کے بعد مجلس شوریٰ کی پہلی نشست نائب امیر شریعت مولانامحمد شمشاد صاحب رحمانی قاسمی ،استاد دارالعلوم وقف دیوبند کی ہدایت کے مطابق مورخہ ۲۰ ؍جون بروز اتوار ساڑھے دس بجے آن لائن زوم ایپ پر رکھی گئی ہے ،تمام ارکان شوریٰ کو دعوت نامہ جاری کر دیا گیا ہے، وہاٹس ایپ ،ایس ایم ایس اور فون کے ذریعہ بھی اطلاع دے دی گئی ہے ۔اس میٹنگ میں بہت سے اہم امور پر تبادلۂ خیال ہو گا۔