امارت شرعیہ کے نام پر ہوٹل سمراٹ میں ہونے والی پریس کانفرنس دھوکہ، ارباب حل وعقد کا اجلاس پھلواری شریف میں ہو گا: مولانا شبلی القاسمی

پٹنہ: امارت شرعیہ ایک باوقار اور دستوری ادارہ ہے ، جو اکابر کے بنائے ہوئے دستور اور ضابطہ کے مطابق چلتا ہے، امارت شرعیہ کے آٹھویں امیر شریعت کے لیے انتخاب کے لیے ارباب حل و عقد کا اجلا س ارکان شوریٰ کے نصف سے زائد ارکان کی طرف سے 10 / اکتوبر 2021 کو المعہد العالی کیمپس امارت شرعیہ میں طلب کیا گیا ہے ۔ یہ اجلاس ارکان شوریٰ نے دستور امارت شرعیہ کی دفعہ ۱۷؍کی شق (و) اور ٹرسٹ ڈیڈ امارت شرعیہ میں مذکور دستور امارت شرعیہ کی دفعہ ۹؍ کے شق (ایف)میں دیے ہوئے اختیار کا استعمال کرتے ہوئے طلب کیا ہے ۔جس میں صاف طور پر لکھا ہے کہ اگر تین مہینے کی مدت میں امیر شریعت کا انتخاب نہ ہو تو ارکان شوریٰ کی نصف سے زیادہ تعداد(دستور امارت شرعیہ کی دفعہ ۱۷؍ کی شق و)یا ایک تہائی تعداد(ٹرسٹ ڈیڈ امارت شرعیہ میں مذکور دستور امارت شرعیہ کی دفعہ ۹؍ کی شق (ایف)کے ذریعہ امیر شریعت کے انتخاب کے لیے ارباب حل و عقد کا اجلاس طلب کیا جائے گا۔
ارکان شوریٰ کے اس فیصلے پرمجلس شوریٰ کے نصف سے زائد ممبروں کا دستخط موجود ہے۔نیز مجلس عاملہ کے اکثر ارکان اور بورڈ آف ٹرسٹیز کی اکثریت نے بھی اس فیصلہ کی تائید کی ہے اور اپنی تحریر کے ذریعہ قائم مقام ناظم امارت شرعیہ سے مذکورہ فیصلہ کے مطابق اجلاس کے انعقاد کی کارروائی کرنے کی گزارش کی ہے۔ساتھ ہی نائب امیر شریعت کی تائید و توثیق بھی اس فیصلہ کو حاصل ہو چکی ہے ، اس لیے کسی بھی طرح سے یہ فیصلہ غیر دستوری اور محض چند لوگوں کا فیصلہ نہیں ہے ، جس کا غلط پروپیگنڈا کچھ لوگوں کے ذریعہ کیا جا رہاہے۔
آج مورخہ۲۰؍ستمبر ۲۰۲۱ءکو احسان الحق صاحب نے امار ت شرعیہ کے لیٹر پیڈ کا غلط استعمال کر کے ہوٹل سمراٹ ، ڈاک بنگلہ چوراہا ، پٹنہ میں پریس کانفرنس کا دعوت نامہ جاری کیا ہے، جس میں حوالہ نمبر بھی فرضی ہے۔ یہ سراسر فریب اور جعلسازی ہے، اور امارت شرعیہ کے لیٹر پیڈ کو استعمال کر کے صحافیوں اور معززین کو دھوکہ دینے کی سازش ہے ، جوکہ غیر قانونی ہے ۔اس پریس کانفرنس میں چند لوگوں نے جو ایک خاص گروپ سے تعلق رکھتے ہیں ۔ ان لوگوں نے ارکان شوریٰ کے فیصلہ کی مخالفت کی ہے اور اسے غیر دستوری بتایا ہے ۔ حالانکہ کسی بھی طرح سے ارکان شوریٰ کا فیصلہ غیر دستوری نہیں ہے، بلکہ جعلی طور پر ان کا امارت شرعیہ کا لیٹر پیڈ استعمال کر کے پریس کانفرنس بلانا ہی غیر دستوری اور غیر قانونی ہے ، کیوں کہ امارت شرعیہ کی جانب سے ادارہ کے مفاد میں لیٹر پیڈ کے استعمال کا حق و اختیارصرف امیر شریعت، ناظم اور دیگر شعبہ کے ذمہ داروں کو ہے ،کسی عام کارکن کو بھی لیٹرپیڈ کے استعمال کا حق نہیں ہے ۔
یہ باتیں امارت شرعیہ کے قائم مقام ناظم مولانا محمد شبلی القاسمی صاحب نے اپنے بیان میں کہیں۔انہوں نے کہا کہ اس پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا گیا کہ وہاں پچیس ارکان شوریٰ حاضر تھے ،جبکہ میڈیا رپورٹ کے مطابق چند اراکین ہی موجود تھے ، بقیہ سب لوگ رحمانی تھرٹی کے لوگ تھے یا ایک خاص گروپ سے تعلق رکھتے تھے۔ جب میڈیا کے افراد نے ان اراکین سے ان کا نام جاننے کی کوشش کی تو وہ اپنا نام بتانے سے بھی گریز کرتے نظر آئے۔ اسٹیج پر جو لوگ نظر آرہے تھے ، ان میں زیادہ تر لوگ امارت شرعیہ کی کسی کمیٹی سے تعلق نہیں رکھتے ہیں ۔پریس ریلیز میں جن لوگوں کا نام شرکائے مجلس میں لکھا گیا ، جب میڈیا کے لوگوں نے ان کو وہاں نہیں پایا توفون لگا کر پوچھا کہ آپ کہا ں ہیں تو سب نے اپنے اپنے وطن یا دوسرے مقام پر ہونے کا ذکر کیا۔جناب مولانا ابو طالب رحمانی صاحب سے پوچھا گیا کہ حضرت آپ میٹنگ میں کہاں ہیں ؟ تو انہوں نے کہا کہ ہم کسی میٹنگ میں نہیں بلکہ ابھی کلکتہ میں ہیں۔جناب مولانا مشیر الدین صاحب نے جواب دیا کہ ہم کسی میٹنگ میں نہیں ہیں ہم تو ابھی مونگیر میں ہیں ، جناب مولانا گوہر امام قاسمی صاحب سے پوچھا گیا کہ آپ کہاں ہیں تو انہوں نے کہا میں ابھی باڑھ میں ہوں ، ان لوگوں نے غلط طور پر میرا نام لکھا ہے ۔ مولانا ساجد رحمانی صاحب نے جواب دیا ہم میٹنگ میں نہیں ہم تو ابھی امارت شرعیہ میں دوسرے کام سے آئے ہیں ۔ جناب مولانا مطیع الرحمن سلفی کشن گنج سے پوچھا گیا تو بتایا کہ ہم میٹنگ میں نہیں ہیں ابھی باگ ڈوگرا ایر پورٹ پر ہیں ۔جناب محمد مسلم صاحب نے بتایا کہ ہم کشن گنج میں ہیں ، جناب عرفان الحق صاحب سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان لوگوں نے میرا نام غلط استعمال کیا ، مجھے بہت دکھ ہے ، ہم ابھی جھارکھنڈ سے اڈیشہ کے سفر پر ہیں ، جناب انور صاحب راور کیلا نے بھی سخت ناراضگی کا اظہار کیا اور کہا کہ ہم کو اس میٹنگ سے کچھ لینا دینا نہیں ہے ، ہم اپنے گھر پر ہیں ۔اسی طرح جن لوگوں سے رابطہ ہو سکا ان میں سے اکثر نے اپنی ناواقفیت اور شریک نہ ہونے کی بات کہی ۔گویا یہ میٹنگ دھوکہ دے کر بلائی گئی اور دھوکہ دینے کے لیے اور غلط طور پر امار ت شرعیہ کا امیر شریعت بننے کی غرض سے امارت شرعیہ کو نقصان پہونچانے کی ٰغرض سے یہ میٹنگ بلائی گئی ۔ چند شامل لوگوں نے بتایا کہ ہم کو معلوم نہیں تھا کہ امارت شرعیہ نے یہ میٹنگ نہیں بلائی ہے ۔ اس میں شریک ہو کر اور ان کی گندی ذہنیت دیکھ کر ہم شرمندہ ہیں ۔
قائم مقام ناظم صاحب نے بتایا کہ امارت شرعیہ ملت کا عظیم سرمایہ ہے اور اس کی جڑیں زمین میں پیوست ہیں ، اس کا دستور بزرگوں کا بنایا ہوا ، اس کے مطابق ان شاء اللہ ارباب حل وعقد کا اجلاس 10 /اکتوبر 2021 کو ہو گا۔