امارت شرعیہ کے سوسال پورے ہونے پر صدسالہ تقریب کاانعقاد

تقریب سے نائب امیر شریعت مولاناشمشاد رحمانی سمیت امارت کے دیگر ذمے داران کاخطاب
سہرسہ(جعفرامام قاسمی):امارت شرعیہ کے قیام کو سوسال پورے ہونے پراس کی صدسالہ خدمات سے عوام الناس کو متعارف کرانے کے لیے آج تنظیم ائمہ مساجدسہرسہ کے زیراہتمام سمری بختیارپورسب ڈویژن کے رانی باغ کی جامع مسجدمیں امارت شرعیہ کاصدسالہ پیغام ملت اسلامیہ کے نام کے عنوان سے ایک باوقار تقریب کاانعقادکیاگیا۔تقریب کاآغازقاری برکت اللہ کی تلاوت کلام پاک اورصحافی مفتی جعفرامام قاسمی کی نعت پاک سے عمل میں آیا۔بعدازاں امارت شرعیہ کی صدسالہ زریں خدمات کے اعتراف میں تقریب کے روح رواں حضرت نائب امیرشریعت مولانامحمد شمشادرحمانی قاسمی کی خدمت میں امارت شرعیہ صدسالہ ایوارڈ پیش کیاگیا۔واضح رہے کہ امارت کے سوسال پورے ہونے پر یہ پہلی صدسالہ تقریب تھی جس کے انعقادکاسہراسب سے پہلے اہالیان سہرسہ کے سربندھا۔
کوسی ڈویژنل کے مشہورمعالج و رکن امارت شرعیہ ڈاکٹرابوالکلام کی صدارت اورمعروف صحافی مولاناشاہنوازبدرقاسمی کی نظامت میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نائب امیر شریعت مولاناشمشاد رحمانی نے کہاکہ امارت شرعیہ ایک الہامی ادارہ ہے جس کے قیام کے مقاصدمیں اعلائے کلمۃ اللہ،مسلمانان ہندکے ایمان وعقائد،ان کے جان و مال اورعزت وآبرو کے تحفظ کے ساتھ ساتھ مسلم بچے اور بچیوں کی تعلیم وتربیت کے لیے دینی و عصری اداروں کاقیام اورمسلمانوں کو سیاسی اعتبارسے پروان چڑھاناشامل ہے،ان‌مقاصدکی تکمیل کے لیے بانی امارت شرعیہ محسن ملت ابوالمحاسن محمدسجاد سے لے کرمفکراسلام مولاناولی رحمانی تک کے اس صدسالہ دورمیں امارت نے جونمایاں خدمات انجام دی وہ آب زرسے لکھے جانے کے قابل ہیں،محترم نائب امیر نے کہاکہ اس سوسالہ دورمیں امارت شرعیہ اپنے مقصد سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹی۔بلکہ روزبروزاس کی خدمات کادائرہ وسیع سے وسیع ترہوتاگیا۔انہوں نے کہاکہ امارت شرعیہ کی روزافزوں یہ ترقی اوراس کی ملک گیر یہ شہرت امارت کے بزرگوں کے اخلاص کانتیجہ ہے،وہ بزرگ دن میں کام کیاکرتے اوررات میں اس کام کی وسعت،برکت اوردوام کے لیے بارگاہ ایزدی میں دعائیں کیاکرتے۔نائب امیرشریعت نے اپنے خطاب میں کہاکہ سمری بختیارپورمیں دارالقضاء کی عمارت کی تعمیرضروری ہے،اہل ثروت اس پرخصوصی توجہ دیں۔امارت شرعیہ کے صدرقاضی مولاناانظارعالم قاسمی نے اپنے خطاب میں کہاکہ بانی امارت شرعیہ مولانا محمدسجاد صاحب ہندستان میں نصب امیر کو مسلمانوں کا ملی فریضہ تصور کرتے تھے، اس مقصدکے تکمیل کے لیے انہوں نے سب سے پہلے انجمن علمائے بہارقائم کی پھر اس کے بعدجمعیۃ علمائے ہندکاقیام عمل میں لایا اوراس کے بعد امارت شرعیہ کی بنیاد ڈالی ،آگے چل کران اداروں سے بے شمار ادارے کاوجودہوا اس لیے اگرکہاجائے کہ ہندوستان کے اکثر ادارے کے بانی مولاناسجادہیں یہ مبالغہ نہ ہوگا۔مفتی سعید الرحمن قاسمی مفتی امارت شرعیہ نے اپنی تقریر میں کہاکہ امارت شرعیہ کے امرائے شریعت،نظماء،اورامارت کے دیگرذمہ داران نے امارت کے اس صدسالہ دورمیں مسلمانان ہندکے حقوق ،ان کے جان و مال اورعزت وآبرو کے تحفظ، تبلیغ دین، اور مسلمانوں کو فتنہ ارتداد اور قادیانیت سے بچانے کے لیے جو نمایاں خدمات انجام دی وہ تاریخ کے سنہراباب ہیں،بالخصوص بانی امارت شرعیہ ابوالمحاسن محمدسجادصاحب نے مسلمانوں کی سیاسی قوت کو پروان چڑھانے اورانہیں فتنہ ارتداد اوران کے عقیدے کے تحفظ کے لیے جونمایاں خدمات انجام دی اسے تاریخ فراموش نہیں کرسکتی۔ امارت کے معاون ناظم مولاناقمرانیس نے اپنے بیان میں کہاکہ امارت شرعیہ کسی انجمن یا کمیٹی کانام نہیں ہے ،امارت شرعیہ اس ملک میں اللہ کی زمین پراللہ کے احکامات کی تکمیل کااہم ترین ذریعہ ہے، تنظیم ائمہ مساجدکے صدر حافظ ممتاز رحمانی نے استقبالیہ کلمات پیش کیے۔تقریب کو صدرجلسہ ڈاکٹرابوالکلام، جامعہ خانقاہ رحمانی کے استاذمولاناسیف الرحمن ندوی نے بھی خطاب کیاـ اس موقعے پر بڑی تعداد میں علما، سماجی و سیاسی کارکنان موجود رہےـ