امارت شرعیہ اپنے قائم کردہ اسکولوں کو معیاری تعلیم و تربیت کا مرکز بنانے کے لیے پر عزم: مولانا شمشاد رحمانی

پٹنہ:مورخہ ۸؍جولائی۲۰۲۱ء کو امارت شرعیہ کے ذریعہ قائم کر دہ اسکولوں کے جائزہ کے لیے ایک میٹنگ نائب امیر شریعت حضرت مولانا محمد شمشاد رحمانی صاحب کی صدارت میں امارت شرعیہ میں منعقد ہوئی ، اس میٹنگ میں قائم مقام ناظم امارت شرعیہ مولانا محمد شبلی لقاسمی ، مولانامفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی، مولانا سہیل احمد ندوی و مولانا مفتی محمد سہراب ندوی نائبین نظماۓ امارت شرعیہ ، مولانا محمد ابو الکلام شمسی معاون ناظم و نگراں امارت پبلک اسکول گریڈیہہ و رانچی و مولانا محمد عادل فریدی شریک ہوئے ۔میٹنگ میں مختلف اسکولوں کی رپورٹ پیش کی گئی ،اور بتایا گیا کہ سبھی جگہ آن لائن تعلیم کا نظم ہو رہا ہے ۔نائب امیر شریعت مد ظلہ نے رپورٹ پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی سیکشن کو مضبوط رکھنا اور اس کی نگرانی کرنا بنیادی چیز ہے اس پر خاص توجہ دینی چاہئے، انہوں نے کہا کہ امارت شرعیہ کے ذریعہ قائم کردہ سبھی اسکولوں اور دیگر تعلیمی اداروں کو معیاری تعلیم و تربیت کا مرکز بنانا ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے اور امارت شرعیہ اس کے لیے پر عزم ہے ۔انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ جہاں جہاں تعمیر ی ضرورت ہے ، یا انفراسٹرکچر کی کمی ہے اسکو جلد از جلد پورا کیا جائے گا۔ قائم مقام ناظم مولانا محمد شبلی القاسمی صاحب نے کہا کہ امار ت شرعیہ نے ہمیشہ ہی دینی وعصری تعلیم کے فروغ کو اپنے بنیادی مقاصد کا حصہ بنایا ہے ، امیر شریعت سابع حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی صاحب نور اللہ مرقدہ کا منصوبہ تھا کہ ہر ضلع میں سی بی ایس ای طرز کا معیاری اسکول قائم کیا جائے ۔ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی زندگی میں رانچی اور گریڈیہہ میں امارت پبلک اسکول کے نام سے دو اسکول قائم کیے اور رانچی کے اربا ئی میں ہی اپنے ہاتھوں سے امارت انٹرنیشنل اسکول کی بنیاد ڈالی ۔ حضرت امیر شریعت سابع ؒ کے خوابوں کو شرمندۂ تعبیر کرنا اور ان کے ادھورے منصوبوںکو پورا کرنا ہماری ذمہ داری ہے ، اور امار ت شرعیہ اس کے لیے پر عزم ہے ۔ واضح ہو کہ اس وقت امارت شرعیہ کے زیر انتظام چھ اسکول چل رہے ہیں ، جس میں تین اسکولوں میں بہار بورڈ کے نصاب کے مطابق تعلیم ہوتی ہے، دو اسکولوں میں سی بی ایس ای بورڈ کا نصاب تعلیم زیر عمل ہے ، جبکہ ایک اسکول بنگال بورڈ کے نصاب کے مطابق تعلیم دیتا ہے ۔امار ت شرعیہ کے اسکولوں کی خاص بات یہ ہے کہ معیاری تعلیم کے ساتھ یہاں تربیت پر خاص زور دیا جاتا ہے اور بنیادی دینی تعلیم اور اردو نصاب کا لازمی حصہ ہے ، دوسری بات یہ ہے کہ یہاںمخلوط تعلیم نہیں ہے ، بلکہ تین اسکول خالص لڑکیوں کے ہیں، جب کہ تین اسکولوں میں لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے علاحدہ علاحدہ سیکشن ہیں۔