امام فراہی رحمہ اللہ کی عربی شاعری ـ حسان عارف

تالیف: امام حمید الدین فراہی

تحقیق: ڈاکٹر محمد خالد رہاوی ، ڈاکٹر عامرخلیل جراح
مترجم : حافظ قمر حسن
ناشر : ادارہ تدبر قرآن و حدیث، لاہور ، پاکستان

یہ کتاب امام فراہی رحمہ اللہ کے عربی دیوان کا ترجمہ اور ان کی شاعری کا تحقیقی جائزہ ہے۔ یہ دیوان ان قصائد کا مجموعہ ہے جسے مولانا بدر الدین اصلاحی نے ان کی قلمی تحریروں سے مرتب کیا تھا۔ نیز ڈاکٹر محمد خالد رہاوی اور ڈاکٹر عامر خلیل جراح نے امام فراہی کی شاعری پر اپنی تحقیقی کاوش "شعر الامام عبد الحمید الفراہی”کے نام سے پیش کی ہے۔ اس کا اردو ترجمہ برادرم حافظ قمر حسن صاحب نے کیا ہے۔

امام فراہی رحمہ اللہ ایک فصیح و بلیغ ادیب اور ایک صاحب حکمت شاعر تھے جس کا ثبوت قصائد کا یہ مجموعہ ہے۔ وہ ایک فطری شاعر تھے اور جاہلی شعرا اور قدیم عرب فصحا کی طرز ادا پر شعر کہتے تھے۔ ایک آدھ مقام پر مصرعوں کے تکرار نے مہلہل کے مرثیہ کی یاد تازہ کر دی ہے۔ ان کی نظموں کا عمومی مزاج اخلاقی و دینی ہے اور یہ نظمیں ملی وحدت کا پیغام بھی ہیں اور ملامت بھی۔

اس مجموعے کے بیشتر اشعار کا تعلق ترکوں اور اطالویوں کے ان معرکوں سے ہے جن کی آتش زدگی کے شعلے طرابلس اور بلقان تک پہنچے۔ اس میں شک نہیں کہ وہ عالم اسلام پر آنے والی بڑی مصیبت تھی۔ امام فراہی رحمہ اللہ ان عظیم واقعات پر بہت پریشان ہوئے اور دل کا غبار اشعار کی صورت صفحۂ قرطاس پر بکھر گیا۔ انھوں نے شہدائے طرابلس کا دل گداز مرثیہ کہا ۔ خود روئے، قاری کو بھی رلایا۔ کچھ اشعار وعظ و حکمت سے متعلق ہیں جن میں انھوں نے لوگوں کو انتباہ کیا ہے کہ وہ غفلت شعاری ترک کر دیں۔ آپ نے انسانوں کو گردش زمانہ سے ہوشیار رہنے اور دنیا کے فتنوں سے بچ کر زندگی گزارنے کی تلقین فرمائی اور نور ایمان و حکمت دین کی طرف ان کی رہنمائی کی ہے۔

محققین نے امام فراہی کے اشعار کا تحقیقی عمل دو حصوں میں تشکیل دیا ہے جن میں تحقیقی کاوش کا پہلا حصہ دو فصلوں پر مشتمل ہے۔ پہلی فصل میں امام فراہی کی سوانح حیات پیش کی گئی ہے۔ دوسری فصل میں ان کے اشعار زیر بحث لائے گئے ہیں جہاں ان کا سہ سطحی مطالعہ کیا گیا ہے: مقصدی و تداولی(رواجی) مطالعہ، اسلوبیاتی و بلاغی اور ایقاعی و صوتی مطالعہ۔ دوسرا حصہ امام فراہی کے دیوان شعری کی تحقیق و تدوین پر مبنی ہے۔

امام فراہی کی تحریریں انٹرنیٹ پر مطبوعہ کے بجائے مخطوط تحریروں کے زیادہ قریب ہیں کیونکہ قدیم اشاعتیں ضبط اعراب، ہمزوں اور بیشتر نقطوں سے بھی عاری ہیں۔ محققین نے اشعار کے متن کو اعراب سے آراستہ کیا ہے، مشکل الفاظ و تراکیب کی تشریح کر دی ہے اور اقتباس و تضمین کے علاوہ بعض فنی صورتوں اور لسانی استعمالات کی وضاحت کر دی ہے۔ یہ تمام توضیحات حواشی میں جا بجا دکھائی دیتی ہیں۔ کتاب کے آخر میں فنی فہرستیں دی گئی ہیں تاکہ مراجعت آسان رہے۔

الغرض عرصۂ دراز سے خواہش تھی کہ اردوداں طبقے کے لیے اس کتاب کا اردو ترجمہ کروا کر شائع کیا جائے۔ خوش قسمتی سے اس سلسلے میں برادرم حافظ قمر حسن صاحب جیسے منجھے ہوئے تجربہ کار مترجم کی خدمات مجھے میسر آ گئیں۔ حافظ قمر حسن صاحب نہ صرف عربی و اردو زبان اور ان کے محاورات پر بھرپور عبور و دسترس رکھتے ہیں بلکہ ساتھ ہی وہ علوم دینیہ اور تاریخِ اسلامی کے بھی شناور ہیں۔ امام فراہی کی شاعری اگر پڑھنے میں کسی قدر دل آویز ہے تو حافظ قمر حسن صاحب کے قلم سے کیا گیا اس کا اردو ترجمہ بھی کچھ کم نہیں۔ اس کتاب کی اشاعت ادارہ تدبر قرآن و حدیث کے زیر اہتمام نومبر کے پہلے ہفتے تک ہو جائے گی۔