علم،تواضع اور سادگی کا سنگم:ڈاکٹر محمد رفعت-ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

محترم ڈاکٹر محمد رفعت کی نمازِ جنازہ میں شرکت کرکے اور ان کی قبر پر مٹّی ڈال کر ابھی تھوڑی دیر قبل لوٹا ہوں _ دل کی کیفیت عجیب ہے _ کل شب جب ان کے انتقال کی خبر ملی تھی ، اس وقت سے اب تک کسی لمحے ان کا سراپا نگاہوں سے اوجھل نہیں ہوا ہے اور یادوں کا سیلاب ہے کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے اور اس کی طغیانی برابر جاری ہے _ کل شب تقریباً ساڑھے دس بجے ان کے انتقال کی خبر بہت غیر متوقع تھی _ یقین کرنے پر دل کسی بھی طرح آمادہ نہیں تھا _ جمعہ کی نماز میں تو وہ شریک تھے _ عصر کی نماز بھی پڑھی تھی _ لیکن پے در پے اطلاعات نے خبر کی تصدیق کرنے پر مجبور کردیا _ بھاگ کر ہاسپٹل پہنچا _ ایسا لگا کہ وہ گہری نیند میں سو رہے ہیں _ اس وقت کا منظر زبانِ حال سے کہہ رہا تھا :
حیات جس کی امانت تھی اس کو لوٹادی
میں آج چین سے سویا ہوں پاؤں پھیلاکر

ڈاکٹر محمد رفعت سے راقم سطور کا تعلق چار دہائیوں سے زیادہ عرصے پر محیط ہے _ آخری ایک دہائی میں تو ان کے ساتھ کام کرنے کی سعادت حاصل رہی ہے _ وہ مجھے بہت عزیز رکھتے تھے اور میں بھی ان سے بہت زیادہ قربت محسوس کرتا تھا _ ان کی وفات سے مجھ پر ایسی کیفیت طاری ہے جیسے میں نے اپنا کوئی بہت ہی قریبی عزیز کھو دیا ہو _ صدمہ اتنا شدید ہے کہ ان کے بارے میں کچھ لکھنے پر طبیعت آمادہ نہیں ہے ، لیکن احباب کی خواہش ، بلکہ اصرار ہے کہ ان کے بارے میں کچھ تاثرات کا اظہار کروں _

ڈاکٹر محمد رفعت کی وفات تحریک اسلامی ہند کا ہی نہیں ، بلکہ عالمی اسلامی تحریک اور پوری امتِ مسلمہ کا بہت بڑا خسارہ ہے ۔ وہ موجود دور کے عظیم فکری رہ نما ، بلند پایہ دانش ور ، آئیڈیالاگ اور تھنک ٹینک تھے _ اسلام پسند نوجوانوں کی بہت بڑی تعداد نے ان سے فکری تربیت پائی ہے اور ان کے اندر اسلام کے لیے جینے اور اسلام کے لیے مرنے کا حوصلہ پیدا ہوا ہے _ وہ نئی نسل کے محبوب قائد اور رہ نما تھے _ ان کی تقریریں اور تحریریں ان شاء اللہ عرصے تک اسلام پسند نوجوانوں کو مہمیز کرتی رہیں گی _

ڈاکٹر صاحب کا آبائی وطن خورجہ(ضلع بلند شہر ، مغربی اترپردیش) تھا ، لیکن ان کے والد حاجی بندو خاں ، جو الحمدللہ ابھی حیات ہیں ، علی گڑھ آگئے تھے _ وہ سرکاری ملازمت سے نائب تحصیل دار کے عہدے سے سبک دوش ہوئے _ طالب علمی کے زمانے سے ہی ڈاکٹر صاحب کا شمار علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کے ممتاز طلبہ میں ہوتا تھا ۔ انھوں نے 1976 میں وہاں سے ایم ایس سی (فزکس) کیا ، پھر آئی آئی ٹی کان پور چلے گئے ، جہاں سے 1984 میں پی ایچ ڈی کی حاصل کی _ اس کے ایک سال بعد جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی میں ان کا تقرر ہوگیا تھا _ وہ ڈپارٹمنٹ آف ایپلائڈ سائنسز اینڈ ہیومنیٹیز ، فیکلٹی آف انجینیرنگ اینڈ ٹیکنالوجی میں فزکس کے کام یاب اور ماہر اساتذہ میں سے تھے _ لیکچرار ، ریڈر ، پروفیسر اور صدرِ شعبہ کے مراحل سے گزرتے ہوئے ابھی چند ماہ قبل 31 جولائی 2020 کو وظیفہ یاب ہوئے تھے _ فزکس کے موضوع پر ان کی کئی کتابیں شائع ہوئی ہیں _

تحریک اسلامی سے ڈاکٹر صاحب کا تعلق زمانۂ طالب علمی ہی سے ہو گیا تھا _ تحریک ان کی گھٹّی میں پڑی ہوئی تھی _ انھوں نے مولانا سید ابو الاعلی مودودی ، مولانا ابو اللیث اصلاحی ندوی ، مولانا صدر الدین اصلاحی اور دیگر اکابرِ تحریک کی تحریروں کا مطالعہ اتنے انہماک سے کیا تھا کہ ان کے تمام مضامین انہیں ہر وقت مستحضر رہتے تھے اور وہ وقتِ ضرورت فوراً اس کا حوالہ دے دیتے تھے _ علی گڑھ اور کان پور دونوں جگہ طلبہ کے درمیان ان کی دعوتی و تحریکی سرگرمیاں برابر جاری رہیں _ ملک میں ایمرجنسی (1975) کے دوران جماعت اسلامی ہند ممنوع قرار دی گئی تو یہ احساس پیدا ہوا کہ ملک کے مختلف حصوں میں سرگرم اسلام پسند طلبہ اور نوجوان کو ، جو مختلف ناموں سے اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں ، ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا جائے اور ملکی سطح پر ایک تنظیم قائم کی جائے _ اس احساس کے نتیجے میں اسٹوڈنٹس اسلامک موومنٹ آف انڈیا کی تشکیل ہوئی تو ڈاکٹر رفعت صاحب اس کے پہلے منتخب صدر قرار پائے _ انھوں نے دو میقاتوں میں صدارت کی ذمے داری نبھائی _

جماعت اسلامی ہند کی باضابطہ رکنیت اختیار کرنے کے بعد ڈاکٹر صاحب کو مختلف سطحوں پر خدمت انجام دینے کا موقع ملا _ وہ کچھ عرصہ ابو الفضل انکلیو کی مقامی جماعت کے امیر رہے _ 1995 میں انہیں حلقۂ دہلی و ہریانہ کا امیر بنایا گیا _ مسلسل 16 برس وہ اس منصب پر فائز رہے _ اپریل 2011 سے مارچ 2015 تک جماعت کے شعبۂ تربیت کے مرکزی سکریٹری رہے _ اِس میقات میں اور اگلی میقات میں بھی (2015 تا 2019) وہ تصنیفی اکیڈمی کے اعلیٰ ذمے دار رہے _ میقاتِ رواں میں انہیں جماعت کے تحقیقی ادارے ‘سینٹر فار اسٹڈی اینڈ ریسرچ’ کا ڈائریکٹر بنایا گیا تھا _ مرکز جماعت کیمپس میں واقع اسلامی اکیڈمی کے ٹرسٹیز میں سے تھے اور اس کے تحت قائم انڈین انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز کے فیکلٹی ممبر تھے _ 1999 سے برابر جماعت کی اعلیٰ اختیاراتی باڈیز مرکزی مجلسِ شوریٰ اور مجلسِ نمائندگان کے رکن منتخب ہوتے چلے آرہے تھے _ وہ جماعت کے مختلف ٹرسٹوں کے رکن تھے _ جماعت کی پالیسی و پروگرام کی ترتیب و تدوین ، دستوری ترمیمات اور بعض حسّاس موضوعات پر مرکزی مجلس شوریٰ کی جانب سے تشکیل دی جانے والی کمیٹیوں میں انہیں ضرور شامل رکھا جاتا تھا _ جماعت میں ان کی حیثیت فکری رہ نما کی تھی _ ان کی اصول پسندی تحریکی حلقے میں بہت معروف تھی _ مختلف موضوعات و مباحث میں وہ سوچی سمجھی آراء رکھتے تھے ، جن کا برملا اظہار کرتے تھے _ وہ تحریکی قدروں ، روایات اور اصولوں کے محافظ تھے _ تحریک اسلامی کو ان پر قائم و دائم رکھنے کے لیے برابر کوشاں رہتے تھے _

ڈاکٹر رفعت صاحب کا مطالعہ بہت وسیع اور متنوّع تھا _ جدید افکار و نظریات پر ان کی گہری نظر تھی _ اس کے ساتھ انھوں نے اسلامی علوم کا بھی سنجیدگی اور انہماک کے ساتھ مطالعہ کیا تھا _ مولانا مودودیؒ اور مولانا صدر الدین اصلاحیؒ کی کتابوں کے مضامین ہمیشہ انہیں مستحضر رہتے ۔ ان کے علاوہ دیگر معاصر علماء کی کتابوں کا بھی انھوں نے مطالعہ کیا تھا ، جن کا وہ اپنی تحریروں میں بڑے احترام کے ساتھ حوالہ دیا کرتے تھے _ ادب کا بھی بہت پاکیزہ اور نفیس ذوق رکھتے تھے _ انھیں اردو ادب کے اساطین شعراء کے ہزاروں اشعار یاد تھے ، جن کا وہ اپنی تقریروں اور تحریروں میں برمحل استعمال کیا کرتے تھے _

ڈاکٹر صاحب کا اندازِ تقریر بڑا نرالا تھا _ اس میں گھن گرج کے بجائے ٹھہراؤ اور سبک رفتاری پائی جاتی تھی _ کسی بھی موضوع پر اظہارِ خیال کرنا ہو ، وہ یادداشت کے لیے کوئی پرچی نہیں استعمال کرتے تھے ، اس کے باوجود ان کی گفتگو اتنی مربوط ہوتی تھی کہ لگتا تھا ، لکھا ہوا مقالہ پڑھ رہے ہیں ۔ تقریر کے لیے جتنا وقت مقرر کیا جاتا ٹھیک اسی وقت گفتگو ختم کردیتے تھے ، ایک منٹ بھی اس سے تجاوز نہیں کرتے تھے _ تقریر کے بعد سوال و جواب کا موقع ہوتا تو ہر سوال کا بہت مختصر اور نپا تلا ، لیکن مدلّل اور اطمینان بخش جواب دیتے تھے _

اپریل 2009 میں انہیں جماعت اسلامی ہند کے ترجمان ماہ نامہ زندگی نو کا مدیر بنایا گیا _(اس کے چند مہینے بعد تک رسالہ پر سابق مدیر ڈاکٹر فضل الرحمٰن فریدی صاحب کا نام بہ حیثیت مدیر شائع ہوتا رہا _) اس ذمے داری پر وہ اگست 2019 تک (دس برس) فائز رہے _ ان کے اشارات (اداریے) علمی ، دینی اور تحریکی حلقوں میں بہت قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے _ ہر مہینے قاریین کو بڑی بے صبری سے اس کا انتظار رہتا تھا _ ان کا اسلوب بہت سہل اور عام فہم تھا ، لیکن مضامین گہرے معانی پر مشتمل رہتے تھے _

راقم سطور 2011 میں علی گڑھ سے دہلی منتقل ہوا _ اس وقت ڈاکٹر صاحب جماعت کی تصنیفی اکیڈمی (جو مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز کی نگرانی کے لیے قائم کی گئی تھی) کے سکریٹری اور مولانا سید جلال الدین عمری امیر جماعت اور اکیڈمی کے چیئرمین تھے _ مجھے تصنیفی اکیڈمی کی سکریٹری شپ دی گئی تو ڈاکٹر صاحب کو اس کا ڈائریکٹر پھر 2015 میں چیئرمین بنادیا گیا _ مجھے ان کے ساتھ دو میقاتوں میں (8 برس) کام کرنے کا موقع ملا _ اس عرصے میں مرکزی مکتبہ سے بڑی تعداد میں نئی کتابیں شائع ہوئیں اور تحریکی لٹریچر میں سے متعدد اہم اردو کتابوں کا انگریزی ترجمہ کروایا گیا _ ڈاکٹر صاحب نے مجھے مسودات کے ردّ و قبول کے معاملے میں آزادی دے رکھی تھی _ ان کے ساتھ کام کرتے ہوئے مجھے کسی ایک موقع پر بھی ان کا کوئی رویّہ ناگوار نہیں گزرا _ وہ ہمیشہ مُسکراکر بات کرتے _ کوئی بھی مسئلہ ان کے سامنے پیش کرتا ، وہ چٹکیوں میں اسے حل کردیتے تھے _ اردو مسودات کو عموماً پہلے میں دیکھتا ، پھر ان کو دکھاتا _ انگریزی مسودات کو وہ خود چیک کرتے _ ان کے زمانے میں ہونے والے تمام انگریزی تراجم کو انھوں نے بالاستیعاب دیکھا اور زبان و بیان کی بہت باریکی سے اصلاح کی _ وہ ماہ نامہ زندگی نو کے بھی بعض کام میرے حوالے کردیتے تھے_ موصولہ مضامین میں سے بعض کی ایڈیٹنگ مجھ سے کرواتے تھے _ کئی مرتبہ انھوں نے مجھ سے ‘اشارات’ بھی لکھوائے _ ان کے زمانۂ ادارت میں رسالے کا مخصوص کالم ‘رسائل و مسائل’ مجھ سے ہی متعلق رہا _ ایک مرتبہ بعض حضرات نے کوشش کی کہ مجھے اس کام سے الگ کردیا جائے ، چنانچہ انھوں نے ڈاکٹر صاحب کو مشورہ دیا کہ یہ کالم کسی ایک فرد سے لکھوانے کے بجائے ایک بورڈ تشکیل دیا جائے ، جس کی طرف سے اجتماعی طور پر قارئین کے فقہی سوالات کے جوابات دیے جائیں ، لیکن ڈاکٹر صاحب نے اس تجویز کو درخورِ اعتنا نہیں سمجھا اور مجھ سے ہی یہ کالم لکھواتے رہے _ میں نے تجویز رکھی کہ زندگی نو میں شائع ہونے والے ان کے اداریوں کو کتابی صورت میں شائع کروادیا جائے _ اس تجویز کو تصنیفی اکیڈمی کی کمیٹی نے منظوری دی تو میں نے ان کی تمام تحریروں کو اکٹھا کرکے متعدد مجموعے تیار کردیئے ، جن کی مکتبہ سے اشاعت ہوئی _ یہ کتابیں درج ذیل ہیں :
* جماعت اسلامی کی پانچ بنیادی خصوصیات (2010)
* عصرِ حاضر کے پُر فریب نعرے (2015)
*امّتِ مسلمہ _ مشن اور خود شناسی (2015)
* اسلامی تحریک _ سفر اور سمتِ سفر (2015)
* فرد ، معاشرہ اور ریاست _ اقامتِ دین کے تناظر میں (2015)
* امت مسلمہ کا نظامِ اجتماعی (2018)
* علم و تحقیق کا اسلامی تناظر (2018)
* دعوت اور جہاد _ عصرِ حاضر کے تناظر میں (2018)
* مسلمان اور ہندوستانی ریاست (2019)
ان میں سے صرف پہلی کتاب (جو اصلاً زندگی نو میں شائع ہونے والا ان کا ایک مقالہ تھا) میری سکریٹری شپ سے پہلے کا ہے _ اس کے علاوہ ان کے چند مضامین کا مجموعہ ‘فکر اسلامی کا سفر _ راہ اور راہی’ ہدایت پبلشرز نئی دہلی سے شائع ہوا ہے _ اس میں تحریک اسلامی کے بعض مفکرین کی خدمات پر روشنی ڈالی گئی ہے اور ان کے افکار سے بحث کی گئی ہے _ اس کے علاوہ انھوں نے مولانا سید جلال الدین عمری کی کتاب ‘ اسلام _ انسانی حقوق کا پاسباں’ کا اردو سے انگریزی میں ترجمہ کیا ہے ، جو مکتبہ سے Islam _The Bastion of Human Rights کے نام سے شائع ہوا ہے _

ڈاکٹر صاحب ادارۂ تحقیق و تصنیف اسلامی علی گڑھ کے بانی ارکان میں سے تھے _ 1981 میں ادارہ کی تشکیلِ نو ہوئی تو انہیں ادارہ کا خازن بنایا گیا _ اس منصب پر وہ آخر تک فائز رہے _ ادارہ کی مجلسِ منتظمہ کی ہر میٹنگ میں بہت پابندی سے شریک ہوتے ، اس کے محققین کے علمی کاموں پر نظر رکھتے اور ان کے مسودات کو دیکھ کر انہیں بہتر بنانے کے لیے اپنے قیمتی مشوروں سے نوازتے _ ابھی دو برس قبل ادارہ کے ترجمان سہ ماہی تحقیقات اسلامی کے مدیر مولانا جلال الدین عمری نے ان سے خواہش کی کہ مجلہ کے لیے جدید موضوعات پر مضامین لکھیں _ انھوں نے تعمیل کی ، چنانچہ ان کے درج ذیل مضامین تحقیقات اسلامی میں شائع ہوئے :
* اسٹیفن ہاکنگ کے نظریات کا تنقیدی جائزہ ، اکتوبر _ دسمبر 2018
* جدیدیت ، مابعد جدیدیت اور اسلام ، جنوری _ مارچ 2019
* حیاتیاتی نظریۂ ارتقاء _ تعارف و جائزہ ، جنوری _ مارچ 2020
* سائنس اور ٹکنالوجی _ اسلامی نقطۂ نظر ، جولائی _ ستمبر 2020

ڈاکٹر صاحب کی ایک نمایاں خوبی ان کا تواضع تھا _ اتنی عظیم علمی شخصیت کا حامل ہونے کے باوجود انھوں نے اپنی زبان سے کبھی اپنے علم و فضل کا بے جا اظہار نہیں کیا _ انہیں اپنی عبقریت اور ذہانت و ذکاوت کا غرّہ نہیں تھا _ وہ تعلّی اور خود ستائی سے کوسوں دور تھے _ دوسروں کی ، حتیٰ کہ اپنے سے چھوٹوں ، بلکہ اپنے شاگردوں کی باتوں کو بہت غور سے سنتے ، ان کی خوب حوصلہ افزائی کرتے _ میری متعدد کتابیں اور کتابچے ان کی نظر سے گزر کر اور ان کی منظوری کے بعد مرکزی مکتبہ سے شائع ہوئے _

ڈاکٹر صاحب میں غلو کی حد تک سادگی پائی جاتی تھی _ یہ تصنّع نہ تھا ، بلکہ ان کا مزاج ہی سادگی پسند بن گیا تھا _ وہ واقعتاً صوفی منش اور درویش صفت انسان تھے _ انہیں اپنے جامے کی بھی پروا نہیں رہتی تھی _ پینٹ شرٹ پہنتے ، لیکن ان کی پینٹ ہمیشہ ٹخنے سے اوپر رہتی تھی _ بسا اوقات کپڑے پریس سے عاری رہتے تھے _ انہیں میں نے کبھی جوتے پہنے ہوئے نہیں دیکھا ، حتیٰ کہ دسمبر اور جنوری کی سخت سردی میں بھی وہ پرانی سی چپل پہنے رہتے تھے _ مارچ میں ان کے ساتھ ایک سمینار میں شرکت کرنے کے لیے فلائٹ کے ذریعے اورنگ آباد سفر کرنے کا موقع ملا _ یہ سفر بھی انھوں نے چپل ہی میں کیا تھا _ یقین کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ کوئی اجنبی انہیں دیکھ لیتا تو پروفیسر ماننا تو دور کی بات ہے ، پڑھا لکھا بھی تسلیم کرنے میں اسے تامّل ہوتا _

ڈاکٹر صاحب سے میرے گھریلو تعلقات تھے _ ان کی اہلیہ نصرت باجی ، جو سابق امیر جماعت اسلامی ہند مولانا سید جلال الدین عمری کی بڑی صاحب زادی ہیں ، لڑکے : سعد ، معاذ اور رشاد ، لڑکیاں : جویریہ اور حفصہ سب مجھے اپنے گھر کا ایک فرد سمجھتے ہیں _ ڈاکٹر صاحب کی علالت کے زمانے میں مجھے ان کے گھر بار بار جانا ہوا _ دو ایک دن ملاقات نہ ہوتی تو معاذ یا رشاد کا فون آجاتا کہ ابو ملاقات کے خواہش مند ہیں _ کبھی وہ اپنے کسی بیٹے کے ساتھ میرے آفس تشریف لے آتے ، ذرا دیر بیٹھتے ، پھر چلے جاتے _ مجھ پر ان کے اعتماد کا اندازہ اس چھوٹے سے واقعہ سے لگایا جاسکتا ہے کہ لاک ڈاؤن کی ابتداء (مارچ 2020) میں جب ان کی طبیعت خراب ہوئی تو خون کی جانچ سے پتہ چلا کہ ان کا ہومیو گلوبین بہت کم ہوگیا ہے ، صرف 4 تک پہنچ گیا ہے تو ان کے صاحب زادگان بہت پریشان ہوگئے _ ڈاکٹروں نے خون چڑھوانے کا مشورہ دیا ، لیکن وہ کسی طرح اس پر آمادہ نہ تھے ، کہتے تھے کہ خون چڑھوانا جائز نہیں ہے _ بچوں نے اصرار کیا تو کہنے لگے کہ اگر رضی الاسلام کہہ دیں گے تو میں چڑھوالوں گا _ چنانچہ ان کے صاحب زادے معاذ میرے پاس آئے اور مجھ سے باقاعدہ فتویٰ لکھواکر لے گئے کہ خون کی بہت زیادہ کمی کی صورت میں خون چڑھوانا جائز ہے _ ان کی بیماری کا دورانیہ تقریباً ایک برس ہے ، بیماری کی شدّت کے باوجود انھوں نے کبھی گھر پر نماز پڑھنی گوارا نہ کی اور پابندی سے مسجد آتے رہے _ تمام نمازوں، حتیٰ کہ فجر اور عشاء میں بھی وہ ضرور مسجد آنے کا اہتمام کرتے تھے _ گھر سے انہیں مسجد لانے والا کوئی نہ ہوتا تو تنہا نکل پڑتے تھے _ ان کے سعادت مند بچے ان کا بڑا خیال رکھتے تھے _ کوئی نہ کوئی ضرور ان کے ساتھ مسجد آتا _ بیٹے نہ ہوتے تو ان کی چھوٹی بیٹی حفصہ ان کے ساتھ آتی _ بارہا میں نے دیکھا کہ وہ عشاء کی نماز میں ساتھ آئی ، انہیں مسجد میں پہنچا کر باہر لان میں ان کا انتظار کیا ، وہ نماز سے فارغ ہوکر نکلے تو ان کے ساتھ واپس ہوئی _ مسجد میں ان سے میری ملاقات ہوجاتی تو گھر تک ساتھ چلنے کو کہتے _ مسجد سے باہر نکل کر بیٹی سے کہتے : تم جاؤ ، میں رضی الاسلام صاحب کے ساتھ آرہا ہوں _ راستے میں مجھ سے دریافت کرتے : آپ کو قرآن کی جو سورتیں یاد ہوں ، سنائیے _ میں سورتیں سناتا ہوا انہیں گھر تک پہنچاکر آتا _ نماز عشاء میں یہ میرا معمول بن گیا تھا _

آخری دنوں میں ڈاکٹر صاحب کی زندگی کے ایک ایسے پہلو سے آشنائی ہوئی جس سے میں پہلے بالکل بے خبر تھا _ وہ ہے بندگانِ خدا تک اسلام کا پیغام پہنچانے کی تڑپ _ وہ کہتے تھے کہ اللہ کے ہر بندے تک اسلام کی بنیادی تعلیمات پہنچانا ہمارا کام ہے ، وہ چاہے اسے قبول کرے یا رد کردے _ جو لوگ اسلام کے شدید دشمن ہیں اور اس کے خلاف ان کے منصوبے بالکل عیاں ہیں ان سے ملاقات کرنے کی بھی وہ تلقین کرتے تھے _ انھوں نے مرکزی مکتبہ سے مولانا مودودی کی کتاب ‘اسلام کس چیز کا علم بردار ہے؟ ‘ بڑی تعداد میں منگوائی ، اسی طرح میرے واسطے سے مشہور داعی اسلام مولانا محمد کلیم صدیقی کی کتاب ‘آپ کی امانت آپ کی سیوا میں’ اردو ، ہندی اور انگریزی میں کئی ہزار کی تعداد میں منگوائی اور انھیں خوب تقسیم کروایا _ انتقال سے چند روز پہلے میرے پاس آئے اور فرمایا کہ اس کتاب کا انگریزی ترجمہ معیاری نہیں ہے ، اس کا اچھا ترجمہ کروائیے اور اپنے شعبے کی طرف سے اس کا معاوضہ ادا کیجیے _ انھوں نے ‘النور’ کے نام سے ایک پروجکٹ تیار کیا تھا ، جس کا خلاصہ یہ تھا کہ کن تدابیر سے ملک کے ایک ایک باشندے تک اسلام کا پیغام پہنچایا جاسکتا ہے _ انھوں نے جماعت کے تمام امرائے حلقہ جات کو وہ پروجکٹ بھیجا اور اس کی روشنی میں شعبۂ دعوت کے منصوبے تیار کرنے کی خواہش کی _

ڈاکٹر صاحب کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر بہت کچھ لکھا جاسکتا ہے _ امید ہے ، لکھنے والے ضرور لکھیں گے اور اس طرح ان سے عقیدت و محبت کا کچھ اظہار کرسکیں گے _ آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے، ان کی خدمات کو قبول فرمائے ، انہیں جنت الفردوس میں جگہ دے ، پس ماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے اور تحریک اسلامی اور ملت اسلامیہ کو ان کا نعم البدل عطا فرمائے _ آمین ، یا رب العالمین!