علم و قلم کا حسین امتزاج: مولانا ندیم الواجدی

ڈاکٹر فاروق اعظم قاسمی

رام لکھن سنگھ کالج، بتیا، مغربی چمپارن

”دارالکتاب“کا نام سنتے ہی ممکن ہے لوگوں کا ذہن”دارالکتاب،ممبئی“کی طرف منتقل ہوجائے لیکن یہاں دیوبند کے ”دارالکتاب“کا تذکرہ ہو رہا ہے بلکہ اس کے مسند نشین ،ممتاز صاحب علم وقلم اور ناشر کتب کے علمی،قلمی اور ادبی کارناموں کامختصر خاکہ پیش کیا جارہا ہے۔
محنت و لگن،عزم و ارادہ اور جدو جہد جیسے الفاظ اور ”پدرم سلطان بود“کا بے معنی نعرہ سن سن کر تو کان بوجھل ہو چکے ہیں ۔ تصورکو حقیقت کا لباس پہنانے والے خال خال ہی نظر آتے ہیں تاہم قحط الرجال کے اس دور میں بھی جد و جہد سے پر زندگی کی حامل شخصیات کمیاب تو ہیں نایاب نہیں۔
مولانا ندیم الواجدی نے اعلیٰ خاندان اور علمی گھرانے میں پیدا ہونے کے باوجود خوش فہمیوں میں مبتلا ہونے کے بجائے ہمیشہ خود اعتمادی کا دامن مضبوطی سے تھامے رکھا ۔مولانا کی تعلیمی زندگی نہ صرف یہ کہ زیادہ خوش حالی کی زندگی نہیں تھی بلکہ انھوں نے بہت سی دشواریوں سے گزر کر منزل مقصود تک رسائی حاصل کی ہے یہی وجہ ہے کہ دشواریوں کے بعد آسانیاں آئیں ۔فضلِ الٰہی سے آج وہ بہت سی نعمتوں سے بہرہ ور ہیں ۔
مولانا موصوف نے طالب علمی کے دور سے ہی مضمون نگاری کی شروعات کردی تھی اور فطری صلاحیت و استعداد کی بنا پر کم عمری ہی میں ان کی ایک شناخت قائم ہو گئی اور ملک و بیرون ملک کے وقیع رسائل و جرائد میں انتہائی اہتمام کے ساتھ مضامین بھی شائع ہونے لگے ۔ان کی ان ہی صلاحیتوں کی بنا پر سید محبوب رضوی ،سید ازہر شاہ قیصر اور مفتی ظفیرالدین مفتاحی مرحوم کی علمی مجالس میں برابر دو نوجوان اور نووارد قلم کارو ںکا تذکرہ ہوتا،ان کی عمر کے ساتھ قلم کی تیز رفتاری کو دیکھ کر حال کے جھروکے سے روشن مستقبل کی پیشین گوئی کی جاتی اور کہا جاتا کہ:”اگر یہ دونوں اسی طرح لکھتے رہے تو مستقبل کے نامور قلم کارو ں اور مصنفین میں ان کا شمار ہوگا۔“ان دونوں نوجوانوں میں ایک مولانا ندیم الواجدی ہیں اور دوسرے مولانا بدرالحسن قاسمی ۔الحمدللہ ان بزرگوں کے حسین خواب کی تعبیردومعتبر اسلامی قلم کارو ںکی شکل میں آج ہمارے سامنے موجود ہے۔
یوں تو مولانا واجدی نے ہر فن کو محنت سے حاصل کیا اوربر تا لیکن عربی زبان و ادب سے ان کا تعلق گہرا ہے۔کتابی شکل میں اب تک ان کے جو علمی نقوش سامنے آئے ہیں ،ان میں بیشتر کا تعلق عربی زبان ہی سے ہے ،تاہم اردو زبان و ادب میں بھی کافی مہارت رکھتے ہیں اور مختلف موضوعات پر ان کے قلم سے نکلے ہوئے مقالات کا ایک بڑا ذخیرہ ملکی و غیر ملکی رسائل و اخبارات میں پھیلا ہوا ہے اور اپنی خاموش زبان سے کتابی دنیا میں پناہ لے کر درازی عمر کی دعا مانگ رہا ہے۔
سردست اردو کے حوالے سے ان کے قلم نے جو گل افشانیاں کی ہیں وہ زیر قلم ہیں۔یہ تو پہلے ہی آچکا ہے کہ قلم ندیم صاحب کا بچپن ہی سے ندیم رہا ہے،تاہم پندرہ روزہ”مرکز“دیوبند سے تحریر میں مہمیز لگی ۔انھوں نے پوری تندہی سے اس کی ترتیب و تدوین اور اشاعت کے لیے کام کیا اور ساتھ ہی اپنے اعلیٰ ذوق اورعمدہ انتخاب کا مظاہرہ بھی۔پھر اسی محنت و مشق نے انھیں امام غزالی کی شہرہ آفاق اور بین الاقوامی حیثیت کی حامل کتاب”احیاءالعلوم“کے اردو ترجمے کا حوصلہ بخشا اور 1980سے1987تک سات برسوں کے طویل عرصے میں زبردست تگ و دو اور شب و روز کی عرق ریزی کے بعد اپنی نوعیت کا یہ عالمی کا م مولانا واجدی کے ہاتھوں انجام پایااور ان کے اس علمی،قلمی اور تحقیقی کام کو پوری دنیا میں پسندیدگی کی نظر سے دیکھااور سراہا گیا اور یہ بھی حقیقت ہے کہ مولانا کے اس علمی کام نے انھیں محقق و مصنف کے ساتھ ساتھ ناشر و تاجر بھی بنادیا۔
شاید اس طویل علمی سفر کی تکان کی وجہ سے وہ اسلامی کتب کی نشرو اشاعت اور اس کی تجارت میںزیادہ مصروف ہو گئے۔پھر وہ تقریباً ربع صدی تک اپنے اشاعتی ادارے ”دارالکتاب“کے استحکام اور اس کو وسعت دینے میں لگے رہے اور آج ماشاءاللہ ملکی سطح پر یہ ادارہ امتیازی حیثیت اور نمایاں مقام رکھتا ہے اوردینی و اسلامی کتابوں کی اشاعت اورساتھ ہی عربی و اردو زبانوں کی توسیع و ترویج میں پوری طرح مشغول ہے۔وہ تو اچھا ہوا کہ بیس پچیس سال کی طویل خاموشی اور آرام کے بعد ”مرغ نے دی اذاں اور سویرا ہوا“اور مولانا ندیم الواجدی نے 2000میں ماہنامہ”ترجمانِ دیوبند“کا اجراکر کے گویا قلم کا دوسرا صور پھونکااو ران کی قلم کاری کی نشاة ثانیہ ہوئی۔
مولانا واجدی اب بہت سی دشواریوں کو زیر کر کے بہت آگے بڑھ چکے ہیں اور ان کا وقفہ استراحت ختم ہو چکا ہے ۔ معاش کے حوالے سے ماشاءاللہ اب وہ انتہائی آسودہ حال ہیں اس لیے ان کا اشہب قلم ایک بار پھر پورے طور پر رواں دواں اور جوان دکھائی دینے لگا ہے۔ یہی نہیں بلکہ بہت سی رنگینیوں کو لے کر نمودار ہوا ہے ۔ان کے علمی سفر کا مرحلہ پہلے سے کہیں زیادہ جاذب نظر،زیادہ تیز رفتار اور زیادہ پر وقار نظر آرہا ہے۔ویسے تو مولانا پہلے ہی زود نویس تھے لیکن اب زیادہ نویس بھی ہو گئے ہیں۔اسی کا اثر ہے کہ گزشتہ ایک ڈیڑھ سال سے فی ہفتہ ان کے چار مضامین بڑی پابندی کے ساتھ شائع ہورہے ہیں ۔اس پر ”ترجمان دیوبند“کی ترتیب علیحدہ اور مختلف کتابوں پرمقدمے اور پیش لفظ و غیرہ مستزاد ہیں۔اس طرح اسلامی یا تعمیر پسند صحافیوں میں مولانا ندیم الواجدی کا نام امتیازی حیثیت کا حامل ہے ۔
ان کے قلم کی روانی کا اندازہ اردو صحافت میں ایک نئے اسلوب کی پیدائش ہے ،بسا اوقات اخبار کے ادارتی صفحے کے پورے خطے پر مولانا واجدی کے علم و تحقیق کے ساتھ حروف و الفاظ کی وسعت اور حکمرانی ہوتی ہے اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ ان کے اسلوب کی اقتدا بھی ہونے لگی ہے ۔کاروبار اور دیگر ذمہ داریوں کے ساتھ اس قدرعلمی ، ادبی اور صحافتی جدو جہد سے مولانا ندیم الواجدی کا مقصد غالباً ماضی کی قضا اور گزشتہ ایام کا تدارک ہے۔
جہاں تک ان کے اسلوب کا تعلق ہے تو اس سے ان کے قارئین بہتر طریقے پر واقف ہیں کہ تحریر عالمانہ پختگی،محققانہ رنگ اور ادبی چاشنی لیے ہوئے ہوتی ہے۔جس موضوع پر وہ قلم اٹھاتے ہیں اس کا احاطہ کر نے کی کوشش کر تے ہیں ،ان کی تحریر میں جہاں علمی،دینی اور اصلاحی پہلو غالب ہوتا ہے وہیں ان میں ادب و تحقیق کی چاندنی بھی بکھری نظر آتی ہے۔مولانا موصوف کی اسی فنی مہارت کا نتیجہ ہے کہ محمد طفیل مرحوم کا مشہورِ عالم اردو رسالہ”نقوش “لاہور نے جب پہلی مرتبہ بلکہ آخری مرتبہ بھی ہزار ہزار صفحات پرمشتمل تیرہ جلدوں میں سیرت رسول کے خصوصی نمبر شائع کر نے کا ارادہ کیا تو انتہائی کہنہ مشق او ر فن کے ماہر قلم کاروں کا انتخاب کیا جن میں ایک نام مولانا ندیم الواجدی کا بھی تھا۔اسی طرح ماہنامہ’الرشید“ساہیوال،لاہورکے ہزاروں صفحات پر مشتمل”دارالعلوم دیوبند نمبر“میں بھی ان کا مضمون شامل ہے۔یہ اس وقت کی بات ہے جب کہ وہ اپنی عمر کی پچیسویں بہار میں تھے۔
گزشتہ ایک دہائی سے ان کا رسالہ”ترجمان دیوبند“پابندی سے شائع ہورہا ہے ۔اب تک اس کا کوئی خصوصی شمارہ تو منظر عام پر نہیں آیا البتہ گاہے گاہے خصوصی ضمیمے شائع ہوتے رہے ہیں ۔جیسے مولانا محمد نعیم صاحبؒاور مولانا انظر شاہ صاحبؒ وغیرہ ۔ تقریباً تین برسوں سے وہ ترجمان کا خاص نمبر”مشاہیر دارالعلوم “کی اشاعت کے خواہاں اور اس سلسلے میں کوشاں بھی ہیںلیکن قلم کار حضرات کی جانب سے بر وقت تعاون ناگزیر ہوتا ہے ۔راقم الحروف امید کرتا ہے کہ خود مولانا بھی اس طرف خاص توجہ دیں گے اور قلم کار حضرات سے بھی تعاون کی اپیل ہے۔
بہت کم لوگ اس راز سے واقف ہیں کہ مولانا ندیم الواجدی ایک اچھے کہانی کار اور عمدہ شاعر بھی ہیں ۔ایک زمانے تک وہ عدیل دیوبند ی کے نام سے کہانی لکھتے اور شائع ہوتے رہے ۔ اسی طرح دیوبند کی شعری نشستوں اور مشاعروں میں بھی شرکت کر کے دادوتحسین وصول کر چکے ہیں اور بہت سے رسائل و اخبارات نے ان کے کلام کو شائع بھی کیا ہے ۔ان شاءاللہ عنقریب ان کے یہ نقوش بھی سامنے آئیں گے۔مولانا ایک عالم دین اور محقق و مصنف ہونے کے ساتھ ساتھ کئی تعلیمی اداروں،ملّی تنظیموں کے سربراہ اور روح رواں بھی ہیں ۔ان کے اعلیٰ ذوق ہی کا ثمرہ کہنا چاہیے کہ ہزاروں مطبوعات پر مشتمل ان کے خلوص و محنت اور علم و قلم کا تاج محل ”دارالکتاب“دیوبند جیسے شہر اور دارالعلوم کی عرفانی چھاﺅں میں اپنی عمر کی تین دہائیاں مکمل کر رہا ہے اور ایک عرصے سے کتابوں کے اجلے علوم سے جہالت کی تاریکیوں کا قلع قمع کر کے علم کی روشنی بکھیررہا ہے۔گویا آگرہ کا تاج محل اور شاہ جہاں جس طرح ایک دوسرے کا جزلاینفک بن گئے ہیں ،اسی طرح دیوبند ،دارالکتاب اور مولانا ندیم الواجدی کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جاسکتا ۔خدا ان کے علم و قلم میں مزید خلوص و برکت عطا فرمائے۔آمین!