علمِ استشراق کے مقابلے میں علمِ استغراب کی تشکیل کیوں ضروری ہے؟-ڈاکٹرمازن مطبقانی

 

ترجمہ:نایاب حسن

اس مضمون میں علمِ استشراق کی ضد علمِ استغراب پر گفتگو کرنے کی کوشش کی جائے گی،علم استغراب ایک ایسا علم ہے،جس میں مغرب(امریکہ و یورپ) کا اعتقادی، قانونی، تاریخی، جغرافیائی، اقتصادی، سیاسی و ثقافتی تمام پہلووں سے مطالعہ کیاجائے۔اب تک یہ شعبہ مستقل علم کی حیثیت اختیار نہیں کر سکاہے؛لیکن اسلامی و عربی ممالک میں جونئی علمی بیداری پیدا ہورہی ہے،اس کی روشنی میں امکان ہے کہ علمی تحقیق کے ادارے اور عالمِ اسلامی کی اعلیٰ تعلیم کی وزارتیں اس سمت میں ہمت کریں گی،قدم بڑھایاجائے گا اور ایسے علمی شعبے قائم کیے جائیں گے،جہاں مغرب کے عقیدہ و فکر و تاریخ اور اقتصاد و سیاست تمام شعبوں میں علمی و اختصاصی مطالعہ کیا جائے گا۔
کسی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوسکتاہے کہ ہم مغرب کا مطالعہ کیسے کرسکتے ہیں،ہم ایسی دنیا کے بارے میں کیسے پڑھ سکتے ہیں جوہم سے میلوں ؛بلکہ صدیوں آگے پہنچ چکی ہے؟تو معاملہ اتنا مشکل بھی نہیں ہے؛کیوں کہ اگر ہم دعوتِ اسلامی کے ابتدائی دور کی طرف رجوع کرتے ہیں ،تو دیکھتے ہیں کہ قرنِ اول کے مسلمان جب اسلامی دعوت لے کر دنیا کی طرف نکلے،تو وہ دوسری قوموں کے عقائد ،رسم و رواج اور روایات سے واقف تھے،وہ جہاں دعوت و تبلیغ کے لیے جارہے تھے،اس سرزمین کی سیاست،معیشت و جغرافیہ سے انھیں آگاہی ہوتی تھی۔آپ پوچھ سکتے ہیں کہ انھیں ان باتوں کا علم کیسے حاصل ہوتا تھا؟اس کا جواب یہ ہے کہ اہلِ قریش تاجر لوگ تھے،سردی و گرمی کے موسموں میں دنیاکے مختلف ممالک کا تجارتی سفر کیاکرتے تھے،مگر ان کے یہ اسفار محض تجارتی اور خرید و فروخت کے نقطۂ نظر سے نہیں ہوتے تھے؛وہ ان اسفار کے دوران ان ملکوں کے نظامِ حکومت اور سماجی ،سیاسی و اقتصادی احوال سے بھی آگاہی حاصل کرتے تھے۔مختلف قوموں سے اختلاط کی وجہ سے ان کے عقائد سے بھی انھیں واقفیت ہوگئی تھی،پھر قرآن کریم نے بھی انھیں یہود و نصاریٰ وغیرہ کے عقائد کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔ اسی وجہ سے قرنِ اول کے مسلمانوں کو دیگر اقوام سے متعارف ہونے اور ان کے ساتھ تعامل اور دوسری قوموں کے پاس موجود مفیدوسائلِ تمدن سے استفادے میں کوئی دقت نہیں پیش آئی؛چنانچہ انھوں نے دیوان،ڈاک،بعض اہم صنعتوں مثلاً کاغذسازی وغیرہ کا علم حاصل کرکے انھیں اتنی ترقی دی کہ ان صنعتوں پر مسلمانوں کی چھاپ لگ گئی۔
بعض لوگوں کا خیال یہ ہے کہ مطالعۂ مغرب کے کچھ نقوش ہمیں اسامہ بن منقذکی کتاب’’الاعتبار‘‘میں ملتے ہیں ،جس میں انھوں نے صلیبیوں کی زندگی کے مختلف پہلووں کا جائزہ لیاہے،ان کے طبائع و اخلاق اور خصوصیات و عیوب بیان کیے ہیں ۔ایک دلچسپ بات انھوں نے اُس معاشرے میں عورت و مرد کے تعلقات کے حوالے سے یہ بیان کی ہے کہ ان مردوں میں غیرت کا فقدان ہے؛چنانچہ ایک مردکواس بات پر کوئی اعتراض نہیں ہوتاکہ اس کی بیوی کسی غیر مرد سے ملے،اس سے بات چیت کرے،حتی کہ اس سے تنہائی میں ملے؛بلکہ وہ شخص خوداپنی بیوی کی کسی اجنبی سے ملنے پر حوصلہ افزائی کرتاہے ۔
آج ضرورت ہے کہ ہم مغرب کے بارے میں جانیں۔اس سلسلے کی ابتدا غالباً رفعت رفاعہ طہطاوی اور خیر الدین تونسی وغیرہ نے یورپ کے حوالے سے کی تھی،انھوں نے مغرب کی جن چیزوں کے مطالعے پر زوردیاتھا،وہ وہاں کا سیاسی نظام تھا،جو انتخاب و سیاسی آزادی پر قائم ہے۔اس کے ساتھ ہی انھوں نے مغرب کی اجتماعی زندگی اور عورت و مرد کے باہمی تعلقات پر بھی توجہ دی تھی۔تونسی و طہطاوی کی کتابیں ایسے وقت میں منظر عام پر آئیں،جب عالمِ اسلامی پس گردی کی تباہیوں سے دوچار تھا،ایسے میں ان کا مغربی نمونۂ حیات سے متاثر و متحیر ہونا لازمی تھا،گرچہ انھوں نے اپنے زعم میں مغرب کی خوبیوں کواسلامی خوبیوں اور خصائص سے ہم آہنگ کرنے کی بھی کوشش کی۔
اس صدی کے نصف میں دوبارہ مطالعۂ مغرب کی آواز مستشرقین کے ایک عالمی سمینار میں اٹھائی گئی۔رودی بارت نے اپنی اہم تصنیف’’الدراسات العربیۃ والإسلامیۃ في الجامعۃ الألمانیۃ‘‘(ص:15)میں اس طرف توجہ دلائی کہ عالم اسلامی کو اُسی طرح مطالعۂ مغرب کی طرف متوجہ ہونا چاہیے،جیسے مغرب عالمِ اسلامی کا مطالعہ کرتا ہے۔ڈاکٹر سید محمد شاہدنے اپنے ایک علمی لیکچر میں بھی اس طرف توجہ دلائی تھی، جوانھوں نے کنگ سعود یونیورسٹی میں 1414ھ میں دیاتھا،اس کی تلخیص رسالہ’’مرآۃ الجامعۃ‘‘میں شائع ہوئی تھی،پھر ڈاکٹر حسن حنفی کی کتاب’’مقدمۃ في علم الاستغراب‘‘کے نام سے سامنے آئی۔میں مطالعۂ مغرب کے اہداف کے سلسلے میں اس کتاب سے ایک اقتباس پیش کرناچاہتاہوں:
’’اپنے اورغیرکے درمیان تعلق کے تاریخی نقص کو دور کرنا، دوسرے کو دارِس کی بجاے مدروس بناکراس کے احساسِ عظمت کو دور کرنا،اپنے احساسِ کمتری کومدروس کی بجاے دارس بناکر دور کرنا،چاہے مغرب کی زبان کو پڑھنے کا معاملہ ہو یا وہاں کی ثقافت،علوم،مذاہب اور نظریات و افکار کو جاننے اور پڑھنے کا‘‘۔
مطالعۂ مغرب کی اہمیت اس سے بھی ثابت ہوتی ہے کہ اس نے ایک ایسی تہذیب و تمدن قائم کرنے میں کامیابی حاصل کرلی ہے،جو آج سارے عالم پر چھائی ہوئی ہے اور طہ حسین و لطفی سید کی کتابوں کی وجہ سے مغرب کی طرح مسلمانوں کی ازسرِ نو ترقی کے سلسلے میں تردداورتشکک پھیلایاگیا اور یہ تلقین کی گئی کہ وہ اپنی خصوصیات و شناخت سے دست بردار ہوجائیں ،اپنے آپ کو مغرب کے حوالے کردیں اور مغربی طرزِ زندگی کو اس کی تمام تر اچھائیوں اور برائیوں سمیت اختیار کرلیں۔حالاں کہ بعد میں طہ حسین نے اپنے اس قسم کے افکار سے رجوع کرلیاتھا؛چنانچہ ان کی کتاب’’مستقبل الثقافۃ في مصر‘‘دوبارہ شائع نہیں ہوئی۔ اسی طرح اس کتاب کے بارے میں ان سے جب ایک بار سوال کیاگیا،تو انھوں نے جواب دیا کہ:وہ پرانی کتاب ہے۔
سوال پیدا ہوتاہے کہ ہم مغرب کا مطالعہ کیسے کریں؟اگر ہم حقیقی معنوں میں مغرب سے واقفیت حاصل کرنااور مغربی تہذیب کی مثبت حصول یابیوں سے استفادہ کرنا چاہتے ہیں ،تواس سلسلے میں ایک مؤثر منصوبہ بندی کی ضرورت ہوگی۔اس کے لیے مختلف عربی و اسلامی یونیورسٹیز میں مطالعاتِ مغرب کی خاکہ سازی کے لیے دسیوں انجمنیں اور کمیٹیاں بنانی ہوں گی۔مگر یہ کام کرنے سے قبل ہمیں مطالعۂ مغرب کے بہترین طریقوں کے بارے میں غوروفکر کرنا ہوگا۔مجھے یاد آتاہے کہ امریکہ نے اپنے یہاں انیسویں صدی کے آغاز میں مطالعۂ مشرق(استشراق)کا سلسلہ شروع کیاتھا،مگر دوسری عالمگیر جنگ کے بعد غیر اختیاری طورپر مشرقِ وسطیٰ یا عربی و اسلامی ملکوں میں اس کی حیثیت برطانیہ جیسی ہوگئی،جس کے بعد امریکی حکومت نے عربی،ترکی،فارسی،اردو اور مختلف ملکوں اور خطوں کے خصوصی مطالعے کے سینٹرزمیں سرمایہ کاری کی تجویز پاس کی۔
عربی زبان کی تدریس وتحقیق کے پروگرام شروع کرنے کے بعد امریکی یونیورسٹیز نے خصوصاً برطانوی اورعموماً یورپی یونیورسٹیز کے اساتذہ سے مدد لی کہ وہ امریکی یونیورسٹیز میں پڑھائیں،اسی طرح مشرقِ بعید کے مطالعات کے شعبوں میں پڑھانے کے لیے اس علاقے کے لوگ بلائے گئے،جیساکہ پرنسٹن یونیورسٹی نے فلپ کے ہتی کو مشرقی مطالعات کا شعبہ قائم کرنے کے لیے بلایاتھا۔پھرمشرقِ وسطی کے مطالعات کے شعبوں اور دوسرے علمی اداروں کے مابین دیگر سماجی و انسانی مطالعات کی طرح علمی و تحقیقی تعاون کا سلسلہ شروع ہوا۔اس وقت بیس سے زائد امریکی یونیورسٹیز کے عربی و اسلامی شعبے وفاقی حکومت سے امداد پارہے ہیں ؛تاکہ وہ امریکی حکومت کی ضروریات کی تکمیل کے منصوبے پر مضبوطی سے کا م کرتے رہیں۔
عالمِ اسلام میں یورپی زبانوں کی تدریس و تعلیم کم نہیں ہے،مگر ہمیں ضرورت ایسے لوگوں کی ہے،جو ان زبانوں میں مہارت حاصل کرکے اعلیٰ مقام تک پہنچیں،پھر مغربی یونیورسٹیز میں پڑھیں اور مغرب کے موضوعات و مسائل پر ریسرچ کریں،صرف ایسے موضوعات پر نہیں ،جو اسلامی دنیاسے تعلق رکھتے ہیں۔ہمیں ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جومغربی ادب کو اس طرح سمجھتے ہوں،جیسے مثال کے طورپر پروفیسر ایڈرورڈ سعید سمجھتے تھے،انھوں نے مغربی ادب کے دیدہ ورانہ مطالعے کے ذریعے مغربی عقلیت کے اَعماق میں اترکراسے سمجھاتھا۔اسی طرح ہمیں ایسے انسان کی بھی ضرورت ہے جو مغربی علمِ سماجیات کا گہراعلم رکھتاہو؛ تاکہ وہ مغربی معاشرے کواس طرح جان سکے گویاوہ اسی کا ایک فردہے۔یہ مسئلہ مشکل بھی نہیں ہے؛کیوں کہ آج مغربی دنیامیں یورپی و امریکی نسل کے بہت سے مسلمان رہتے ہیں،جوان کے معاشرے کوحقیقی طور پر سمجھ سکتے اور جس قسم کی معلومات بھی حاصل کرناچاہیں ،آسانی سے حاصل کرسکتے ہیں،انھیں کوئی مشکل نہیں پیش آئے گی۔
دھیان دینے کی ایک بات یہ ہے کہ ہمارامطالعۂ مغرب ان ملکوں سے مستفاد ہونا چاہیے،جو اس سلسلے میں سبقت رکھتے ہیں،ایسے متعدد یورپی ممالک موجودہیں، جہاں امریکی اسٹڈیزکے ادارے کھولے گئے ہیں؛چنانچہ لندن یونیورسٹی کے اکانومک و پولٹیکل کالج میں امریکی اسٹڈیز کا ادارہ قائم ہے،اسی طرح مونٹریال یونیورسٹی میں امریکی اسٹڈیز کا شعبہ ہے،جرمنی میں بھی ہے،پاکستان نے بھی امریکی اسٹڈیز کا ادارہ قائم کیاہے۔
البتہ ہمارا مطالعۂ مغرب، مغرب کے مطالعۂ مشرق سے مختلف ہونا چاہیے؛کیوں کہ مغرب نے تو مشرق کا مطالعہ اس لیے شروع کیاتھا کہ اس کا حکم وہدایت عیسائی مذہبی اداروں اور پاپائیت کی طرف سے تھا اور مقصد اس کا یہ تھا کہ مسلمانوں کی قوت اور عیسائیوں کے زیرنگیں ممالک میں اسلام کی اشاعت کا راز معلوم کیاجائے۔وہ صرف مسلمان اور اسلام سے شناسائی نہیں حاصل کرنا چاہتے تھے؛بلکہ ان کے دواور مقاصد تھے:ایک یہ کہ عیسائیوں کو اسلام سے متنفر کیاجائے اور دوسرا یہ کہ اسلامی ممالک میں عیسائیت کی تبلیغ و اشاعت کے لیے مذہبی مبلغین تیار کیے جائیں۔
اس آغاز کے بعد یورپی استعمار کا ظہور ہوا اور اس نے بھی اس کی ہم نوائی؛ بلکہ اس سے آگے نکلنا ضروری سمجھا؛تاکہ اسے وہ استحکام حاصل ہوجواس کا مقصد تھا؛چنانچہ اہل مغرب کے پاس ایسے کئی عالم اسلامی کے ماہرین ہوئے، جنھوں نے استعمار کی بنیادوں کو مضبوط کرنے میں حصہ لیا۔پھرایک زمانے کے بعد استعماری لہریں محدود اور ختم ہوتی چلی گئیں،مگر مغرب کی یہ خواہش برقراررہی کہ وہ عالمِ اسلامی میں داخل ہو؛تاکہ مغربی ملکوں کا خام مواد وہاں آسانی سے داخل کیاجاسکے،پھراسے تیارشدہ سامان کی شکل میں اسلامی دنیامیں رائج کیاجاسکے؛چنانچہ ان ملکوں کے سماجی طرززندگی میں بدلاؤ آنا اور مخصوص قسم کے طرزِاخلاق کواختیار کرنااوراسے مضبوطی سے تھامنا یقینی تھا،پھر ہمارے ممالک ان کے وسائل و اسباب ومصنوعات کی کھلی مارکیٹ بن گئے۔(الاماشاء اللہ)
پس ہم اگر مغرب کا،مغربی اداروں کا تحقیقی مطالعہ کرنا چاہتے ہیں توپہلے ہمیں مادی قوت کے ان اسباب ووسائل کو اختیار کرنا ہوگا،جو ان کے پاس ہیں،خود قرآن کریم میں اس کی ہدایت دی گئی ہے کہ’’ان سے مقابلے کے لیے جس قدر تم سے ہوسکے ہتھیار سے اور پلے ہوئے گھوڑوں سے سامان درست رکھو،تاکہ تم اس کے ذریعے ان لوگوں پر اپنا رعب جمائے رکھوجوکہ اللہ کے دشمن ہیں اور تمھارے دشمن ہیں‘‘۔(الأنفال:60)توجس طرح امریکی مثلاً اس کوشش میں ہیں کہ وہ جاپانی مینجمنٹ اور اس کی تخلیقی اور تیز رفتار ترقی کی قوت کارازمعلوم کرسکیں،اسی طرح ہمیں بھی ضرورت ہے کہ ان کی قوت کے اسباب کا پتالگائیں۔جس طرح انھوں نے اپنی زندگی میں مینجمنٹ،صنعت،معیشت،تعلیم وثقافت کے شعبوں کے نظام کے اطلاق ونفاذکا میکانزم تیار کیا ہے،ایسےہی ہمیں کرناہوگا۔
دوسری بات یہ ہے کہ ہم جب مغرب کا مطالعہ کریں گے، تو ہمارا کوئی استعماری مقصد نہیں ہوگا،ویسے بھی مسلمانوں کا مزاج کبھی استعماری نہیں رہا۔مجھے سلطنتِ عثمانیہ کے دفاع میں لکھی گئی محمد جلال کشک کی یہ بات بڑی اچھی لگتی ہے کہ وہ نہ تو استعماری حکومت تھی اورنہ اسے ایسا کہاجاسکتاہے، انھوں نے اپنے اس دعویٰ کی متعدد دلیلیں بھی پیش کی ہیں۔مغرب کے مطالعے سے ہمارا مقصد محض اپنے مفادات کا تحفظ کرنا ہے اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے اس تصور کوسمجھناہے، جسے مغرب نے ایجادکیا اور دنیاکی بہت سی حکومتوں سے زیادہ طاقت ور ہوگیا۔
تیسری بات جو خاص اہمیت کی حامل ہے ،یہ ہے کہ یہی امت، امتِ دعوت و شہادت ہے، حضور اکرمﷺکے پہلے کے انبیاعلیہم السلام اپنی قوموں کی طرف بھیجے جاتے تھے،پھر تمام مسلمانوں کو یہ ذمے داری دی گئی (قل ہذہ سبیلي أدعوإلی اللّٰہ علی بصیرۃ أناومن اتبعن)اورحدیث میں ہے کہ’’اللہ تعالیٰ اس شخص کو شاداب رکھے، جس نے میری بات سنی،پھر اسے ذہن میں بٹھالیا،پھراسے ان لوگوں تک پہنچایا، جنھوں نے نہیں سنی تھی؛کیوںکہ بہت سے وہ لوگ، جنہیں وہ بات پہنچائی جائے گی وہ اس سننے والے سے زیادہ باشعور و بیدار مغزہوں گے‘‘۔حضورﷺکایہ آخری پیغام محض ایک اعتقادی سسٹم کا حصہ نہیں ہے، جس کا تعلق انسان اوراس کے رب سے ہے،جیساکہ عیسائیت میں ہے اور اسے ماننے والوں کا خیال ہے کہ عیسی علیہ السلام نے فرمایاہے’’جوقیصر کا ہے وہ اس کے لیے چھوڑدواور جو اللہ کا ہے،وہ اس کے لیے خاص رکھو‘‘۔اس کے برخلاف حضورﷺ کایہ پیغام سماجی،سیاسی،معاشی،اخلاقی و فکری الغرض زندگی کے ہرپہلو میں نافذہوگا اورہمیں جب امتِ شہادت بنایاگیاہے،توان لوگوں کے بارے میں ہم کیسے گواہی دے سکیں گے،جنھیں حقیقی معنوں میں جانتے ہی نہ ہوں؟
مغرب کا مطالعہ دنیا کی نظرمیں مغرب کی شبیہ مسخ کرنے کے لیے بھی نہیں ہونا چاہیے؛کیوں کہ ہمارے سامنے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے کہ’’کسی قوم سے دشمنی تمھیں ناانصافی پرنہ ابھارے،تم انصاف کرو،یہی تقوی کے قریب ہے اور اللہ سے ڈرو‘‘۔اسی طرح ہمیں اپنے رشتے داروں اور والدین کے معاملے میں بھی انصاف کا حکم دیاگیاہے۔اس حوالے سے ہمارے لیے حضرت عمروبن العاصؓ کایہ قول نمونہ ہونا چاہیے،انھوں نے رومیوں کی تعریف کرتے ہوئے کہاتھا:’’ان کے اندر چار خصلتیں ہیں:آزمایش کے وقت وہ نہایت بردبار اورمتحمل ہوتے ہیں،مصیبتوں سے بہت جلد باہرنکل آتے ہیں، جنگ میں پیچھے ہٹنے کے بعد تیزی سے پلٹتے ہیں،مسکینوں اور یتیموں کے خیرخواہ ہیں اور پانچویں اچھی بات یہ ہے کہ اللہ نے انھیں بادشاہوں کے ظلم سے محفوظ رکھاہے‘‘۔

  • Iqbalhusen Bokda
    12 اکتوبر, 2020 at 16:21

    کیا اردو میں space چھوڑنے کا اصول ختم ہو گیا؟ برائے مہربانی دو الفاظ کے درمیان اسپیس چھوڑیں۔ اردو کو بےجا طور پر مشکل بنانا زبان پر ظلم ہے۔

  • قندیل
    12 اکتوبر, 2020 at 22:15

    توجہ دہانی کے لیے مشکور ہوں۔ اصل میں انپیج سے جب یونی کوڈ میں کنورٹ کیا جاتا ہے،تو اس طرح کی مشکل پیدا ہو جاتی ہے۔

Leave Your Comment

Your email address will not be published.*