علمِ حدیث اور اس کے متعلقات پر تحقیق و تالیف کی جہتیں اور مستشرقین کی مغالطہ انگیزیاں ـ عالم خان

خوارج اور معتزلہ کے بعد تقریبا بارہ سو پچاس (١٢٥٠) سال بعد یورپ میں مستشرقین اور مصر و ہند میں منکرین حدیث نے سنت کی صحت اور حجیت پر انگلی اٹھائی تھی جس کے جواب میں وسیع لٹریچر تیار ہوا اب وہی شبہات کچھ نئے اضافات کے ساتھ چند ایک دانش ور علم ودانش کے نام سے پھیلا رہے ہیں اور ایسا تاثر دے رہے ہیں کہ گویا چودہ سو (١٤٠٠) سال بعد انھوں نے ایسا کچھ دریافت کیا جس سے پوری امت شرقًا اور غربًا لاعلم تھی۔

محدّثین نے صرف سنت کی حفاظت کا کام نہیں کیا تھا بلکہ انھوں نے تدوین سنت کے ساتھ ساتھ سنت کی فہم پر بھی بہت بڑی لائبریری تیار کی تھی تاکہ ایسا نا ہو کہ کسی کو روایت معلوم ہو لیکن اس کے فہم سے عاری ہو اس لیے انھوں نے فہم سنت کے لیے کئی علوم متعارف کرکے اس میں تصنیف و تالیف کا کام کیا جیسا کہ “علم مختلف الحدیث” جس کا ہدف سنت الرسول ﷺ کی وہی روایات ہیں،جو بظاہر متعارض مضمون پر مشتمل ہونے کی وجہ سے سمجھنا مشکل ہوتا ہے لیکن ان کا جمع ممکن ہو اس فن میں بہت سے محدثین نے کتابیں لکھی ہے جن میں امام شافعی (ت ٢٠٤ھ) کی “اختلاف الحدیث”، امام طحاوی (ت ٣٢١ھ) کی “مشکل الآثار”، ابن فورک (ت ٤٠٦ھ) کی “مشکل الحدیث”، ابن الجوزی (ت ٥٩٧ھ) کی “کشف المشکل” اور ابن قتیبہ (ت ٦٧٦ھ) کی “تاویل مختلف الحدیث” قابل ذکر ہیں۔

اسی طرح محدّثین نے “علم ناسخ الحدیث ومنسوخہ” کو متعارف کروایا تھا جس کا ہدف بھی پہلے کی طرح وہی روایات ہیں جو بظاہر متعارض ہیں، البتہ فرق یہ ہے کہ پہلی قسم کی روایات کا جمع ممکن تھا اور اس قسم کی روایات کا جمع ممکن نہ تھا، صرف ایک ہی روایت اور اس کی مفہوم کو لینا پڑے گاـ اس حوالے سے بھی کئی قابل قدر تصنیفات قرون اولی سے منظر عام پر آئی تھیں،جیسا کہ ابو بکر الأثرم (ت ٢٦١ھ) اور ابن شاہین (ت ٣٨٥ھ) کی “ناسخ الحدیث ومنسوخہ” ابتدائی مصادر کی حثیت رکھتی ہے، جب کہ امام ہمدانی (ت ٥٨٤ھ) کی “الاعتبار” اور ابن الجوزی (ت ٥٩٧ھ) کی “اعلام العالم” اور “اخبار اھل الرسوخ” بھی اس فن میں ایک قیمتی علمی سرمایہ ہے۔

جس طرح قرآن فہمی میں “شان نزول” کی حثیت ہے اسی طرح فہم سنت میں “شان ورود” کی حثیت ہے محدّثین نے اس حوالے سے بھی کئی کتابیں تحریر کی ہیں اور ان میں احادیث کی “شان ورود” بیان کی ہےـ یہ الگ بات ہے کہ عصر حاضر میں اس پر بہت کم توجہ دی جاتی ہے کیوں کہ عام طور پر اہل علم قرآنی آیات اور سورتوں کی “شان نزول” بیان کرتے ہیں لیکن بہت کم اہل علم ایسے ہیں کہ وہ درس حدیث میں “شان ورود” بیان کرنے کا اہتمام کرتے ہیں حالاں کہ امام سیوطی (ت٩١١ھ) نے “اللمع فی اسباب الحدیث” اور ابن حمزہ الحنفی (ت ۱۱٢٠ھ) نے “البیان والتعریف” صرف اسباب ورود الحدیث پر ہی لکھی ہے۔

فہم سنت میں اکثر حائل وہی کلمات اور تراکیب ہوتے ہیں جو عام فہم نہیں ہوتے جن کا سمجھنا عوام کے لیے مشکل ہوتا ہے،محدّثین نے اس کو “غریب الحدیث” کا نام دیا ہے اور یہ ایک مستقل علم ہے جس کے ماہرین بہت کم ہیں، لیکن اس میں دیگر علوم کے مقابلے میں تصانیف بہت زیادہ ہیں، اگرچہ ابتدائی کتب اس فن میں ضائع ہوچکی ہیں ان کے صرف ناموں کا تذکرہ شروح حدیث یا علم حدیث کی کتابوں میں ملتا ہے، باقی کہیں موجود نہیں پھر بھی اس فن کی بہت سے کتابیں لائبریوں کی زینت ہیں، جن میں ابن قتیبہ (ت ٢٧٦ھ)، ابن اسحاق (ت ٢٨٥ھ)، امام خطابی (ت ٣٨٨ھ) اور ابن الجوزی (ت ٥٩٧ھ) کی “غریب الحدیث” مشہور ہیں۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*