الحاد کی حقیقت ایک سابق ملحد کی زبانی-سجاد عثمانی

Atheism Kills: The Dangers of a World Without God and Cause for Hope یہ کتاب کیلیفورنیا کے سابق ملحد بارک لیوری (Barak Lurie) کی مشہور کتاب ہے، جس میں انہوں نے الحاد کی اصل شکل کو واضح کیا ہے اور اس کی خونی تاریخ، خوفناکی اور دہشت گردی کا رکارڈ جمع کیا ہے۔ ایک تصویر دکھائی ہے کہ خداکے بغیر یہ دنیا کس قدر خوفناک ہوجاتی ہے اور انسان میں جب خدا کا خوف اور مرنے کے بعد حساب نہ دینے کا تصور پیدا ہوتا ہے، تو انسان میں اچھے برے کی تمیز ختم ہوجاتی اور انسان ایک وحشی جانور بن جاتا ہے۔ اس کتاب کے مقدمے میں مشہور امریکی مصنف ڈینس پراگر(Dennis Prager) لکھتے ہیں:
Atheism is the subject of this book. And Lurie is right: Atheism kills. It kills people, civilizations, beauty, meaning, order, happiness. If something is good, atheism will eventually kill it.
That’s why this book is important. People need to know both the logically inevitable consequences of atheism and its historical record, which starkly bears them out. This is not mere theory. (Page:9)
اس کتاب کا موضوع "الحاد” ہے۔ اور لیوری ٹھیک کہتے ہیں کہ الحاد قتل کرتا ہے۔ یہ لوگوں، تہذیبوں، دنیا کی خوبصورتی، معنی، ترتیب، خوشی کو مار دیتا ہے۔ اگر کوئی چیز اچھی ہے تو آخرکار الحاد اسے ختم کردے گا۔
اسی لئے یہ کتاب اہمیت کی حامل ہے۔ لوگوں کو الحاد کے منطقی طور پر ناگزیر نتائج اور اس کے تاریخی ریکارڈ دونوں کو جاننے کی ضرورت ہے، جو انھیں بالکل واضح طور پر پیش آرہے ہیں۔ یہ باتیں محض ایک نظریہ نہیں ہے۔ (بلکہ ایک حقیقت ہے۔)
بارک لیوری ایک ملحد تھے؛ لیکن بعد میں خدا کے وجود کے حق میں سائنس اور منطق کے مضبوط دلائل سے متاثر ہو کر الحاد کو الوداع کردیا اور پھر اس کتاب میں الحاد کی حقیقت بیان کی، لکھتے ہیں:

Atheism offers nothing but its own emptiness. It offers no nourishment for the body nor the mind. No hope, no laughter, no joy, no beauty, no sense of purpose, and no sense of a world beyond our own. (Page:12)
الحاد اپنی خالی پن کے سوا کچھ بھی نہیں دیتا۔ یہ جسم اور دماغ کے لیے کوئی غذا مہیا نہیں کرتا۔ نہ کوئی امید، نہ ہنسی، نہ خوشی، نہ خوبصورتی، نہ مقصد کا کوئی احساس اور اپنی ذات سے آگے کسی دنیا کا کوئی احساس نہیں۔
“I am an atheist, but thank God no one else is.” This was my mantra when I was an atheist in my youth. (p:14)
میں جوانی میں کہا کرتا تھا کہ: "میں ملحد ہوں، لیکن خدا کا شکر ہے کہ کوئی اور ملحد نہیں ہے۔”کیونکہ الحاد کے منفی اثرات انسان کو اندر سے مار دیتے ہیں، انسان کے اندر الحاد کی وجہ سے بے سکونی اور بے چینی ایک گھٹن سی پیدا کردیتی ہے۔
لیکن ملحد حضرات اَنا کی وجہ سے اس چیز کو ظاہر نہیں کرتے، لیکن کچھ لوگ بالآخر بیان بھی کردیتے ہیں جیسے بارک لیوری نے اس کتاب میں اپنی ملحدانہ زندگی کا پورا تجربہ اس کتاب کے اندر بیان کردیاہے۔
لیوری کہتے ہی کہ اگر ہمیں اپنی دنیا بچانی ہے تو:
We must return to God. (P:19)
"ہمیں خدا کی طرف جانا ہوگا۔”
اپنے موضوع کے اعتبار سے یہ ایک بہت ہی اچھی کتاب ہے، جس کو ایک بار ضرور پڑہنا چاہیے۔