اجتماعی شعور کا تخلیقی آئینہ: آئینہ حیران ہے

٭پروفیسر محمد آفتاب اشرف
صدر شعبۂ اردو
ایل این متھلا یونیورسٹی، دربھنگہ (بہار)
ڈاکٹر مشتاق احمدعصری اردو ادب کی ایک معتبر اور توانا آواز ہیں ۔ ان کی علمی وادبی فعالیت کا ہر شخص معترف ہے کہ ان کی تخلیقی فعالیت اجتماعی شعور کا حصہ معلوم ہوتی ہے ۔ ان کی منظوم ومنثور تخلیقات بالخصوص تنقیدی وتحقیقی تحریریں موضوعی تنوع سے بھرپور ہوتی ہیں اور عصری حالات پر قلم بند کالموں میں بھی سماجی، سیاسی ، معاشرتی اور اخلاقی اقدار میں زوال کے تئیں فکر مندی کے ساتھ ساتھ تخلیقی بصیرت بھی نظر آتی ہے۔ نثر کے ساتھ ساتھ شاعری کی مروج اصناف مثلاً غزل، نظم، آزاد نظم اور نثری نظم سے بھی انہیں خاصا لگائو ہے۔البتہ حالیہ دنوں میں تحقیقی اور تنقیدی مضامین اور صحافت پر زیادہ توجہ رہی ہے ۔ان کی شعری تخلیقات میں تغیرِ زمانہ بالخصوص متغیر سماجی رویّوں کی بازگشت سنائی دیتی ہے ۔جدید نظم میں ہیئتی تجربے کے لئے بھی ان کی نظمیں خصوصی توجہ کی حامل رہی ہیں ۔
اس وقت میرے پیشِ نظر ان کا مجموعۂ کلام ’’آئینہ حیران ہے ‘‘ ہے جو تیس نظموں پر مشتمل ہے۔ مشمولہ تمام نظمیں کورونا اور لاک ڈائون کے عرصے کی تخلیقات ہیں۔کورونا کی وباء کے بعد معاشرے میں جس طرح کے سماجی اور سیاسی جبر کے مضر اثرات نمایاں ہوئے ہیں وہ شاعر کی شعری حسّیات کا حصہ بن گیا ہے۔چوں کہ شاعر کا معاشرتی ادراک بہت گہرا ہے اور انہیںشعری اظہار پر قدرت حاصل ہے اسی لئے بیشتر نظمیں کورونا سے وابستہ مسائل ومباحث کی مظہر بن گئی ہیں ۔
ہم اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ ارد و ادب میں دورِ آغاز سے ہی غزلیہ شاعری کو فروغ حاصل رہا ہے اور عصرِ حاضر میں بھی غزل گوئی کی طرف ہی زیادہ توجہ دی جا رہی ہے ۔ نظم نگاری کی اپنی ادبی اہمیت مسلّم ہے۔ اس لئے محمد حسین آزاد اور الطاف حسین حالیؔ نے غزل گوئی کے ساتھ ساتھ نظمیہ شاعری کو فروغ دینے کی بھی وکالت کی اور آج اردو شاعری میں نظمیہ شاعری بیش بہاخزانے کی حیثیت رکھتی ہے ۔ سرسید تحریک کے بعد اردو میں جدید فکر وشعور کا چراغ روشن ہوا اور پھر ترقی پسند تحریک نے تو شاعری کی دنیا ہی بدل دی ۔اس تحریک میں خاص کر نظم نگاری کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہوئی ۔ترقی پسند شعرا نے فنّی تصور کے لحاظ سے اس میں بیشمار تجربے بھی کئے اس کے بعد حلقۂ اربابِ ذوق سے وابستہ شعراء نے نظم نگاری کو جدید جمالیاتی حسّیات کا آئینہ بنانے کی کامیاب کوشش کی ۔جدیدیت کی فضا میں نئی نظم کو مزید پھلنے پھولنے کا موقع ملااور بعد کے دنوں میں بھی فن اورتکنیک کے لحاظ سے نظم میں کئی مثبت تجربے ہوتے رہے ہیں ۔ معاصر نظم نگاروں میں ڈاکٹر مشتاق احمد بہ ایں معنی اپنی منفرد شناخت رکھتے ہیں کہ انہوں نے اپنی نظموں میں ایک مخصوص تنظیمی تاثر قائم رکھنے کی شعوری کوشش کی ہے ۔ ڈاکٹر احمد ایک ہمہ جہت فکر ونظر کے تخلیق کار ہیں ، ایک حساّس فنکار اور باخبر قلم کار ہیں ۔انسانی نفسیات اور معاشرتی تغیرات پر ان کی گہری نظر ہے۔ ا س لئے ان کی نظموں میں انسان کے اندرونی کرب اور ذہنی انتشار کا امتزاج دکھائی دیتا ہے۔ ان کی نظمیں مختصر کینوس کی ہوتی ہیں مگر موضوعی تنوع کے اعتبار سے مخصوص طرزِ اسلوب اور وسیع المعانی ہوتی ہیں ۔ چوں کہ ان کی نظمیں انسانی زندگی کے مختلف النوع مسائل پر مبنی ہوتی ہیں اس لئے سامع اور قاری کے ذہن ودل پر گہرا نقش چھوڑتی ہیں۔انہوں نے نظم نگاری میں کئی حیرت انگیز تجربے بھی کئے ہیں اور اس صنف کو مخصوص تصور معنی سے آشنا کیا ہے۔ ان کے یہاں علامت شعری حسن بن جاتاہے کہ علامت قاری کو ذہنی ورزش کے لئے مجبور نہیں کرتا ۔ چوں کہ ان کی نظموں کا موضوع زندگی اور سماج ہے اس لئے قاری کو ہر ایک نظم اپنی زندگی سے قریب معلوم ہوتی ہے۔
غرض کہ ڈاکٹر مشتاق احمد کی نظمیہ شاعری میں وہ ساری خوبیاں موجود ہیں جو شاعری کو معنوی گہرائی وگیرائی سے ہم کنار کرتی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی نظموں کی قرأت کے وقت کسی طرح کی اُکتاہٹ کا احساس نہیں ہوتا ۔ نظم آغاز تا انجام ایک ربط وتسلسل کے ساتھ فطری بہائو میں آگے بڑھتی ہے ۔ ڈاکٹر احمد الفاظ کے دروبست ، اظہارِ اسلوب اور موزونیت کا خاص خیال رکھتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی نظموں میں ایک مربوط مطلوبہ تاثر قائم رہتا ہے۔اب ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس مجموعۂ کلام ’’آئینہ حیران ہے ‘‘ کی چند نظموں کی قرأت کا جواز فراہم کیا جائے تاکہ آپ قارئین خود بھی یہ فیصلہ کر سکیں کہ ڈاکٹر احمد کی نظموں کی موضوعی خصوصیات کیا ہیں ۔ واضح ہو کہ اس مجموعہ کلام کی تمام نظمیں کورونا کے بعد لاک ڈائون کے نفاذ کے عرصے کی ہیں اور شاعر بذاتِ خود اس لاک ڈائون کی اذیت ناک زندگی سے گذرے ہیں ۔ اس لئے فطری اعتبار سے بیشتر نظموںکے موضوعات کورونا سے وابستہ مسائل ہیں۔نظم ’’روشن اندھیرا‘‘ ملاحظہ کیجئے ؎
دوپہر کی دھوپ ہے
تا حدِ نظر
کوئی سایۂ دیوار نہیں
شعلوں پہ رواں دواں ہے
ہمارا قافلہ در قافلہ
ہماری جلتی بجھتی آنکھوں میں
سب اپنے ہیں کوئی اغیار نہیں
کہ ہماری آنکھوں پر نہیں ہے
کوئی چشمۂ وقت
ہم محنت کشوں کو معلوم ہے
اپنی صدیوں کی کہانی
جہانِ نو کی رونق ہم سے ہے مگر
یہاں ہمارے لہو سے گراں ہے پانی
پھر بھی دیکھو
رواں دواں ہے ہمارا قافلہ
کہ ہمیں معلوم ہے
یہ اندھیرا ہمارا مقدر نہیں ہے
ہم تری روشنی کے مارے ہوئے ہیں
ہمیں غم نہیں ہے کہ
دربدر اشکبار ہیں ہم
پھر بھی نداردِ اخبار ہیں ہم
تاریخ ہمیں صدا دے رہی ہے
چلتے رہنے کا حوصلہ دے رہی ہے
کہ جب بھی ہم پر ظلم وستم ڈھائے گئے ہیں
شاہِ زماں صفحۂ قرطاس سے مٹائے گئے ہیں
اندھیرا ہمارا مقدر نہیں ہے
ہم تری روشنی کے مارے ہوئے ہیں !
مذکورہ نظم میں سیاسی جبر اور زندگی کا تموج شعری پیکر اختیار کرگیا ہے ۔ انہوں نے اپنے محسوسات اور مشاہدات کو فنّی چابکدستی کے ساتھ شعری نظام میں سمو دیا ہے ۔اسی قبیل کی ایک دوسری نظم ’’نجات‘‘ ہے ۔ غور کیجئے ؎
اب ڈور بیل نہیں بجتی
مجھے بھی کسی کا انتظار نہیں
میں بار بار گھڑی نہیں دیکھتا
کہ کوئی منتظر ہوگامیرا
کسی کی شکایت کا اندیشہ بھی نہیں
میرے وہم وگماں میں بھی نہیں تھا
کہ کبھی دیر وحرم میں
ایک جیسی ویرانی ہوگی
کہ انہیں ہی آباد کرنے کی خاطر
خاک ہوئی ہیں نہ جانے کتنی بستیاں
اب سڑکوں پرکوئی مقابلہ نہیں
ایک دوسرے کو دیکھ لینے کی دھمکی بھی نہیں
اب دفتر سے کال کرنے کی ضرورت نہیں رہی
کہ ٹفن باکس چھوڑ آیا ہوں
اب دیر شام لوٹنے کی شکایت بھی نہیں
کہ دہلیز پر چراغ نہیں جلتے
مگر لفظ تصورِ جاناں
بے معنی ہوگیا ہے
تنہائی بھی آنکھ چرانے لگی ہے
کہ ہر طرف اداسیوں کا ڈیرہ ہے
میں منتظر ہوں صبحِ نو کا
کہ نئی کرن اک نیا پیغام لے کر آئے گی
زندگی کے لئے اک نیا انعام لے کر آئے گی
میں منتظر ہوں صبحِ نو کا
کہ اب تنہائی بھی آنکھ چرانے لگی ہے
لفظ تصورِ جاناں بے معنی ہوگیا ہے !
اس نظم میں قنوطیت پر رجائیت کو ترجیح دی گئی ہے اور تاریکی میں بھی امید کی سنہری کرن نظر آرہی ہے۔نظم ’’صدائے خانہ بدوش‘‘ میں شاعر نے ان مزدوروں کی حالتِ زار کو شعری پیکر میں ڈھالا ہے کہ جو کورونا کی وباسے کہیں زیادہ سیاسی جبر واستبداد کے شکار ہوئے ہیں ۔یہاں بھی شاعر عملی خیر کے تصور کے ساتھ زندگی کی تلخیوں سے خائف نہیں ہے بلکہ حوصلۂ حیات کی تبلیغ نظر آتی ہے۔ نظم ملاحظہ کیجئے ؎
میں چل رہا ہوں
مسلسل چل رہا ہوں
یہ سنگِ میل ہے بے معنی
مرے لئے
کہ میری کوئی منزل نہیں
سفر در سفر مرا مقدر ہے
صبح وشام کچھ حاصل نہیں
مگر
پھر بھی ، زباں پہ مری
کوئی حرفِ شکایت نہیں
کہ اے دنیا
تواک تماشا ہے
اور میں تماشائی
میں چل رہا ہوں
مسلسل چل رہا ہوں
یہ سنگِ میل بے معنی ہے
میرے لئے
میں چل رہا ہوں
مسلسل چل رہا ہوں !
ڈاکٹر مشتاق احمد ایک سادہ اسلوب پسند تخلیق کار ہیں ۔ اس لئے ان کی نظموں میں شدتِ جذبات اور تخیلِ مشاہدات کے اظہار میں بھی سادہ بیانی حسن کی حیثیت اختیار کرجاتی ہے۔ایک مختصر نظم ’’کٹھ پُتلی ‘‘ ہے ۔ اس نظم کا سیاق وسباق سیاسی ہے۔ مگر پہلی قرأت میں قاری کو یہ احساس ہی نہیں ہوتا ہے مگر وہ جیسے ہی ذرا ٹھہر کر دوبارہ قرأت کرتا ہے تو معنی کا سمندر ٹھاٹھیں مارنے لگتا ہے کہ کس طرح آج کی سیاست نے انسانی معاشرے کو اپنی انگلیو ں پر ناچنے پر مجبور کردیاہے۔نظم کی قرأت کریں اور خود اس نظم کی معنوی تہہ داری سے محظوظ ہوں ؎
ناچ ، ناچ،تو ناچ
ہر رنگ میں ناچ
کہ تری ڈور
مرے ہاتھوں میں ہے
ناچ تو ہر رنگ میں ناچ
کہ ناچنا ترا مقدر ہے
تجھے معلوم نہیں
مری مشاقی کا راز
برس، دو برس نہیں
اک صدی کا ثمرہ ہے
کوچہ در کوچہ
صحرا بہ صحرا
کوئی بھی موسم ہو
مرے پائوں چلتے رہے ہیں
ہمسفر بدلتے رہے ہیں
ناچ ، ناچ، ہر رنگ میں ناچ
کہ ناچنا ترا مقدرہے
مجھے آتی ہے بھانت بھانت کی بولی
ایک دو نہیں ، ہزاروں ہے مری ٹولی
وہ دن تو گئے کب کے
جب مرے ہاتھوں میں تھی جھولی
ہاں!سچ ہے
تیری بدولت میں بنا ہوں جہانگیر
مگر ترے ہاتھوں میں اب نہیں میری تقدیر
ناچ ، ناچ ،تو ہر رنگ میں ناچ
کہ ناچنا ترا مقدرہے
اب کون دوسرا سکندر ہے !
ڈاکٹر احمد شاعری کو زندگی کی عام صورتحال کی عکاسی کا تخلیقی اظہار سمجھتے ہیں۔نتیجتاً ان کی شاعری اجتماعی شعور کی عکاس بن گئی ہے۔نظم ’’وقت‘‘ اس کی ایک نادر مثال ہے ۔ ملاحظہ کیجئے ؎
مری نگاہوں میں ہے نمرود کی خدائی
میں نے دیکھی ہے فرعون کی پسپائی
دیکھا ہے میں نے شدّاد کا زمانہ
مجھے ازبرہے سکندر کا فسانہ
خوفوؔ کا پیرامیڈ، فرائو ؔکا ایوانِ مسرت
میرے سینے میں دفن ہے
عہدِ مہان کی حقیقت
میں نے دیکھی ہے
لوئی ؔ اور ژارؔ کی دربدری
شامِ ظفرؔ کا بھی میں شاہد ہوں
میں نے دیکھا ہے
ہٹلرؔونپولینؔ کا انجام
اس کے بھی پائوں اکھڑتے دیکھے ہیں
جس نے تھام رکھا تھا
غروبِ آفتاب کو اپنے ہاتھوں میں
صدام ؔ وقذافیؔ کا رازداں ہوں میں
میں نے سوا نیزے پہ سورج کو دیکھا ہے
میں نے شفق کی لالی بھی دیکھی ہے
میں دیکھ رہا ہوں تجھ کو بھی
کہ میں وقت ہوں
میں چشم دید شاہد ہوں
لمحہ بہ لمحہ کا
مجھے کب نیند سلاتی ہے
میں تو کہی ، انکہی سب کو سناتا ہوں
حرف کی صورت
اوراقِ تاریخ پر بکھر جاتا ہوں
وقت ہوں ، میں وقت ہوں !
مذکورہ نظم میں شاعر کا تصورِ حیات بالکل واضح ہے۔ شاعر کا دل جذبۂ انسانیت کی دھڑکنوں سے لبریز ہے ۔ وہ سماج کے تلخ حقائق کو شعوری طورپر شعری اظہار کا وسیلہ بناتے ہیں ۔ ظاہر ہے کہ شاعر وادیب کا یہ اولین فریضہ ہوتا ہے کہ وہ حقیقت اور واقعیت کے لئے تخلیقی اظہار میں کسی ازم ، ذہنی تعصب اور مصلحت پسندی کا شکار نہ ہو بلکہ اس کے ذہن ودل پر اردگرد کے ماحول سے جو اثرات مرتب ہوتے ہیں اسے اپنی تخلیقیت اور فنّی مہارت کے ساتھ بروئے کار لائے ہیں۔اگر تخلیق کار محدود ذہنیت کا ہے اور سطحی تخلیقی ادراک رکھتا ہے تو وہ کشمکشِ حیات کی حقیقی تصویر پیش نہیں کر سکتا۔
ڈاکٹر مشتاق احمد کی شاعری کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ ان کا تصورِ زیست اور تصورِ فن دونوں واضح صورت میں تخلیقی پیرہن اختیار کرتا ہے ۔ان کے یہاں زندگی کا ایک خاص شعور، ایک خاص ادراک اور ایک خاص نقطۂ نظر سامنے آتا ہے۔اگر کہیں احتجاج بھی ہے تو وہ بھی ایک خاص شعور کے ساتھ شعری اظہار کا حصہ بنا ہے۔ دراصل وہ زندگی کی کشمکش سے صرف نظری وابستگی نہیں رکھتے بلکہ عملی جدوجہد کے آرزو مند بھی ہیں ۔اب آخر میں ایک خالص فلسفیانہ اور لسانی سیاق وسباق کی نظم ’’شناخت‘‘ پیش کرکے اپنی گفتگو ختم کرتا ہوں کہ اس مختصر مضمون میں مشمولہ تمام نظموں کا تنقیدی جائزہ پیش کرنا ممکن نہیں ہے ۔ نظم ’’شناخت‘‘ ملاحظہ کیجئے ؎
لفظ ہوں
میں لفظ ہوں
حروف ہیں میری حیات کے ضامن
الفاظ ہیں میرے قبیلے
اور یہ جملے بستیاں
معنیٰ ہے میرا پیراہن
یہ شاعری ، یہ قصے اور کہانیاں
یہ تحریروتقریر کی لذتیں
یہ نسخۂ آخر اور تفسیر کی عظمتیں
میرے وجود سے ہے روشن
یہ جہانِ قرطاس
مگر
تمہارے سوال سے ہوں محوِ یاس
کہ
تم میرا حسب ونسب پوچھتے ہو
کہاں سے آیا ہوں اور کب پوچھتے ہو
تمہیں معلوم نہیں
غارِ حرا میر ا مولد ومسکن
آباء میرے کن فیکون
لفظ ہوں
میں لفظ ہوں
حروف میری حیات کے ضامن
معنیٰ ہے میرا پیراہن
لفظ ہوں
میں لفظ ہوں
ہم سب اس حقیقت سے واقف ہیں کہ یونان میں ایک زمانے تک یہ بحث چلتی رہی کہ شاعری کا مقصد اصلاح ہے یا محض انبساط۔افلاطونؔ نے تو شاعر کو جادوگر کہہ کر اس کی عظمت پر ہی سوالیہ نشان لگا دیا تھا۔ لیکن ہوریسؔ نے شاعری کی اہمیت وافادیت کا اعتراف کرتے ہوئے کہا تھا کہ شاعری کا مقصد ذہنی انبساط بھی ہے اور اخلاقی اصلاح بھی ۔مجھے یہ کہنے میں کوئی جھجھک نہیں ہے کہ ’’آئینہ حیران ہے ‘‘ کی نظمیں سامعین وقارئین کے لئے ذہنی انبساط کا سامان بھی فراہم کرتی ہیں اور غوروفکر کی کائنات سے بھی آشنا کراتی ہیں ۔ مشمولہ تمام نظمیں موضوعی اور فنّی دونوں اعتبار سے فطری خصوصیات کی حامل ہیں اور یہ وصف شاعر کی انفرادیت کو استحکام بخشتا ہے ۔

٭٭

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*