اگر آپ سال میں صرف ایک کتاب پڑھتے ہیں،تو یہ پڑھیے!۔ یاسر پیرزادہ

دنیا میں دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں، ایک وہ جو کتابیں پڑھتے ہیں اور دوسر ے جو کتابیں نہیں پڑھتے۔ بقول شخصے جو بندہ کتابیں نہیں پڑھتا اُس میں اور کسی اَن پڑھ شخص میں زیادہ فرق نہیں۔ تاہم کتابیں پڑھنے والوں کی بھی آگے سے دو اقسام ہیں، پہلی قسم وہ ہے جو بڑے شوق سے کتابیں خریدتے ہیں، انھیں میز پر سجا کر رکھتے ہیں، احتیاط سے ورق الٹ کر دو چار صفحے پڑھتے ہیں اور پھر واپس رکھ کر بھول جاتے ہیں لیکن کسی محفل میں کوئی اُس کتاب کے بارے میں پوچھے تو پورے اعتماد کے ساتھ کہتے ہیں کہ انھوں نے وہ کتاب پڑھ رکھی ہے۔ دوسری قسم کے لوگ وہ ہیں جو پوری کتاب نہ صرف پڑھتے ہیں ؛بلکہ اسے گھول کر پی جاتے ہیں۔

ایسے لوگوں پر مجھے ہمیشہ رشک آتا ہے۔ اسی قبیل کے ایک شخص نے گزشتہ دنوں مجھے اپنی ایک کتاب بھیجی۔ میں نے یہ کتاب اٹھائی، پڑھنا شروع کیا اور حیران رہ گیا۔ کتاب کا نام تھا ’’انسانی تہذیب کے معمار‘‘۔ یہ کتاب امریکی لکھاری ول ڈیوراں کی گیارہ جلدوں پر مشتمل عظیم الشان سیریز ’’دی اسٹوری آف سویلائزیشن‘‘ کا ’جوہر‘ ہے۔ جوہر کیسے ہے؟ یہ بات مزید حیران کُن ہے۔

ول ڈیوراں نے 14ہزار صفحات پر مشتمل یہ کتاب 50برس کی محنتِ شاقہ کے بعد مکمل کی جس میں انھوں نے 110صدیوں پر پھیلی ہوئی تاریخ کا احاطہ کیا۔ بعد ازاں ول ڈیوراں نے اِس کتاب کی تلخیص کرتے ہوئے ’’ہیروز آف ہسٹری ‘‘ لکھی، مگر اُسے مکمل نہ کر سکے، ہیروز آف ہسٹری شیکسپیئر اور فرانسس بیکن تک جا کر رُک جاتی ہے۔

اب ضرورت اِس بات کی تھی کہ خدا کا کوئی بندہ ول ڈیوراں کے اِس کام کو مکمل کرتا اور اسٹوری آف سویلائزیشن کے 14ہزار صفحات پڑھ کر اُن کا سَت نکالتا اور شیکسپیئر سے آگے کی تاریخ کو ہیروز آف ہسٹری کی طرز پر مکمل کرتا۔

عام طور سے اِس قسم کے جناتی نوعیت کے کام کسی ادارے کے سپرد کیے جاتے ہیں، جہاں درجنوں لوگوں کو بھرتی کرکے تلخیص اور ترجمے کی ذمہ داری سونپی جاتی ہے، فنڈز اور وسائل مہیا کیے جاتے ہیں اور پھر کوئی ایک شخص پوری کتاب مرتب کرکے سرورق پر اپنا نام لکھوا کر امر ہو جاتا ہے، مگر میں سر دست جس کام کا ذکر کر رہا ہوں وہ کام ایک پاکستانی لکھاری نے مکمل کیا ہے۔ اِس مردِ عاقل نے اسٹور ی آف سویلائززیشن کی 11جلدیں پڑھیں اور پھر اُن ابواب کا ترجمہ اور تلخیص کی جو ابواب ہیروز آف ہسٹری کے لئے ول ڈیوراں نہیں لکھ پائے تھے۔ ایک لحاظ سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ول ڈیوراں کا چھوڑا ہوا تقریباً دو تہائی کام اِس مردِ حُر نے اکیلے پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ ایسے شخص کو انگریز ی میں ’ون مین آرمی‘ کہتے ہیں، ویسے آج کل یہ جملہ کہتے ہوئے ڈر ہی لگتا ہے، نہ جانے کب کس شق کی خلاف ورزی ہو جائے اور ان جانے میں کسی کا وقار مجروح ہو جائے۔ میرا خیال ہے کہ مزید سسپنس سے کام لینے کی بجائے میں آپ کو اِس مترجم کا نام بتا دوں، یہ شخص میرا ہم نام ہے، یاسر جواد۔

بڑے لکھاری کی ایک نشانی یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ عاجز ہوتا ہے اور بڑھ چڑھ کر اپنی علمیت کا رعب نہیں جھاڑتا، یاسر جواد میں یہ دونوں خوبیاں موجود ہیں۔ اپنی کتاب ’انسانی تہذیب کے معمار‘ میں موصوف نے بےحد کسرِ نفسی سے کام لیا ہے اور یہ پتا ہی نہیں چلنے دیا کہ کس طرح انھوں نے ول ڈیوراں کا ادھورا کام مکمل کیا ہے۔

یہ کتاب اسٹوری آف سویلائزیشن کا تلخیص و ترجمہ نہیں ہے، بلکہ اُس کا جوہر ہے اور وہ یوں کہ یاسر جواد نے ’کہیں ایک بھی جملہ اپنی طرف سے ایزاد نہیں کیا‘ بلکہ ول ڈیوراں کے لکھے ہوئے ابواب میں سے ’صرف اُن حصوں کو لیا ہے جو شخصیت، کردار، روح عصر سے تعلق اور اثرات کو بیان کرتے ہیں‘۔

اگر آپ کو لگ رہا ہے کہ میں یاسر جواد کی تعریف میں مبالغے سے کام لے رہا ہوں تو جواب میں فقط اتنا عرض کروں گا کہ یاسر جواد اب تک سائنس، فلسفہ، الیہات، تاریخ، مذاہب اور نفسیات کے موضوع پر 130سے زائد کتب کا ترجمہ کر چکے ہیں۔ اِس تعارف کے حامل شخص کے بارے میں بھلا کیا مبالغہ آرائی کی جا سکتی ہے!

اِس کتاب پر البتہ مجھے ایک اعتراض ضرور ہے کہ ترجمہ کرتے وقت یاسر جواد اصل متن، زبان اور لکھاری کے اسلوب میں کچھ زیادہ ہی ڈوب گئے ہیں جس سے ترجمہ کچھ بوجھل ہو گیا ہے اور تحریر کی روانی متاثر ہوئی ہے لیکن یہ مترجم کی اپنی مرضی ہوتی ہے کہ وہ ترجمے کا یہ طریقہ اپنائے یا دوسرا طریقہ جس میں اصل زبان کی بجائے مترجم اپنی زبان کو فوقیت دیتا ہے اور یوں پڑھتے وقت قاری کو تحریر میں اجنبیت محسوس نہیں ہوتی۔

اِس کتاب میں ترجمے کے پہلے طریقہ کار کو اپنانے میں یاسر جواد کی مجبوری غالباً یہ تھی کہ وہ ول ڈیوراں کے اندازِ تحریر اور اُس کے استعمال کردہ الفاظ و تراکیب کو من و عن قاری کے سامنے پیش کرنا چاہتے تھے تاکہ یہ کتاب ول ڈیوراں ہی کی لکھی ہوئی لگے نا کہ مترجم کی۔

ول ڈیوراں مغربی فلسفے اور ادب سے بےحد متاثر تھا، گو کہ اُس کی کتابوں میں مشرقی فلاسفہ کا ذکر بھی ملتا ہے مگر ایسے کہ حافظ شیرازی کے بارے میں چار پانچ صفحے اور دوسر ی طرف والٹئیر اور نپولین کے لئے ہزار صفحات لیکن اسی ول ڈیوراں نے اسٹوری آف سویلائزیشن میں رسول اللہﷺ کو جن الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا وہ قابلِ غور ہے، لکھتا ہے:’’اگر ہم تاریخ پر اثرات کے حوالے سے تجزیہ کریں تو آپﷺ کا کوئی ثانی نہیں۔

آپﷺ نے جاہلیت کی دلدل میں دھنسے ہوئے لوگوں کو روحانی اور اخلاقی رفعت سے ہم کنار کیا، اور کسی بھی دوسرے مصلح یا پیغمبر کی نسبت کہیں زیادہ کامیاب رہے۔ تاریخِ انسانی کا شاید ہی کوئی اور آدمی کبھی اپنے خوابوں کو اِس قدر بھرپور انداز میں تعبیر دے سکا‘‘۔ ول ڈیوراں جیسے مغربی تہذیب کے دلدادہ لکھاری کے رسول اللہﷺ کے بارے میں یہ الفاظ شاید کبھی ہمارے سامنے نہ آ پاتے اگر انسانی تہذیب کے معمار جیسی کتاب اردو میں شائع نہ ہوتی۔ ول ڈیوراں نے اپنی کتاب کو مختلف ادوار میں تقسیم کرکے لکھا تھا جبکہ یاسر جواد نے اسے شخصیات کے سن پیدائش کے حساب سے ترتیب دیا ہے۔

ہم میں سے شاید کوئی بھی 14ہزار صفحات والی کتاب نہیں پڑھ سکتا، یاسر جواد نے ہمارے لیے نہ صرف یہ کام کیا؛ بلکہ پھر اُس کا کلیجہ بھی نکال کر رکھ دیا۔ اگر آپ اِس سال کوئی ایک کتاب پڑھنا چاہتے ہیں تو بس یہ پڑھ لیں، یہ سو کتابوں پر بھاری ہے۔