Home بین الاقوامی خبریں اگر چین ایل اے سی کی خلاف ورزی کرتا ہے، تو روس کام نہیں آئے گا: امریکہ

اگر چین ایل اے سی کی خلاف ورزی کرتا ہے، تو روس کام نہیں آئے گا: امریکہ

by قندیل

واشنگٹن:اس سے قبل کہ روسی وزیر خارجہ دہلی پہنچتے، امریکہ نے چین اور روس کے تعلقات کے بارے میں بھارت کو متنبہ کیا۔ اس کا کہنا ہے کہ جو بھی روس پر عائد پابندیوں کی خلاف ورزی کرے گا اسے اس کے ‘نتائج’ بھگتنے پڑیں گے۔روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے نئی دہلی پہنچنے سے چند گھنٹے پہلے ہی امریکہ کے نائب قومی سلامتی کے مشیر دلیپ سنگھ نے کہا کہ ان ممالک کو نتائج بھگتنے پڑیں گے جو روس پر عائد پابندیوں کو فعال طریقے سے بے اثر کرنے کی سرگرمیوں میں ملوث ہوں گے۔روسی وزیر خارجہ کے کی آمد سے قبل ہی امریکہ کے نائب قومی سلامتی کے مشیر دلیپ سنگھ نئی دہلی پہنچے تھے اور مودی حکومت کے سینیئر حکام سے ملاقات کی۔ اس موقع پر انہوں نے چین اور روس کے تعلقات کے بارے میں بھارت کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ نئی دہلی کے لیے اس کے مضمرات ہوں گے۔ان کا کہنا تھا کہ کسی کو بھی غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہیے کہ روس اور چین کے تعلقات میں، ماسکو ایک جونیئر پارٹنر بننے جا رہا ہے۔ اور چین روس کو جتنا زیادہ اپنے مفاد کے لیے ہموار کرتا ہے، بھارت کے لیے روس اتنا ہی کم سازگار ثابت ہو گا۔انہوں نے مزید کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ کوئی اس بات پر بھی یقین کرے گا کہ اگر چین نے ایک بار پھر سے لائن آف ایکچوئل کنٹرول کی خلاف ورزی کی تو بھارت کے دفاع میں روس دوڑتے ہوئے آئے گا۔امریکہ کے نائب قومی سلامتی کے مشیر دلیپ سنگھ نے کہا کہ اور یہی وہ تناظر ہے جس میں ہم یہ چاہتے ہیں کہ دنیا بھر کی جمہوریتیں اور خاص طور پر، کواڈ ایک ساتھ جمع ہوں اور اپنے مشترکہ مفادات پر بات کرنے کے ساتھ ہی، یوکرین میں ہونے والی پیش رفت اور اس کے اثرات کے بارے میں مشترکہ طور پر خدشات کا اظہار کریں۔دلیپ سنگھ ایک بھارتی نژاد امریکی اہلکار ہیں، جنہوں نے صدر ولادیمیر پوٹن اور لاوروف سمیت سرکردہ روسی شخصیات کے خلاف امریکی پابندیوں میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ روس نے بھی رد عمل کے طور پر امریکی عہدیدار دلیپ سنگھ پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ادھر روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف جمعرات کی شام کو بیجنگ سے دہلی پہنچے اور جمعے کے روز وزیر خارجہ ایس جے شنکر سمیت کئی سینئر حکام سے بات چیت کی۔ برطانوی وزیر خارجہ لز ٹرس بھی جمعرات کی علی الصبح دہلی پہنچی تھیں اور گزشتہ روز انہوں نے بھی اپنے بھارتی ہم منصب سے بات چیت کی تھی۔امریکی اہلکار کا کہنا تھا کہ بھارت فی الوقت روسی توانائی کی درآمد سے کسی بھی پابندی کی خلاف ورزی نہیں کرتا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ہم کسی کو بھی اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہیں گے کہ پابندیوں کے نظام میں ہمارے اسٹریٹجک مقاصد کیخلاف مختلف مقاصد کے لیے توانائی کی سپلائی میں تیزی سے اضافہ کر دے۔جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ کیا امریکہ روسی ساخت کے ایس 400 میزائل لینے کے لیے بھارت کے خلاف پابندی عائد کر سکتا ہے، تو انہوں نے بڑس سفارتی انداز میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ نجی بات چیت کا موضوع ہے، میں اسے شیئر نہیں کروں گا، مخصوص لین دین اور بعض مفروضوں سے متعلق بات چیت کو میں پرائیویٹ زمرے میں رکھتا ہوں۔ بھارت کو ہتھیاروں اور دیگر اسٹریٹیجک اشیاء کا روس ایک بڑا سپلائر ہے۔

You may also like

Leave a Comment